Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
“قانون ِ فطرت “: اصل مسائل (قسط 1 تا 13) | Naeem Ahmed

“قانون ِ فطرت “: اصل مسائل (قسط 1 تا 13)

چین میں کتا خوری کے تہوار کے تناظر میں قانون ِ فطرت پر ایک پوسٹ لکھی تھی جس میں جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے ایک شاگرد رشید کی ایک بات پر تبصرہ بھی کیا تھا ۔ برادر محترم جناب عمار خان ناصر نے ضروری سمجھا کہ جناب منظور الحسن صاحب کا ایک پرانا مضمون جو 2007ء میں "الشریعہ" میں شائع ہوا تھا وہ شیئر کردیں ۔ منظور بھائی کا یہ مضمون دوبارہ پڑھ کر ایک تو یاد آیا کہ کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا! اللہ انھیں ہمیشہ خوش رکھے ! دوسرے ، میں نے یہ ضروری محسوس کیا کہ اس موضوع پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔ منظور بھائی نے یہ مضمون دراصل جناب حافظ زبیر صاحب کے جواب میں لکھا تھااور مسئلہ یہ ہے کہ ان دونوں مضامین میں اصل مسائل پر بحث نہیں کی گئی ۔ منظور بھائی تو پھر بھی اس سلسلے میں عذر رکھتے تھے کیونکہ انھوں نے تو انھی مسائل کا جواب دینا تھا جو حافظ زبیر صاحب نے اٹھائے تھے ۔

فطرت اور وحی کا باہمی تعلق (قسط ۱ تا ۷) | Naeem Ahmed

فطرت اور وحی کا باہمی تعلق (قسط ۱ تا ۷)

اس موضوع پر دونوں اصحاب علم، پروفیسر محمد مشتاق صاحب اور زاہد صدیق مغل صاحب، کے نقد وانتقاد کا سلسلہ بظاہر مکمل ہوا اور ان کے اہم سوالات واشکالات واضح ہو کر سامنے آئے۔ ساری بحث کے مطالعے کے بعد میرا وہی تاثر برقرار ہے جو ایک پوسٹ میں عرض کیا تھا کہ اختلاف زیادہ تر لفظی وتعبیراتی اور معاملے کو ایک زاویے سے یا دوسرے زاویے سے دیکھنے یا کسی ایک پہلو پر زیادہ یا کم زور دینے کا ہے۔ اس کا کوئی بہت نمایاں ثمرہ اختلاف کم سے کم مجھ پر واضح نہیں ہوا، الا یہ کہ یہ حضرات اس کو الگ سے واضح کریں۔

کیا غامدی صاحب ریاست کے اعتباری شخص ہونے کی وجہ سے اس کے مذہبی ہونے سے انکاری ہیں؟ | Naeem Ahmed

کیا غامدی صاحب ریاست کے اعتباری شخص ہونے کی وجہ سے اس کے مذہبی ہونے سے انکاری ہیں؟

غامدی صاحب کے حلقے کے بعض احباب کو یہ محسوس ہورہا ہے کہ ریاست کے اعتباری شخص ہونے کی بحث سے غامدی صاحب کے موقف کی تائید ہورہی ہے ۔ ایسا نہیں ہے ! اس سلسلے میں اولین بات یہ نوٹ کریں کہ میرے نزدیک مسلمانوں سے ، نہ کہ ریاست نامی فرضی اور خیالی تصور سے ، شریعت کا مطالبہ یہ ہے کہ وہ انفرادی زندگی کی طرح اجتماعی زندگی بھی شریعت کے مطابق بسر کریں اور اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ زمین کے جس خطے میں مسلمانوں کا کنٹرول ہو، جسے آج کل اسلامی ریاست یا مسلمان ریاست کہا جاتا ہے ، وہاں کا قانونی اور عدالتی نظام اسلامی شریعت کے مطابق ہو ۔ اس اجتماعی دائرے کو اسلامی شریعت کے مطابق کرنے کے لیے کوشش میرے نزدیک مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے۔

