Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
اسلاف کے کام کے بارے میں صحیح علمی رویہ — غامدی صاحب کی ایک گفتگو کا خلاصہ | Manzoor ul Hassan

اسلاف کے کام کے بارے میں صحیح علمی رویہ — غامدی صاحب کی ایک گفتگو کا خلاصہ

امام شافعی رحمة اللہ علیہ کی شہرۂ آفاق کتاب ”الرسالہ“ کی تدریس کے دوران میں ایک بحث کے ضمن میں میں نے استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی سے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ جو بات مجھ جیسے ادنیٰ طالب کی سمجھ میں آ گئی ہے، وہ امام شافعی جیسے امام الائمہ پر واضح نہیں ہو سکی؟ اس کے جواب میں استاذ گرامی نے جو گفتگو فرمائی، وہ دین کے طالب علموں کے لیے مشعل راہ ہے۔ اس کے چند نکات افادہ ٔ عام کے لیے پیش خدمت ہیں۔

جناب جاوید احمد غامدی کے نظریۂِ اتمامِ حجّت پر زاہد صدیق مغل صاحب کے ایک سوال پر تبصرہ | Ahmad Bilal

جناب جاوید احمد غامدی کے نظریۂِ اتمامِ حجّت پر زاہد صدیق مغل صاحب کے ایک سوال پر تبصرہ

جناب جاوید احمد غامدی کے نظریۂِ اتمامِ حجّت پر زاہد صدیق مغل صاحب کے ایک سوال پر تبصرہ

غامدی صاحب پر الزامِ انکارِ حدیث، نادر عقیل انصاری صاحب کے سوالات | Ahmad Bilal

غامدی صاحب پر الزامِ انکارِ حدیث، نادر عقیل انصاری صاحب کے سوالات

نادر عقیل انصاری صاحب نے "جاوید غامدی کے متجددانہ شطحات: انکارِ حدیث کا مسئلہ" کے زیرِ عنوان میزان کے دو پیراگراف نقل فرما کر اُن میں مذکور دعاوی کے دلائل طلب فرمائے ہیں، اور ان کے کچھ مبیّنہ اندرونی تضادات کی نشاندہی فرما کر وضاحت بھی مطلوب ٹھہرائی ہے۔ انہوں نے مزید اصرار کیا ہے کہ یہ وضاحت غامدی صاحب کے اپنے اقوال کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔

فقہاء و مکتبِ فراہی کے تصوّرِ قطعی الدلالۃ کا فرق | Ahmad Bilal

فقہاء و مکتبِ فراہی کے تصوّرِ قطعی الدلالۃ کا فرق

محترم زاہد صدیق مغل صاحب کی مذکورہ بالا عنوان کی حامل تحریر نظر سے گزری۔ مکتبِ فراہی کے تصوّرِ قطعی الدّلالہ کے فقہا کے تصوّر سے تقابل کے ذریعے زاہد صاحب نے اس میں یہ باور کرانے کی سعی فرمائی ہے کہ "فراہی و اصلاحی صاحبان کا نظریۂِ قطعی الدّلالۃ نہ صرف مبہم ہے بلکہ ظنی کی ایک قسم ہونے کے ساتھ ساتھ سبجیکٹو (subjective) بھی ہے"۔ میری نظر میں ایسی تحاریر موضوع سے متعلق الجھنوں کو رفع کرنے کے لیے اچھی بنیاد فراہم کرتی ہیں، اس لیے ایسے مواقع ضائع نہیں ہونے دینا چاہئیں۔

جاوید احمد غامدی: انٹرویو قومی ڈائجسٹ (2/2) | Administrator

جاوید احمد غامدی: انٹرویو قومی ڈائجسٹ (2/2)

جناب جاوید احمد غامدی کا نام اور کام کسی تعارف کا محتاج نہیں ..... علما کے روایتی حلقوں سے الگ، انھوں نے اپنی شناخت بنائی ہے اور اہل فکر و دانش کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ وہ جرأت اور متانت کے ساتھ اپنے نقطۂ نظر کے اظہار پر قادر ہیں۔ اپنی شخصیت اور اسلوب کی بدولت الیکٹرانک میڈیا پر ان کی مانگ بہت ہے، اور گھر گھر دیکھا اور سنا جا رہا ہے ..... معاشرے کو تبدیل کرنے کے حوالے سے ان کی اپنی سوچ ہے اور وہ دلائل کے ساتھ اسے پیش کرنے پر قادر ہیں۔ ان سے اختلاف کرنے والے کم نہیں ہیں، لیکن ان کا اعتراف کرنے والے بھی کم نہیں رہے۔ عزیزم صفدر سحر نے ان سے گفتگو کر کے ان کے خیالات قارئین ’’قومی ڈائجسٹ‘‘ تک پہنچانے کی کوشش کی ہے، یہ کوشش نامکمل ہو سکتی ہے، لیکن ناکام نہیں ہے۔

