[’’اسلام اور ریاست — ایک جوابی بیانیہ‘‘ پر تنقیدات کے جواب میں لکھا گیا۔]

اسلام اور جمہوریت، دونوں کا تقاضا ہے کہ پارلیمنٹ کے فیصلوں کے سامنے عملاً سر تسلیم خم کر دیا جائے۔ اِس کے معنی یہ ہیں اور سیاسی اقدار سے واقف ہر شخص یہی سمجھے گا کہ جو فیصلہ ہو جائے، اُس کے نفاذ میں رکاوٹ نہ پیدا کی جائے، اُس کے خلاف شورش نہ برپا کی جائے، کاروبار حکومت کو اُسی کے مطابق چلنے دیا جائے، اپنے حامیوں کے جتھے منظم کر کے اُن کے ذریعے سے نظم و نسق کو معطل کرنے کی کوشش نہ کی جائے، اُس کے خلاف ہتھیار نہ اٹھائے جائیں اور لوگوں کو آمادۂ بغاوت نہ کیا جائے، یہاں تک کہ اُس فیصلے کے نتیجے میں اگر حکومت کسی فرد کے خلاف کوئی اقدام کرتی ہے تو اُس کو بھی صبر کے ساتھ برداشت کر لیا جائے۔ میں جس ہستی کوخدا کا پیغمبر مانتا ہوں، اُس نے مجھے یہی ہدایت فرمائی ہے۔ آپ کا ارشاد ہے:

’’تم پر لازم ہے کہ سمع و طاعت کا رویہ اختیار کرو، چاہے تم تنگی میں ہو یا آسانی میں اور چاہے یہ رضا و رغبت کے ساتھ ہو یا بے دلی کے ساتھ اور اِس کے باوجود کہ تمھارا حق تمھیں نہ پہنچے۔‘‘ (مسلم، رقم ۴۷۵۴)

اِس میں صرف ایک استثنا ہے اور وہ یہ کہ مجھے خدا کی نافرمانی کا حکم دیا جائے۔ اِس صورت میں، البتہ میں اُس فیصلے کو عملاً بھی رد کر سکتا ہوں، بلکہ میرا فرض ہے کہ رد کر دوں۔

میری زندگی کا ایک ایک لمحہ گواہی دیتا ہے کہ میں نے ہمیشہ اِسی پر عمل کیا ہے اور اپنے احباب اور تلامذہ کو بھی ہمیشہ اِسی کی تلقین کی ہے۔ لیکن اِس طالب علم کی محرومی ہے کہ اِسے یہ بات کبھی معلوم نہ ہو سکی کہ پارلیمنٹ کے فیصلوں سے اختلاف کا اظہار اور جمہوری طریقوں سے اُن کو تبدیل کرانے کی کوشش بھی جرم ہے اور عملاً تسلیم کرنے کے ایک معنی یہ بھی ہوتے ہیں کہ علم و استدلال کو بھی پارلیمنٹ کے سامنے سر تسلیم خم کر دینا چاہیے اور پارلیمنٹ اگر خدا کے کسی حکم، کسی مسلمہ اخلاقی اصول اور کسی فطری قانون کے خلاف اور اپنے حق قانون سازی سے تجاوز کر کے بھی کوئی فیصلہ کر دے تو اُس سے اختلاف کی جسارت نہیں کرنی چاہیے۔

اِس میں طرفہ یہ ہے کہ یہ معنی میری ہی تحریر سے اور کمال دیانت اور پرہیزگاری کے ساتھ ٹھیک اُسی جملے سے غض بصر کر کے برآمد کر لیے گئے ہیں جو پوری صراحت کے ساتھ اِن کی نفی کر رہا تھا۔ میں نے لکھا تھا:

’’لوگوں کا حق ہے کہ پارلیمان کے فیصلوں پر تنقید کریں اور اُن کی غلطی واضح کرنے کی بھی کوشش کرتے رہیں، لیکن اُن کی خلاف ورزی اور اُن سے بغاوت کا حق کسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔‘‘

مجھے نہیں معلوم کہ جو شخص یہ کارنامہ انجام دے، اُس کے علم و فہم کو زیادہ داد دینی چاہیے یا سچائی اور دیانت کو۔ اِس وقت تو یہی عرض کر سکتا ہوں کہ: چہ خوش چرا نہ باشد۔

بہرحال، میں واضح کر رہا ہوں کہ پارلیمنٹ کے ہر فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم ہے، لیکن میرا جمہوری حق اور دینی فریضہ ہے کہ اُس میں اگر کوئی غلطی ہے یا کہیں حدود سے تجاوز ہو گیا ہے یا اُس سے کسی کی حق تلفی ہوئی ہے تو اُس پر دلائل کے ساتھ تنقید کروں۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میرے دین اور میری تہذیبی روایت کے بنیادی اصولوں میں سے ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ انصاف کی گواہی دیتے ہوئے، اللہ کے لیے کھڑے ہو جاؤ، اگرچہ یہ گواہی خود تمھاری ذات، تمھارے ماں باپ اور تمھارے قرابت مندوں کے خلاف ہی پڑے۔ ’اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ‘ کے اصول کا تقاضا صرف یہ ہے کہ فصل نزاعات کے لیے اکثریت کی راے کو عملاً فیصلہ کن مان لیا جائے۔ اِس کا ہرگز یہ تقاضا نہیں ہے کہ اُس راے کو صحیح بھی مانا جائے اور اُس کی غلطی لوگوں پر واضح کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ دنیا کے تمام دساتیر اور آئینی دستاویزات میں ترمیم کا حق اِسی لیے دیا جاتا ہے کہ اِ ن کی کوئی چیز صحیفۂ آسمانی نہیں ہوتی۔ اہل علم کا فرض ہے کہ برابر اِن کا جائزہ لیتے رہیں اور اگر کہیں کوئی غلطی ہو گئی ہے تو اُس کو درست کرانے کی جدوجہد کریں۔ اسلام اور اسلامی شریعت پر عمل کے لیے جو کچھ ریاست پاکستان میں حکومت کی سطح پر ہونا چاہیے تھا، وہ بدقسمتی سے ہوا نہیں اور جو کچھ ہوا ہے، وہ زیادہ تر بے معنی، بے بنیاد اور خود قرآن و سنت کی تصریحات کے خلاف ہے۔ میں یہ بات برسوں سے کہہ رہا ہوں اور اب بھی یہی کہی ہے۔ یہ اللہ اور اُس کے رسول اور تمام مسلمانوں کے ساتھ اُس نصح و خیرخواہی کا تقاضا ہے جس کی مجھے ہدایت کی گئی ہے۔ اِس سے کسی پاکستانی پر لرزہ طاری نہیں ہونا چاہیے، جس طرح کہ میرے ایک پرانے کرم فرما اور عزیز دوست کے بقول میری جسارت کے نتیجے میں پوری قوم پر طاری ہو گیا ہے۔

[۲۰۱۵ء]

____________