[’’اسلام اور ریاست — ایک جوابی بیانیہ‘‘ پر تنقیدات کے جواب میں لکھا گیا۔]

اِس میں شبہ نہیں کہ خلافت کا لفظ اب کئی صدیوں سے اصطلاح کے طور پر استعمال ہوتا ہے، لیکن یہ ہرگز کوئی دینی اصطلاح نہیں ہے۔ دینی اصطلاحات رازی، غزالی، ماوردی، ابن حزم اور ابن خلدون کے بنانے سے نہیں بنتیں اور نہ ہر وہ لفظ جسے مسلمان کسی خاص مفہوم میں استعمال کرنا شروع کر دیں، دینی اصطلاح بن جاتا ہے۔ یہ اللہ اور اُس کے رسولوں کے بنانے سے بنتی ہیں اور اُسی وقت قابل تسلیم ہوتی ہیں، جب اِن کا اصطلاحی مفہوم قرآن و حدیث کے نصوص یا دوسرے الہامی صحائف سے ثابت کر دیا جائے۔ صوم، صلوٰۃ اور حج و عمرہ وغیرہ اِسی لیے دینی اصطلاحات ہیں کہ اُنھیں اللہ اور اُس کے رسولوں نے یہ حیثیت دی ہے اور جگہ جگہ اُن کے اصطلاحی مفہوم میں استعمال کیا ہے۔ لفظ ’خلافت‘ اِس کے برخلاف عربی زبان کا ایک لفظ ہے اور نیابت، جانشینی اور حکومت و اقتدار کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ اِس کے لغوی مفاہیم ہیں اور قرآن و حدیث میں ہر جگہ یہ اپنے اِن لغوی مفاہیم ہی میں سے کسی ایک مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ قرآن کی جو آیات ’خلیفہ‘ اور ’خلافت‘ کے الفاظ کو اُن کے ترجمے میں بعینہٖ قائم رکھ کر لوگوں کو یہ باور کرانے کے لیے پیش کی گئی ہیں کہ قرآن نے یہ لفظ کسی خاص اصطلاحی مفہوم میں استعمال کیا ہے، اُنھیں کسی مستند ترجمے یا تفسیر میں دیکھ لیجیے، حقیقت اِس طرح واضح ہو جائے گی کہ آپ کے پاس بھی تبصرے کے لیے کوئی الفاظ باقی نہیں رہیں گے، جس طرح کہ میرے ناقدین میں سے ایک صاحب علم کے پاس نہیں رہے ہیں۔ میں یہاں دو جلیل القدر علما کے تراجم پیش کیے دیتا ہوں۔ ملاحظہ فرمائیے:

۱۔ سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۳۰۔

’’اور جب کہا تیرے رب نے فرشتوں کو، مجھ کو بنانا ہے زمین میں ایک نائب۔‘‘ (شاہ عبدالقادر)

’’اور جب کہا تیرے رب نے فرشتوں کو کہ میں بنانے والا ہوں زمین میں ایک نائب۔‘‘ (مولانا محمود الحسن)

۲۔ سورۂ ص (۳۸) کی آیت ۲۶۔

’’اے داؤد، ہم نے کیا تجھ کو نائب ملک میں، سو تو حکومت کر لوگوں میں انصاف سے۔‘‘ (شاہ عبدالقادر)

’’اے داؤد، ہم نے کیا تجھ کو نائب ملک میں، سو تو حکومت کر لوگوں میں انصاف سے۔‘‘ (مولانا محمود الحسن)

۳۔ سورۂ نور (۲۴) کی آیت ۵۵۔

’’وعدہ دیا اللہ نے جو لوگ تم میں ایمان لائے ہیں اور کیے ہیں اُنھوں نے نیک کام، البتہ پیچھے حاکم کرے گا اُن کو ملک میں، جیسا حاکم کیا تھا اُن سے اگلوں کو۔‘‘ (شاہ عبدالقادر)