جاوید احمد غامدی: انٹرویو قومی ڈائجسٹ (1/2) | Administrator

جاوید احمد غامدی: انٹرویو قومی ڈائجسٹ (1/2)

جناب جاوید احمد غامدی کا نام اور کام کسی تعارف کا محتاج نہیں ..... علما کے روایتی حلقوں سے الگ، انھوں نے اپنی شناخت بنائی ہے اور اہل فکر و دانش کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ وہ جرأت اور متانت کے ساتھ اپنے نقطۂ نظر کے اظہار پر قادر ہیں۔ اپنی شخصیت اور اسلوب کی بدولت الیکٹرانک میڈیا پر ان کی مانگ بہت ہے، اور گھر گھر دیکھا اور سنا جا رہا ہے ..... معاشرے کو تبدیل کرنے کے حوالے سے ان کی اپنی سوچ ہے اور وہ دلائل کے ساتھ اسے پیش کرنے پر قادر ہیں۔ ان سے اختلاف کرنے والے کم نہیں ہیں، لیکن ان کا اعتراف کرنے والے بھی کم نہیں رہے۔ عزیزم صفدر سحر نے ان سے گفتگو کر کے ان کے خیالات قارئین ’’قومی ڈائجسٹ‘‘ تک پہنچانے کی کوشش کی ہے، یہ کوشش نامکمل ہو سکتی ہے، لیکن ناکام نہیں ہے۔

“قانون ِ فطرت “: اصل مسائل (قسط 1 تا 13) | Naeem Ahmed

“قانون ِ فطرت “: اصل مسائل (قسط 1 تا 13)

چین میں کتا خوری کے تہوار کے تناظر میں قانون ِ فطرت پر ایک پوسٹ لکھی تھی جس میں جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے ایک شاگرد رشید کی ایک بات پر تبصرہ بھی کیا تھا ۔ برادر محترم جناب عمار خان ناصر نے ضروری سمجھا کہ جناب منظور الحسن صاحب کا ایک پرانا مضمون جو 2007ء میں "الشریعہ" میں شائع ہوا تھا وہ شیئر کردیں ۔ منظور بھائی کا یہ مضمون دوبارہ پڑھ کر ایک تو یاد آیا کہ کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا! اللہ انھیں ہمیشہ خوش رکھے ! دوسرے ، میں نے یہ ضروری محسوس کیا کہ اس موضوع پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔ منظور بھائی نے یہ مضمون دراصل جناب حافظ زبیر صاحب کے جواب میں لکھا تھااور مسئلہ یہ ہے کہ ان دونوں مضامین میں اصل مسائل پر بحث نہیں کی گئی ۔ منظور بھائی تو پھر بھی اس سلسلے میں عذر رکھتے تھے کیونکہ انھوں نے تو انھی مسائل کا جواب دینا تھا جو حافظ زبیر صاحب نے اٹھائے تھے ۔

فطرت اور وحی کا باہمی تعلق (قسط ۱ تا ۷) | Naeem Ahmed

فطرت اور وحی کا باہمی تعلق (قسط ۱ تا ۷)

اس موضوع پر دونوں اصحاب علم، پروفیسر محمد مشتاق صاحب اور زاہد صدیق مغل صاحب، کے نقد وانتقاد کا سلسلہ بظاہر مکمل ہوا اور ان کے اہم سوالات واشکالات واضح ہو کر سامنے آئے۔ ساری بحث کے مطالعے کے بعد میرا وہی تاثر برقرار ہے جو ایک پوسٹ میں عرض کیا تھا کہ اختلاف زیادہ تر لفظی وتعبیراتی اور معاملے کو ایک زاویے سے یا دوسرے زاویے سے دیکھنے یا کسی ایک پہلو پر زیادہ یا کم زور دینے کا ہے۔ اس کا کوئی بہت نمایاں ثمرہ اختلاف کم سے کم مجھ پر واضح نہیں ہوا، الا یہ کہ یہ حضرات اس کو الگ سے واضح کریں۔

کیا غامدی صاحب ریاست کے اعتباری شخص ہونے کی وجہ سے اس کے مذہبی ہونے سے انکاری ہیں؟ | Naeem Ahmed

