سرد جنگ، پلاسٹک کے چپل..مسلمان اور کافر..


ماما عبدالخالق پرانی انگریزی فلموں کے اس ولن سے بالکل ملتے جلتے جس کی ایک آنکه پر کالی پٹی هوتی تهی اور ایک ٹانگ لنگڑی..وه تو صرف کردار نبهانے کے لیے ایسا بهیس بدلتے تهے جبکہ ماما حقیقت میں وهی تهے. پہلے افغان جنگ کے کمانڈر ره چکے تهے..ٹانگ بارودی سرنگ کها گئی جبکہ آنکه میں روسی فوجی کی گولی لگی تهی. ماما کمانڈر رهنے کے باوجود سرد جنگ کی آهیں بهرتے تهے.

سرد جنگ کے زمانے میں جہاں باقی من و سلوی آتے تهے وهاں امریکہ بہادر سے ایک عجیب و غریب سفید تلوے والے چپل آتے تهے جس کو افغان( کرپ سول) چپل کہتے تهے. کرپ سول میں اور تو کوئی خاص بات نہیں تهی سوائے اس کے، کہ چلتے هوے ایک عجیب قسم کی چرچراهٹ کی آواز آتی تهی. جو لوگ افغان مزاج سے واقف هیں. خصوصا قندهار کے افغانوں سے، وه سمجه سکتے هیں کہ ان کی چال میں ایک خاص دهمک هوتی هے اور اس دهمک کے ساته کرپ سول کی آواز ان کی چال اور دوبالا کر دیتی تهی.

سرد جنگ میں کرپ سول کی تقسیم ماما کے هاتهوں هوتی تهی..اور اس کرپ سول نے ماما کو ایک عام آدمی سے گرم جنگ کا کمانڈر بنا دیا تها.
طالبان کے زوال تک ماما کے گهر میں کرپ سول کی کثیر مقدار پائی جاتی تهی. لیکن افسوس کی بات یہ تهی کہ ماما کے کام کی صرف ایک چپل هوتی تهی کہ دوسری ٹانگ تو تهی نہیں..لیکن وه دوسری بهی ضائع نہیں هوتی تهی کہ افغانوں میں ایک ٹانگ والوں کی کوئی کمی نہیں تهی.

ماما جب بهی افغانستان کے حالات پر تبصره کرتے تو ان کا آخری جملہ یہ هوتا تها.
" هائے. وه سرد جنگ اور پلاسٹک کے چپل کا زمانہ بہت اچها تها. یہ تو پتہ چلتا تها کہ کون مسلمان هے کون کافر"

ماما کی بات مجهے ایک همدم دیرینہ مولوی کریم صاحب تک یاد آئی. گاهے گاهے ان سے ملاقات هوتی هے. چونکہ شاعر بهی هیں اور سرگرم سیاست کے سرگرم رکن بهی. اس لیے گاهے گاهے بات چیت چلتی هے.
موضوع سخن اکثر و بیشتر طالبان هی هوتے هیں..مولوی صاحب افغان طالبان کے عقیدت کے درجے تک حامی هیں. اس لیے ان سے بات کرتے هوئے اپنی بات کو ایک باقاعده لفافہ پہنا کر پیش کرنا پڑتا هے.

عرض کیا...حضرت جی..
معاشرے میں اقدار اس کے اندر سے جنم لیتے هیں..اقدار کسی معاشرے پر مسلط نہیں کیے جا سکتے..هم بلا کے جغادری کمیونسٹ رهے هیں..لیکن روس کے انقلاب کو بهی وقت سے پہلے اور غلط سمجها اور ثور انقلاب کو بهی اجنبی جانا تها..افغان کمیونسٹ دوستوں سے جب بهی بات هوتی تو یہی کہا کہ افغان معاشرہ ابهی اس انقلاب کے لیے تیار نہیں تها. یہ آپ کا چهٹا فرمان اور آٹهواں فرمان افغانستان میں منہ کی کهائے گا.

لیکن ان کو نور محمد ترکئی اور حفیظ الله امین میں مارکس اور ٹراٹسکی نظر آتے تهے. اور پهر نہ نور محمد رها اور نہ امین. بلکہ یہ سارا معاشی رواداری کا نظام ڈاکٹر نجیب کے خاد کی پکڑ دهکڑ کی نظر هو گیا..