’’وعدہ کر لیا اللہ نے اُن لوگوں سے جو تم میں ایمان لائے ہیں اور کیے ہیں اُنھوں نے نیک کام، البتہ پیچھے حاکم کرے گا اُن کو ملک میں، جیسا حاکم کیا تھا اُن سے اگلوں کو۔‘‘ (مولانا محمود الحسن)

’نائب‘ اور ’حاکم‘ کے الفاظ اِن آیتوں میں ’خَلِیْفَۃ‘ اور ’اِسْتِخْلَاف‘ کا ترجمہ ہیں اور صاف واضح ہے کہ اپنے اندر کوئی دینی مفہوم نہیں رکھتے، الاّ یہ کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کا حوصلہ کر لے کہ عربی زبان کا ہر وہ لفظ جو قرآن میں استعمال کیا گیا ہو، دینی اصطلاح بن جاتا ہے۔

یہی صورت حال احادیث و آثار کی ہے۔ اُن میں بھی لفظ ’خلافت‘ اور اِس کے تمام مشتقات اُنھی مفاہیم میں استعمال کیے گئے ہیں جو اوپر بیان ہوئے ہیں، یہاں تک کہ جانشین کے معنی میں لفظ ’خَلِیْفَۃ‘ خود اللہ تعالیٰ کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ’ہدایت یافتہ حکومت‘ یا ’نبوت کے طریقے پر حکومت‘، جیسے مدعا کو ادا کرنا مقصود ہو تو اُس کے لیے یہ لفظ تنہا کافی نہیں ہوتا، بلکہ اِس کے ساتھ ’راشدہ‘ اور ’علیٰ منہاج النبوۃ‘ جیسی تعبیرات کا اضافہ کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے علما نے اِسی طرح کی تعبیرات کو مقدر مان کر خلافت کو ایک اصطلاح بنایا ہے۔ اِس لحاظ سے یہ مسلمانوں کے علم سیاست اور عمرانیات کی ایک اصطلاح تو یقیناًہو سکتی ہے، جیسے فقہ، کلام، حدیث اور اِس طرح کے دوسرے علوم کی اصطلاحات ہیں، مگر دینی اصطلاح نہیں ہو سکتی۔ اللہ اور رسول کے سوا کسی کی ہستی نہیں ہے کہ وہ کسی لفظ کو دینی اصطلاح قرار دے۔ یہ اُنھی کا حق ہے اور کسی لفظ کے بارے میں یہ دعویٰ کہ وہ دینی اصطلاح ہے، اُنھی کے ارشادات سے ثابت کیا جائے گا۔ یہ ابن خلدون کے مقدمے سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

رہی یہ بات کہ دنیا میں مسلمانوں کی ایک ہی حکومت ہونی چاہیے اور یہ اسلام کا حکم ہے تو قرآن سے واقف ہر صاحب علم جانتا ہے کہ وہ اِس طرح کے کسی حکم سے یکسر خالی ہے۔ دو حدیثیں، البتہ اِس کے حق میں پیش کی جاتی ہیں: اُن میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل پر نبی حکومت کرتے تھے۔ چنانچہ ایک نبی دنیا سے رخصت ہوتا تو دوسرا اُس کی جگہ لے لیتا تھا، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، حکمران، البتہ ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ پوچھا گیا: اُن کے بارے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: پہلے کے ساتھ عہد اطاعت کو پورا کرو، پھر اُس کے ساتھ جو اُس کے بعد پہلا ہو۔* دوسری یہ ہے کہ جب دو حکمرانوں کی بیعت کر لی جائے تو دوسرے کو قتل کر دو۔ ** اِس دوسری حدیث پر تو اگرچہ سند کے لحاظ سے بھی بہت کچھ کلام کیا گیا ہے، لیکن برسبیل تنزل مان لیجیے، تب بھی یہ حقیقت ناقابل انکار ہے کہ اِن حدیثوں میں وہ بات ہرگز نہیں کہی گئی جو اِن سے ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اِن میں جو کچھ کہا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ مسلمان اگر اپنی حکومت کے لیے کسی شخص کے ہاتھ پر بیعت کر لیں اور اِس کے بعد کوئی دوسرا بغاوت کر کے اٹھ کھڑا ہو اور لوگوں کو بیعت کی دعوت دے تو ہر مسلمان کو پہلی بیعت پر قائم رہنا چاہیے۔ نیز یہ کہ اگر دوسرا اپنی حکومت کا اعلان کر دے اور کچھ لوگ اُس کی بیعت بھی کر لیں تو اُس کو قتل کر دیا جائے۔