کیا غامدی صاحب ریاست کے اعتباری شخص ہونے کی وجہ سے اس کے مذہبی ہونے سے انکاری ہیں؟

غامدی صاحب کے حلقے کے بعض احباب کو یہ محسوس ہورہا ہے کہ ریاست کے اعتباری شخص ہونے کی بحث سے غامدی صاحب کے موقف کی تائید ہورہی ہے ۔ ایسا نہیں ہے ! اس سلسلے میں اولین بات یہ نوٹ کریں کہ میرے نزدیک مسلمانوں سے ، نہ کہ ریاست نامی فرضی اور خیالی تصور سے ، شریعت کا مطالبہ یہ ہے کہ وہ انفرادی زندگی کی طرح اجتماعی زندگی بھی شریعت کے مطابق بسر کریں اور اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ زمین کے جس خطے میں مسلمانوں کا کنٹرول ہو، جسے آج کل اسلامی ریاست یا مسلمان ریاست کہا جاتا ہے ، وہاں کا قانونی اور عدالتی نظام اسلامی شریعت کے مطابق ہو ۔ اس اجتماعی دائرے کو اسلامی شریعت کے مطابق کرنے کے لیے کوشش میرے نزدیک مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے۔

ریاست کی حاکمیت یا اللہ کی حاکمیت؟ دو تصورات کا تصادم | Naeem Ahmed

ریاست کی حاکمیت یا اللہ کی حاکمیت؟ دو تصورات کا تصادم

ریاستِ پاکستان میں قصاص و دیت کے قانون کے نفاذ سے پہلے قتل کا جرم ناقابل راضی نامہ تھا اور دیگر جرائم کی طرح اس جرم میں معافی کا اختیار صرف ریاست کے پاس تھا۔ 1990ء میں قصاص و دیت آرڈی نینس کے نفاذ کے بعد اسلامی قانون کے قواعد کی روشنی میں یہ قانون طے کیا گیا کہ عفو کا اختیار مقتول کے ورثا کے پاس ہے۔ تاہم دستور کی دفعہ 45 کے تحت سربراہِ ریاست ہر سزا کو معاف کرسکتا ہے اور چونکہ دستور کو تمام قوانین پر بالادستی حاصل ہے اس لیے مقتول کے ورثا کی مرضی کے بغیر بھی سربراہِ ریاست قاتل کو معاف کرسکتا ہے، یا اس کی سزا میں تخفیف کرسکتا ہے۔

بد ترین مخلوق بھی اور تعریف بھی؟ | Naeem Ahmed

بد ترین مخلوق بھی اور تعریف بھی؟

المورد کے فیلو صاحب مزید فرماتے ہیں : " قرآن کافروں کو بدترین مخلوق کہتا ہے اور ساتھ ہی اہل کتاب کے گروہ کی تعریف کرتا ہے کہ وہ راتوں کو سجدے میں رہتے ہِیں اور خدا کے آگے گڑگڑاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی آپ کا اصرار ہے کہ ہم سب کو کافر کہیں۔"

تکفیر اور اخروی سزا | Naeem Ahmed

تکفیر اور اخروی سزا

تکفیر کی بحث میں دنیاوی احکامات کے فرق کے علاوہ آخرت کی ناکامی کا پہلو بھی اہم ہے اور اسے اصولا کمپرومائز نہیں ہونا چاہئے۔ اللہ تعالی نے کفر کو اخروی ناکامی کا سب سے بڑا سبب قرار دیا ہے اور یہ کفر کوئی معمولی شے نہیں بلکہ بہت بڑا جرم ہے۔ اللہ، رسول، آخرت، نظام ہدایت وغیرہ کا انکار کائنات اور خود انسان کے اپنے بارے میں عظیم ترین حقیقتوں کا انکار کرنے سے عبارت ہے اور انکے انکار کو ہلکا نہیں لیا جا سکتا۔

غامدی مکتبہ فکر کے احباب سے ایک سوال کے جواب کی گزارش ہے... | Naeem Ahmed

غامدی مکتبہ فکر کے احباب سے ایک سوال کے جواب کی گزارش ہے...

مسلمانوں اور "غیر مسلموں" کی آپس میں بہت سی جنگیں ہوئیں ..رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دورِ مبارک میں بھی جن میں کئی میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بنفسِ نفیس خود حصہ لیا جنہیں غزوات کہا جاتا ہے...