ریاست کی حاکمیت یا اللہ کی حاکمیت؟ دو تصورات کا تصادم | Naeem Ahmed

ریاست کی حاکمیت یا اللہ کی حاکمیت؟ دو تصورات کا تصادم

ریاستِ پاکستان میں قصاص و دیت کے قانون کے نفاذ سے پہلے قتل کا جرم ناقابل راضی نامہ تھا اور دیگر جرائم کی طرح اس جرم میں معافی کا اختیار صرف ریاست کے پاس تھا۔ 1990ء میں قصاص و دیت آرڈی نینس کے نفاذ کے بعد اسلامی قانون کے قواعد کی روشنی میں یہ قانون طے کیا گیا کہ عفو کا اختیار مقتول کے ورثا کے پاس ہے۔ تاہم دستور کی دفعہ 45 کے تحت سربراہِ ریاست ہر سزا کو معاف کرسکتا ہے اور چونکہ دستور کو تمام قوانین پر بالادستی حاصل ہے اس لیے مقتول کے ورثا کی مرضی کے بغیر بھی سربراہِ ریاست قاتل کو معاف کرسکتا ہے، یا اس کی سزا میں تخفیف کرسکتا ہے۔

بد ترین مخلوق بھی اور تعریف بھی؟ | Naeem Ahmed

بد ترین مخلوق بھی اور تعریف بھی؟

المورد کے فیلو صاحب مزید فرماتے ہیں : " قرآن کافروں کو بدترین مخلوق کہتا ہے اور ساتھ ہی اہل کتاب کے گروہ کی تعریف کرتا ہے کہ وہ راتوں کو سجدے میں رہتے ہِیں اور خدا کے آگے گڑگڑاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی آپ کا اصرار ہے کہ ہم سب کو کافر کہیں۔"

تکفیر اور اخروی سزا | Naeem Ahmed

تکفیر اور اخروی سزا

تکفیر کی بحث میں دنیاوی احکامات کے فرق کے علاوہ آخرت کی ناکامی کا پہلو بھی اہم ہے اور اسے اصولا کمپرومائز نہیں ہونا چاہئے۔ اللہ تعالی نے کفر کو اخروی ناکامی کا سب سے بڑا سبب قرار دیا ہے اور یہ کفر کوئی معمولی شے نہیں بلکہ بہت بڑا جرم ہے۔ اللہ، رسول، آخرت، نظام ہدایت وغیرہ کا انکار کائنات اور خود انسان کے اپنے بارے میں عظیم ترین حقیقتوں کا انکار کرنے سے عبارت ہے اور انکے انکار کو ہلکا نہیں لیا جا سکتا۔

غامدی مکتبہ فکر کے احباب سے ایک سوال کے جواب کی گزارش ہے... | Naeem Ahmed

غامدی مکتبہ فکر کے احباب سے ایک سوال کے جواب کی گزارش ہے...

مسلمانوں اور "غیر مسلموں" کی آپس میں بہت سی جنگیں ہوئیں ..رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دورِ مبارک میں بھی جن میں کئی میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بنفسِ نفیس خود حصہ لیا جنہیں غزوات کہا جاتا ہے...

مومن اور مسلم کا فرق؟ | Naeem Ahmed

مومن اور مسلم کا فرق؟

المورد کے ایک فیلو نے کیا ہی خوب بات کی ہے : "قرآن مجید اہل بدو کے بارے میں کہتا ہے کہ تم لوگ یہ نا کہو کہ ہم ایمان لائے بلکہ یہ کہو کہ ہم نے اطاعت کرلی [ہم اسلام لے آئے] کیونکہ ایمان ابھی تک تمہارے دل میں نہیں اترا۔ لیکن پھر بھی آپ کا اصرار ہے کہ ہم سب کو مومن کہیں۔"

مسئلہ آخرت کا ہی نہیں، دنیا کا بھی ہے! | Naeem Ahmed

مسئلہ آخرت کا ہی نہیں، دنیا کا بھی ہے!