نظام اور مذهب سے محبت اور سر تسلیم خم والا رویہ اپنی جگہ..لیکن معاشرے میں اس کے اطلاق کا ایک وقت هوتا هے. پتهر کے زمانے کی تکالیف اپنی جگہ لیکن انسان آذاد تها. غلامی کے دور کی خوراک کی فروانی بہرحال اس میں نہیں تهی..اسی طرح غلامی کے دور میں پیٹ بهرنے کو روٹی تو میسر هو گئی لیکن انسان غلام هو گیا. اس غلامی سے نجات کے لیے انسان کو صدیاں لگیں.
معاشرے کے اندر احساس پر صدیاں بیت گئی اور انسان اس نتیجہ پر پہنچا کہ اب اس سے آذادی حاصل کرنا ناگزیر هے.
پهر صنعتی انقلاب اور آج کا جمہوری انقلاب...

.اس تدریجی عمل سے گزرے بغیر ممکن نہیں هے کہ آپ یہ توقع کریں کہ پتهر کے زمانے میں انسان جہاز کیوں نہیں بنا سکتا تها.. آخر اس کے پاس بهی تو عقل تهی؟

اسلام کا جو ماڈل آپ کے پیش نظر هے وه افغان معاشرے میں نہیں پنپ سکتا..بلکہ افغان کیا آج کے کسی معاشرے میں پنپ نہیں سکتا..

اس کے لیے آپ کو ریاست سے قوانین کے اطلاق سے پہلے معاشرے کو دعوت سے اهل ایمان بنانا پڑے گا. جب تک معاشرے میں مسلمانوں کا رویے سے ایمان کی خصوصیات ظاهر نہ هوں..حدود کا نفاذ معاشرے کو مسلمان نہیں کر سکتا.
الله کے حضور کامیابی کی سیڑهی ایمان هے. خلافت کا قیام نہیں....ایمان ریاست سے نہیں معاشرتی رویوں سے پروان چڑهتا هے..دین اپنی اساس میں مومن تیار کرتا هے.ایمان جب دل میں اترتا تو انسان پهر چوری اور زنا کو گناہ سمجه کر باز رهتا هے. جرم میں دست اندازی پولیس سمجه کر نہیں.

افغان معاشره یا مسلمانوں کا کوئی بهی معاشره سردست خلافت کا متحمل نہیں هو سکتا جب تک وعوت ان کے اندر ایمان پیدا نہ کردے.

آپ افغان معاشرے میں کیسے توقع کر بیٹهے هیں کہ ملا عمر، عمر ثالث بن سکتے هیں؟

سیاست کی ڈرامائی تشکیل اپنی جگہ..لیکن اس کے اندر کی حقیقت بہت تلخ هوتی هے.
پاکستان ایک آذاد اور خود مختار ریاست هے. ایک ایٹمی قوت هے. دنیا کی ایک بڑی فوج کا مالک هے. فوج، عدلیہ اور مقننہ کے ستون موجود هیں..جمہوریت موجود هے..اس وقت ایک بڑی سیاسی جماعت کو اکثریت حاصل هے...لیکن

لیکن آج بهی بجلی قیمت کوئی اور طے کرتا هے..گیس کی قیمت کوئی اور طے کرتا هے..

اس صورت حال میں آپ تصور کرتے هیں کہ افغانستان میں ملا عمر کامیاب هو گا؟
یا وه کسی کی مد د کے بغیر لڑ رها هے؟

مولوی صاحب نے کہا...لیکن پیغمبر نے بهی تو ریاست قائم کی تهی؟
عرض کیا..حضرت بات پیغمبر کی نہیں هے..بلکہ بات.......

ابهی میں مزید کچه کہنے هی لگا تها کہ مولوی صاحب نے داغ دیا...

نہیں بیضاء صاحب...آپ پیغمبر سے الرجی کیوں هیں....

میں نے استغفار پڑهی..اور بحث ختم هو گئی
ماما نے ٹهیک کہا تها..
وه سرد جنگ اور پلاسٹک کے چپل کا زمانہ بہت اچها تها. یہ تو پتہ چلتا تها کہ کون مسلمان هے کون کافر؟