مومن اور مسلم کا فرق؟ | Naeem Ahmed

مومن اور مسلم کا فرق؟

المورد کے ایک فیلو نے کیا ہی خوب بات کی ہے : "قرآن مجید اہل بدو کے بارے میں کہتا ہے کہ تم لوگ یہ نا کہو کہ ہم ایمان لائے بلکہ یہ کہو کہ ہم نے اطاعت کرلی [ہم اسلام لے آئے] کیونکہ ایمان ابھی تک تمہارے دل میں نہیں اترا۔ لیکن پھر بھی آپ کا اصرار ہے کہ ہم سب کو مومن کہیں۔"

مسئلہ آخرت کا ہی نہیں، دنیا کا بھی ہے! | Naeem Ahmed

مسئلہ آخرت کا ہی نہیں، دنیا کا بھی ہے!

غامدی صاحب کے مداح حضرات "غیرمسلم" اور "کافر" کے مزعومہ فرق کے معاملے میں خلط مبحث اس طرح پیدا کرتے ہیں کہ کسی اچھے اخلاق کے حامل "غیر مسلم "کی تصویر الفاظ میں کھینچ کر پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بھی جہنم میں جائے گا؟ ایسے میں جذباتی مخاطبین کو تو فوراً ہی فرازؔ کا مصرعہ یاد آجاتا ہے :

مومن اور کافر | Naeem Ahmed

مومن اور کافر

اہل المورد مومن اور کافر کے درمیان المنزلت بین المنزلتین کی مانند کوئی تیسری کیٹیگری نہیں لاتے، بلکہ یہ لوگ کافر کی کیٹیگری ختم کرکے اس کی جگہ دوسری کیٹیگری لاتے ہیں۔

قدیم اور جدید معتزلہ میں فرق | Naeem Ahmed

قدیم اور جدید معتزلہ میں فرق

گناہِ کبیرہ کے مرتکب مسلمان نہیں بلکہ یہودی ، مسیحی ، ہندو ، سکھ ، بدھسٹ ، ملحد – غرض وہ سب انسان جو خود کو "مسلمان" نہیں کہتے – نہ مسلمان ہیں ، نہ کافر ، بلکہ ان کے درمیان "منزلہ بین المنزلتین "میں ہیں ۔

تکفیر اور انتہا پسندی: پانچ قابلِ غور سوال | Naeem Ahmed

تکفیر اور انتہا پسندی: پانچ قابلِ غور سوال

پچھلے چند دنوں سے خاصی مصروفیت ہے۔ فیس بک پر سرسری نظر ہی دوڑا سکا۔ ایک بحث جناب طارق محمود ہاشمی صاحب کی ہوئی غامدی صاحب کے حلقے کے اصحاب سے اور اس میں جس بات نے سخت تکلیف دی وہ یہ ہے کہ غامدی صاحب کے منتسبین کے نہایت سنجیدہ بزرگ بھی ہاشمی صاحب کی بات کا جواب دینے ، یا اس کی غلطی واضح کرنے ، کے بجائے اس کا مضحکہ اڑارہے تھے۔ تکفیر اور تقلید کے مخالفین کا یہ انتہاپسندانہ اور جامد مذہب میری سمجھ میں نہیں آسکا۔

اہل کتاب کے ساتھ دوستانہ روابط کے لیے نکاح کی حلت سے استدلال | Naeem Ahmed

اہل کتاب کے ساتھ دوستانہ روابط کے لیے نکاح کی حلت سے استدلال

جاوید احمد غامدی صاحب اور ان کے شاگردوں نے اہل کتاب عورتوں کے ساتھ نکاح سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ دوستانہ روابط رکھے جاسکتے ہیں۔ ہمارے نزدیک اہل کتاب خواتین کے ساتھ نکاح کی اجازت کا اصل مقصد اہل کتاب کے ساتھ دوستانہ روابط قائم کرنا نہیں تھا، بلکہ ان کی خواتین کو اسلام کی قبولیت کا موقع دینا تھا ۔ اگر مقصد محض دوستانہ روابط بنانا تھا تو پھر اہل کتاب مردوں سے مسلمان عورتوں کے نکاح کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟

روم و فارس کے ساتھ صحابۂ کرام کی جنگیں؛ اتمامِ حجت، دفاع یا کچھ اور؟ | Naeem Ahmed