غامدی صاحب کے مداح حضرات "غیرمسلم" اور "کافر" کے مزعومہ فرق کے معاملے میں خلط مبحث اس طرح پیدا کرتے ہیں کہ کسی اچھے اخلاق کے حامل "غیر مسلم "کی تصویر الفاظ میں کھینچ کر پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بھی جہنم میں جائے گا؟ ایسے میں جذباتی مخاطبین کو تو فوراً ہی فرازؔ کا مصرعہ یاد آجاتا ہے :

مومن اور کافر | Naeem Ahmed

مومن اور کافر

اہل المورد مومن اور کافر کے درمیان المنزلت بین المنزلتین کی مانند کوئی تیسری کیٹیگری نہیں لاتے، بلکہ یہ لوگ کافر کی کیٹیگری ختم کرکے اس کی جگہ دوسری کیٹیگری لاتے ہیں۔

قدیم اور جدید معتزلہ میں فرق | Naeem Ahmed

قدیم اور جدید معتزلہ میں فرق

گناہِ کبیرہ کے مرتکب مسلمان نہیں بلکہ یہودی ، مسیحی ، ہندو ، سکھ ، بدھسٹ ، ملحد – غرض وہ سب انسان جو خود کو "مسلمان" نہیں کہتے – نہ مسلمان ہیں ، نہ کافر ، بلکہ ان کے درمیان "منزلہ بین المنزلتین "میں ہیں ۔

تکفیر اور انتہا پسندی: پانچ قابلِ غور سوال | Naeem Ahmed

تکفیر اور انتہا پسندی: پانچ قابلِ غور سوال

پچھلے چند دنوں سے خاصی مصروفیت ہے۔ فیس بک پر سرسری نظر ہی دوڑا سکا۔ ایک بحث جناب طارق محمود ہاشمی صاحب کی ہوئی غامدی صاحب کے حلقے کے اصحاب سے اور اس میں جس بات نے سخت تکلیف دی وہ یہ ہے کہ غامدی صاحب کے منتسبین کے نہایت سنجیدہ بزرگ بھی ہاشمی صاحب کی بات کا جواب دینے ، یا اس کی غلطی واضح کرنے ، کے بجائے اس کا مضحکہ اڑارہے تھے۔ تکفیر اور تقلید کے مخالفین کا یہ انتہاپسندانہ اور جامد مذہب میری سمجھ میں نہیں آسکا۔

اہل کتاب کے ساتھ دوستانہ روابط کے لیے نکاح کی حلت سے استدلال | Naeem Ahmed

اہل کتاب کے ساتھ دوستانہ روابط کے لیے نکاح کی حلت سے استدلال

جاوید احمد غامدی صاحب اور ان کے شاگردوں نے اہل کتاب عورتوں کے ساتھ نکاح سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ دوستانہ روابط رکھے جاسکتے ہیں۔ ہمارے نزدیک اہل کتاب خواتین کے ساتھ نکاح کی اجازت کا اصل مقصد اہل کتاب کے ساتھ دوستانہ روابط قائم کرنا نہیں تھا، بلکہ ان کی خواتین کو اسلام کی قبولیت کا موقع دینا تھا ۔ اگر مقصد محض دوستانہ روابط بنانا تھا تو پھر اہل کتاب مردوں سے مسلمان عورتوں کے نکاح کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟

روم و فارس کے ساتھ صحابۂ کرام کی جنگیں؛ اتمامِ حجت، دفاع یا کچھ اور؟ | Naeem Ahmed

روم و فارس کے ساتھ صحابۂ کرام کی جنگیں؛ اتمامِ حجت، دفاع یا کچھ اور؟

جناب غامدی صاحب کے مکتبِ فکر کےنظریۂ ”اتمامِ حجت“ پر، جسے یہ مکتبِ فکر ”قانون“ کے طور پر پیش کرتا ہے، کافی تفصیلی بحث ہم کرچکے ہیں۔ اس بحث کا ایک موضوع یہ بھی تھا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے روم و فارس کے خلاف جو جنگیں لڑیں، کیا وہ ”اتمامِ حجت“ کے بعد لڑی گئی تھیں؟ کیا قیصر و کسریٰ کو خطوط لکھنے سے ان کی اقوام پر حجت تمام ہوگئی اور وہ اس بنا پر عذاب کے مستحق قرار پائے؟ اس پہلو سے اس نظریے پر جناب زاہد مغل صاحب اور جناب جمیل اصغر جامی صاحب نے کافی و شافی تنقید کی ہے۔

