یہ کتاب ناموری کے کسی جذبے یا فکری برتری کے زعم میں مبتلا ہوکر نہیں لکھی۔ یہ اس احساس کے تحت لکھی گئی ہے کہ پاکستان کا وجود اُس درخت کی مانند سوکھ رہا ہے جس کی جڑوں پر جلد یا بدیر کلہاڑا رکھ دیا جاتا ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ قومی انحطاط کے اس عمل کو روکنا کسی فرد واحد کے بس کی بات نہیں۔ اس لیے اپنے وجود کی پوری قوت کے ساتھ ہم نے سوچنے والے اذہان اور صاحبان درد کو دعوت فکر دی ہے۔