یہ، ظاہر ہے کہ ایسی ہدایات ہیں جن کی معقولیت ہر شخص پر واضح کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد جب انصار میں سے ایک شخص نے یہ تجویز پیش کی کہ انصار اور مہاجرین، دونوں میں سے ایک ایک حکمران بنا لیا جائے تو سیدنا عمر نے اِسی اصول پر فرمایا کہ یہ تو ایک نیام میں دو تلواریں ہو جائیں گی اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بھی اِس موقع پر لوگوں کو متنبہ کیا کہ ایک ہی مملکت میں دو حکمران نہیں ہو سکتے۔ اِس لیے کہ اِس کا نتیجہ یہی نکلے گا کہ سخت اختلافات پیدا ہو جائیں گے، صلاح کے بجاے فساد بڑھے گا، پورا نظم منتشر ہو کر رہ جائے گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جس طریقے پر چھوڑا تھا، اُس کی جگہ یہ بدعت لے لے گی کہ ایک ہی مملکت میں دو لوگ حکومت کر رہے ہوں گے۔ ***

اِن روایتوں کی نسبت اگر خدا کے پیغمبر کی طرف صحیح ہے تو آپ نے جو کچھ فرمایا، وہ یہی تھا۔ اِن سے یہ بات کسی منطق سے بھی برآمد نہیں کی جا سکتی کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو دنیا میں ایک ہی حکومت قائم کرنے کا حکم دیا ہے اور اسلام کے داعی اگر کبھی امریکہ، برطانیہ یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں لوگوں کی اکثریت کو مشرف بہ اسلام کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو اِن احادیث و آثار کی رو سے وہ اپنے ملک میں اپنی الگ حکومت قائم نہیں کر سکتے اور اگر کریں گے تو گناہ گار ہوں گے، جس طرح کہ اِس وقت پچاس کے قریب ممالک کے مسلمان ہو رہے ہیں۔
علما کو متنبہ رہنا چاہیے کہ خدا کے دین میں جو بات جتنی ہو، اُسے اتنا ہی رکھا جائے۔ یہ کسی عالم اور فقیہ اور محدث کا حق نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ایک ایسی بات کا مکلف ٹھیرائے جس کا مکلف اُن کے پروردگار نے اُن کو نہیں ٹھیرایا ہے۔ چنانچہ میں نے لکھا ہے اور ایک مرتبہ پھر دہرا رہا ہوں کہ جن ملکوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، اُن کی ایک ریاست ہاے متحدہ کا قیام ہم میں سے ہر شخص کی خواہش ہو سکتی ہے اور ہم اِس کو پورا کرنے کی جدوجہد بھی کر سکتے ہیں، لیکن اِس خیال کی کوئی بنیاد نہیں ہے کہ یہ اسلامی شریعت کا کوئی حکم ہے جس کی خلاف ورزی سے مسلمان گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

[۲۰۱۵ء]

_____

* بخاری، رقم ۳۴۵۵۔ مسلم، رقم ۱۸۴۲۔
** مسلم، رقم ۱۸۵۳۔
*** السنن الکبریٰ، بیہقی، رقم ۱۶۵۴۹۔ ۱۶۵۵۰۔

____________