مسلم اور غیر مسلم | Naeem Ahmed

مسلم اور غیر مسلم

اسلام کے سوا باقی تمام ادیان کے ماننے والوں کو غیر مسلم کہا جاتا ہے۔ یہی تعبیر اُن لوگوں کے لیے بھی ہے جو کسی دین یا مذہب کو نہیں مانتے۔ یہ کوئی تحقیر کا لفظ نہیں ہے، بلکہ محض اِس حقیقت کا اظہار ہے کہ وہ اسلام کے ماننے والے نہیں ہیں۔ اِنھیں بالعموم کافر بھی کہہ دیا جاتا ہے، لیکن ہم نے اپنی کتابوں میں بہ دلائل واضح کر دیا ہے کہ تکفیر کے لیے اتمام حجت ضروری ہے اور یہ صرف خدا ہی جانتا اور وہی بتا سکتا ہے کہ کسی شخص یا گروہ پر فی الواقع اتمام حجت ہو گیا ہے اور اب ہم اُس کو کافر کہہ سکتے ہیں۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد یہ حق اب کسی فرد یا گروہ کو بھی حاصل نہیں رہا کہ وہ کسی شخص کو کافر قرار دے۔

تنقید اور فہم تنقید | Naeem Ahmed

تنقید اور فہم تنقید

اہل علم کا یہ حق ہی نہیں ذمہ داری بھی ہے کہ وہ جس بات کو اپنے فہم کے مطابق مذہب کے خلاف سمجھیں اس پر تنقید کریں۔ اس ذمےداری کا تقاضا ہے کہ اگر کسی فکر پر تنقید مقصود ہو تو وہاں سے کی جائے جہاں سے مخاطب اسے پیش کرتا ہے. مثلا، اگر کوئی صاحب علم کسی مکتبہ فکر کے تصوارات یا عادات پر یہ کہتے ہیں کہ ان کے افعال ”مشرکانہ“ ہیں. اب اگر ہمیں اس پر تنقید کرنی ہوگی تو ہم یہ بتائیں گےکہ یہ معاملہ حقائق کے بر عکس ہے۔ جن لوگوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایسا ہرگز نہیں کرتے یا کرتے تو ہیں لیکن جنھیں مشرکانہ عادات کہا جا رہا ہے، وہ شرک کی تعریف میں داخل نہیں ہوتیں.

یحیٰ بختیار کو نہ بھولیے | Naeem Ahmed

یحیٰ بختیار کو نہ بھولیے

7 ستمبر 1974ء کو قومی اسمبلی نے ایک عظیم الشان کارنامہ سرانجام دیا۔ ایسا کارنامہ جس پر یقیناً پاکستانی قوم فخر کرسکتی ہے۔ طویل مشاورت، مباحثے، مکالمے، وضاحتوں، سوالات، جوابات اور تنقیح و تجزیے کے بعد بالآخر اس نے متفقہ فیصلہ سنا دیا کہ احمدیوں کے دونوں گروہ غیر مسلم ہیں۔

کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟ غامدی صاحب کے نظریہ کفر کے داخلی ابہامات | Naeem Ahmed

کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟ غامدی صاحب کے نظریہ کفر کے داخلی ابہامات

غامدی صاحب کے شاگرد جناب حسن الیاس صاحب نے ”دلیل“ پر اپنی ایک حالیہ تحریر میں شکوہ کیا ہے کہ غامدی صاحب کے نکتہ نظر پر درست تنقید کہیں موجود ہی نہیں تو جواب کیا دیا جائے؟ لوگ یا تو ان کی بات سمجھتے ہی نہیں اور یا ان کی طرف غیر متعلق دعوے منسوب کرکے اس پر نقد کرتے ہیں۔ جس سلسلہ مضمون (غامدی صاحب کا نظریہ تکفیر) پر انہوں نے یہ تحریر لکھی، اس پر ایک عرصہ قبل بندے نے اپنے تئیں ایک تحریر لکھی تھی مگر ان کے گروہ کی طرف سے اسے کوئی لفٹ نہ کروائی گئی۔ ممکن ہے ہماری ہی تنقید میں سقم ہو۔ بہرحال، بحث سے متعلق سمجھتے ہوئے اسے ایک مرتبہ پھر قارئین کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، ممکن ہے کسی کو اس کا متعلق ہونا سمجھ آجائے۔

مسئلہ قادیانیت اور تشکیک کا ہتھیار | Naeem Ahmed

مسئلہ قادیانیت اور تشکیک کا ہتھیار

”میں اپنے آپ کو مسلم کہتا ہوں تو اپنی پہچان متعین کرنے کا حق میرے سوا کسی اور کو کس طرح دیا جا سکتا ہے؟“ جیسے لبرل سیکولر فکر میں لپٹے سوال کیوں اٹھائے جا رہے ہیں؟

غیرمسلم کو کافر کیوں نہیں کہا جا سکتا؟ | Naeem Ahmed

غیرمسلم کو کافر کیوں نہیں کہا جا سکتا؟

سوال اٹھایا گیا کہ قرآن مجید میں ابتداء میں نازل ہونے والی سورہ ”المدثر“ میں اتمام حجت سے قبل ہی اسلام نہ لانے والوں کو کافر قرار دیا جا چکا تھا، تو یہ کہنا کیسے درست ہے کہ کافر کہنے کے لیے اتمام حجت ضروری ہے؟ اس سوال میں کن امور کو خلط کر دیا گیا اس کا جائزہ جواب میں لیا جاتا ہے۔

جاوید غامدی، سلاست اور علمی مباحث | Naeem Ahmed

جاوید غامدی، سلاست اور علمی مباحث

گزشتہ کچھ عرصے سے ورقی اور برقی میڈیا میں محترم جاوید احمد غامدی صاحب کے ”جوابی بیانیہ“ پر بحث چلی آتی ہے۔ سہ ماہی ”جی“ نے بھی اپنی ایک اشاعت میں بساط بھر اس بیانیے کے مذہبی اور نظری پہلوؤں پر گفتگو کو آگے بڑھانے کی کوشش کی تھی۔ ابھی حال ہی میں جناب نادر عقیل انصاری صاحب نے محترم غامدی صاحب کے دلالتِ لسان اور تکفیر کے موقف پر نقد کی نظری اور علمی کاوش کی ہے۔ غامدی صاحب کے مکتبِ فکر کی طرف سے انصاری صاحب کی تحریروں کا جواب بھی سامنے آیا۔ اس میں دلالتِ لسان اصلاً کوئی مذہبی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ خالص نظری مسئلہ ہے، لیکن دین میں متون کی بنیادی اہمیت کی وجہ سے یہ بحث آگے چل کر مذہبی مضمرات حاصل کر لیتی ہے۔

کیا کفر و ضلالت مبنی بر ”دلالت“ ہے؟ | Naeem Ahmed

کیا کفر و ضلالت مبنی بر ”دلالت“ ہے؟

احباب گمرہی کا رشتہ ”دلالت“ سے جوڑ بیٹھے. کہا گیا کہ جہاں دلالت قطعی ہوگی اس کا انکار کفر ہوگا، اور جہاں ظنی ہوگی وہاں حکم بتدریج کم ہوتا جائےگا. مکتب فراہی چوں کہ دلالت کو قطعی مانتا ہے، اب یا تو اس قطعی مفہوم کے منکرین کو کافر کہے یا مان جائے کہ کلام کی دلالت ہر جگہ قطعی نہیں ہے. پھر مثال چپکائی گئی کہ ”لا مطاع و لا معبود الااللہ“ کا مفہوم قطعی مدلول کی حیثیت رکھتا ہے، اس کا ماننا لازم اور انکار کفر ہے.

قرآن میں لفظ مشرک کا استعمال و اطلاق اور حلقہ غامدی کا مؤقف | Naeem Ahmed

قرآن میں لفظ مشرک کا استعمال و اطلاق اور حلقہ غامدی کا مؤقف

میرا موضوع بھی ’’دلیل‘‘ پر شائع ہونے والے زیر بحث مسئلہ جو تکفیر کے جواز یا عدم جواز سے متعلق ہے، سے ملتا جلتا ہے اور اس کا تعلق بھی ان ہی لوگوں سے ہے جو جاوید احمد غامدی صاحب کے شاگرد یا پیروکار ہیں۔ لیکن ان دونوں میں فر ق بس صرف اتنا ہی ہے کہ یہاں لفظ ’’کفر‘‘ استعمال کیا گیا ہے اور وہاں ’’شرک‘‘ کا۔ یہاں ’’کافر‘‘ کی اصطلاح اور وہاں’’مشر ک‘‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ اب میرا عرض یہ ہے کہ قرآن میں مومن، مشرک، مسلم اور کافر کی اصطلاحات بکثرت موجود ہیں اور اس میں کہیں بھی ’’غیر مسلم‘‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کی گئی ہے،گویا کہ یہ ایک غیر قرآنی اصطلاح ہے۔

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور عامۃ المسلمین کی تکفیر | Naeem Ahmed

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور عامۃ المسلمین کی تکفیر

جدید استعماری دور میں بہت لوگوں نے نئے فرقوں کی بنا ڈالی، اور ”اظہار رائے کی آزادی“ کے عَلم تلے اس کا جواز پیش کیا۔ تکفیر کے مسئلے پر ان کا نقطہ نظر بالعموم داخلی طور پر شدید تضاد کا شکار رہا۔ جدید فرقے اپنے وجود کے جواز کے حق میں اپنا استدلال مسلمان اُمت کے روایتی فکر کے نقص و خطا پر تعمیر کرتے ہیں۔ اگر امت کے فکر و عمل درست ہوں تو نئے فرقوں کی ضرورت کا جواز کیسے ثابت ہوگا؟ اگر مسلمانوں میں اپنے دین سے کوئی غفلت پائی جاتی ہے، تو تذکیر و تبلیغ اور تجدید و احیاء کی ضرورت ہے، نئے فرقے کی نہیں۔ لیکن جب یہ نئے مکاتب فکر امت کی تکفیر و تضلیل کر چکتے ہیں، تو ایک اور مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ ہر نیا فرقہ جانتا ہے کہ دینی فکر میں جو نیا پیوند وہ لگا رہا ہے، جلد یا بدیر امت اس کی غلطی پر متنبہ ہوجائے گی، اور اس پر اپنا ردّ عمل ظاہر کرے گی۔ اور اگر کسی نووارد فرقے نے دینی عقیدہ و عمل میں بنیادی تبدیلیاں کی ہیں، تو بالآخر امت اس کی تکفیر و تضلیل کا فیصلہ کرے گی۔

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ، تکفیر کے مسئلے پر فکری انتشار | Naeem Ahmed

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ، تکفیر کے مسئلے پر فکری انتشار

تکفیر کے جواز کے بارے میں بعض متجددین نے ایک خلطِ مبحث پیدا کر دیا ہے، اسی سلسلے کی ایک کڑی جاوید غامدی صاحب کا ”جوابی بیانیہ“ بھی ہے، جس میں تکفیر کے مسئلے میں متشددانہ نقطہ اختیار کیا گیا ہے۔ ایک تو تکفیر کو سرے سے ممنوع قرار دیا ہے جس کی غرض یہ معلوم ہوتی ہے کہ قادیانیوں کی تکفیر کا فیصلہ معرض شک میں ڈال دیا جائے۔ دوسری طرف وہ تمام صوفیائے کرام کے ساتھ یہ معاملہ کرتے ہیں کہ انہیں اسلام سے مختلف، مقابل اور متوازی دین کا پیروکار قرار دیتے ہیں، جس کی کتاب بھی قرآن مجید کے مقابل کوئی اور ہے، اور شریعت بھی اسلامی شریعت سے مختلف ہے۔

مسئلۂ تکفیر: نادر عقیل انصاری کے مضمون پر اعتراضات کا جائزہ | Naeem Ahmed

مسئلۂ تکفیر: نادر عقیل انصاری کے مضمون پر اعتراضات کا جائزہ

جاوید غامدی صاحب کے ”جوابی بیانیے“ پر نادر عقیل انصاری صاحب کا ایک تنقیدی مضمون بعنوان ”مسئلہ تکفیر: غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ“، دلیل میں شائع ہوا تھا۔ تاحال غامدی صاحب کے متنازعہ ”جوابی بیانیے“ پر جو تحریریں سامنے آئی ہیں، ان میں یہ سب سے زیادہ محققانہ مضمون ہے،جس نے غامدی صاحب کے استدلال کی کمزوری محکم دلائل سے واضح کر دی ہے۔ غامدی صاحب نے ”جوابی بیانیے“ میں تکفیر کے جواز کا انکار کیا ہے۔ نادر عقیل انصاری صاحب کا موقف ہے کہ علماء اور امت کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ مبتدعہ اور گمراہ افراد اور گروہوں کی تکفیر کر سکیں۔ ان کا استدلال ہے کہ قرآن مجید میں تکفیر کی ممانعت نہیں آئی، احادیث میں اس کا جواز ثابت ہے، اور عدالتی اور معاشرتی امور میں کئی شرائع اس پر موقوف ہیں۔ اور جس شے پر شرائع کا نفاذ موقوف ہو، وہ کیسے ممنوع ہو سکتی ہے؟

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور مسئلہ تکفیر: چند اعتراضات | Naeem Ahmed

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور مسئلہ تکفیر: چند اعتراضات

راقم کا ایک مضمون ”دلیل“ پر شائع ہوا تھا۔ اس کا عنوان تھا ”جاوید غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ: تکفیر کے مسئلے پر فکری انتشار۔“ ہماری خوش نصیبی ہے کہ المورد کے صفِ اول کے سکالر، ہمارے محترم آصف افتخار صاحب نے جاوید غامدی صاحب کے دفاع کے لیے قلم اُٹھایا ہے (۱)۔ المورد کے کسی بھی اہم فرد کی جانب سے ہماری تنقیدوں پر یہ پہلا باقاعدہ جواب تصور کیا جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ جاوید احمد غامدی صاحب کوئی جواب دینے سے تحریری معذرت کر چکے ہیں۔ بہتر تو یہی تھا کہ غامدی صاحب خود بات کرتے، کیونکہ جب یہ بحث ذرا آگے بڑھے گی، تو سابقہ تجربے کی روشنی میں یہ خدشہ ہے کہ غامدی صاحب اپنے کسی بھی شاگرد کی تحریروں سے اظہارِ برأت کرنے میں لمحہ بھر دیر نہیں لگائیں گے، اور یوں یہ تمام مکالمہ بےسُود رہےگا۔ تاہم، ہم اس کو بھی غنیمت جانتے ہیں کہ المورد کے اصحابِ علم نے علمی و فکری مکالمے میں شرکت کا فیصلہ فرمایا ہے۔

مسلمان کو کافر کہنا کیوں حرام ہے؟ اصول تکفیر کیا ہیں؟ (2/2) | Naeem Ahmed

مسلمان کو کافر کہنا کیوں حرام ہے؟ اصول تکفیر کیا ہیں؟ (2/2)

عصر حاضر فتن، دجل، غفلت، ذہنی ارتداد اور ذہنی تخریب کاری کا دور ہے۔ ان فتنوں میں ایک بہت بڑا فتنہ، فتنہ تکفیر ہے۔ دشمنان اسلام مسلمانوں کے درمیان پھوٹنے والے تمام فروعی اور اصولی اختلافات کے تفصیلی مطالعہ کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مسلمانوں کی قوت کو باہم ٹکراؤ کے ذریعہ ختم کرنے کا طریقہ ان کے درمیان فرقہ وارانہ اختلافات کو بڑھا کر تکفیری سوچ اور فکر کو ہوا دینا ہے کیونکہ کسی مسلمان کی تکفیر کے بعد اسے مرتد قرار دے کر واجب القتل قرار دے دینا ہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے مسلمان انتہائی اخلاص اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ ایک دوسرے کو انفرادی ،قومی اور بین الاقوامی سطح پر ختم کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے۔

مسلمان کو کافر کہنا کیوں حرام ہے؟ اصول تکفیر کیا ہیں؟ (1/2) | Naeem Ahmed

مسلمان کو کافر کہنا کیوں حرام ہے؟ اصول تکفیر کیا ہیں؟ (1/2)

عصر حاضر فتن، دجل، غفلت، ذہنی ارتداد اور ذہنی تخریب کاری کا دور ہے۔ ان فتنوں میں ایک بہت بڑا فتنہ، فتنہ تکفیر ہے۔ دشمنان اسلام مسلمانوں کے درمیان پھوٹنے والے تمام فروعی اور اصولی اختلافات کے تفصیلی مطالعہ کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مسلمانوں کی قوت کو باہم ٹکراؤ کے ذریعہ ختم کرنے کا طریقہ ان کے درمیان فرقہ وارانہ اختلافات کو بڑھا کر تکفیری سوچ اور فکر کو ہوا دینا ہے کیونکہ کسی مسلمان کی تکفیر کے بعد اسے مرتد قرار دے کر واجب القتل قرار دے دینا ہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے مسلمان انتہائی اخلاص اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ ایک دوسرے کو انفرادی ،قومی اور بین الاقوامی سطح پر ختم کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے۔

کفار و مشرکین کی تکفیر پر غامدی صاحب کے اپنے فتوے | Naeem Ahmed

کفار و مشرکین کی تکفیر پر غامدی صاحب کے اپنے فتوے

ہمارے محترم دوست جناب سمیع اللہ سعدی صاحب نے تکفیر کے مسئلے پر غامدی صاحب کا ایک مضمون کل ارسال فرمایا اور ہمارا نقطہ نظر جاننے کی خواہش ظاہر کی. اس کا تفصیلی جواب زیرتحریر ہے. ان کی خواہش کی تعمیل تکمیل میں ایک مختصر تحریر میرے محترم غامدی صاحب کے غور و خوض کے لیے حاضر خدمت ہے. اس تحریر میں مشرکین اور کفار کے خلاف غامدی صاحب کے فتوے ان کی دو کتابوں مقامات اور البیان سے جمع کردیے گئے ہیں. امید ہے سعدی صاحب اسے ان کی خدمت میں ارسال کردیں گے، اور ان سے صرف یہ پوچھ لیں گے کہ حضرت والا آپ تو سب کو کافر و مشرک کہتے ہیں لیکن امت کے علماء کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ کسی کو کافر و مشرک نہیں کہہ سکتے۔

WHY DO MUSLIMS OPPOSE THE SCOTUS SAME-SEX MARRIAGE VERDICT | Adnan Ejaz

WHY DO MUSLIMS OPPOSE THE SCOTUS SAME-SEX MARRIAGE VERDICT

WHY DO MUSLIMS OPPOSE THE SCOTUS SAME-SEX MARRIAGE VERDICT

Seed of arrogance | Nikhat Sattar

Seed of arrogance

MANY Muslims around the world have been conditioned to believe that they are the preferred ones of God. The rest of the people are ‘infidels’, and, as such, are to be destroyed or ostracised one way or another. This belief has been extended to Muslims of different sects, with disastrous consequences.

Self Purification and Fasting | Nikhat Sattar

Self Purification and Fasting

islamic guidance has come through the Prophet (sws) to purify humankind and perfect their moral character. The Quran has given instructions on how this may be worked towards- salah, saum and zakah. Fasting is for God and is a sure way to assist in self purification, provided it is done without the external trappings of commercial religion.

Protection or Subjugation? | Nikhat Sattar

Protection or Subjugation?

The men who sre members of the Council of Islamic Ideology have come up with yet more pronouncements which they ironically enough, term as a model women protection. It is as un Islamic as are kiling and adultery. The result of deliberate or otherwise misinterpretation of Quranic verses and reading them in piece meal has caused much havoc to the lives and safety of women through out the Muslim world and especially in Pakistan. Viewed holistically, the words nushuz and daraba on which the entire wife beating premise is based have alternate meanings that have been considered by scholars in other countries but not in Pakistan.

Join our Mailing List