روم و فارس کے ساتھ صحابۂ کرام کی جنگیں؛ اتمامِ حجت، دفاع یا کچھ اور؟

جناب غامدی صاحب کے مکتبِ فکر کےنظریۂ ”اتمامِ حجت“ پر، جسے یہ مکتبِ فکر ”قانون“ کے طور پر پیش کرتا ہے، کافی تفصیلی بحث ہم کرچکے ہیں۔ اس بحث کا ایک موضوع یہ بھی تھا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے روم و فارس کے خلاف جو جنگیں لڑیں، کیا وہ ”اتمامِ حجت“ کے بعد لڑی گئی تھیں؟ کیا قیصر و کسریٰ کو خطوط لکھنے سے ان کی اقوام پر حجت تمام ہوگئی اور وہ اس بنا پر عذاب کے مستحق قرار پائے؟ اس پہلو سے اس نظریے پر جناب زاہد مغل صاحب اور جناب جمیل اصغر جامی صاحب نے کافی و شافی تنقید کی ہے۔

مسلم اور غیر مسلم | Naeem Ahmed

مسلم اور غیر مسلم

اسلام کے سوا باقی تمام ادیان کے ماننے والوں کو غیر مسلم کہا جاتا ہے۔ یہی تعبیر اُن لوگوں کے لیے بھی ہے جو کسی دین یا مذہب کو نہیں مانتے۔ یہ کوئی تحقیر کا لفظ نہیں ہے، بلکہ محض اِس حقیقت کا اظہار ہے کہ وہ اسلام کے ماننے والے نہیں ہیں۔ اِنھیں بالعموم کافر بھی کہہ دیا جاتا ہے، لیکن ہم نے اپنی کتابوں میں بہ دلائل واضح کر دیا ہے کہ تکفیر کے لیے اتمام حجت ضروری ہے اور یہ صرف خدا ہی جانتا اور وہی بتا سکتا ہے کہ کسی شخص یا گروہ پر فی الواقع اتمام حجت ہو گیا ہے اور اب ہم اُس کو کافر کہہ سکتے ہیں۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد یہ حق اب کسی فرد یا گروہ کو بھی حاصل نہیں رہا کہ وہ کسی شخص کو کافر قرار دے۔

تنقید اور فہم تنقید | Naeem Ahmed

تنقید اور فہم تنقید

اہل علم کا یہ حق ہی نہیں ذمہ داری بھی ہے کہ وہ جس بات کو اپنے فہم کے مطابق مذہب کے خلاف سمجھیں اس پر تنقید کریں۔ اس ذمےداری کا تقاضا ہے کہ اگر کسی فکر پر تنقید مقصود ہو تو وہاں سے کی جائے جہاں سے مخاطب اسے پیش کرتا ہے. مثلا، اگر کوئی صاحب علم کسی مکتبہ فکر کے تصوارات یا عادات پر یہ کہتے ہیں کہ ان کے افعال ”مشرکانہ“ ہیں. اب اگر ہمیں اس پر تنقید کرنی ہوگی تو ہم یہ بتائیں گےکہ یہ معاملہ حقائق کے بر عکس ہے۔ جن لوگوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایسا ہرگز نہیں کرتے یا کرتے تو ہیں لیکن جنھیں مشرکانہ عادات کہا جا رہا ہے، وہ شرک کی تعریف میں داخل نہیں ہوتیں.

یحیٰ بختیار کو نہ بھولیے | Naeem Ahmed

یحیٰ بختیار کو نہ بھولیے

7 ستمبر 1974ء کو قومی اسمبلی نے ایک عظیم الشان کارنامہ سرانجام دیا۔ ایسا کارنامہ جس پر یقیناً پاکستانی قوم فخر کرسکتی ہے۔ طویل مشاورت، مباحثے، مکالمے، وضاحتوں، سوالات، جوابات اور تنقیح و تجزیے کے بعد بالآخر اس نے متفقہ فیصلہ سنا دیا کہ احمدیوں کے دونوں گروہ غیر مسلم ہیں۔

کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟ غامدی صاحب کے نظریہ کفر کے داخلی ابہامات | Naeem Ahmed

کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟ غامدی صاحب کے نظریہ کفر کے داخلی ابہامات

غامدی صاحب کے شاگرد جناب حسن الیاس صاحب نے ”دلیل“ پر اپنی ایک حالیہ تحریر میں شکوہ کیا ہے کہ غامدی صاحب کے نکتہ نظر پر درست تنقید کہیں موجود ہی نہیں تو جواب کیا دیا جائے؟ لوگ یا تو ان کی بات سمجھتے ہی نہیں اور یا ان کی طرف غیر متعلق دعوے منسوب کرکے اس پر نقد کرتے ہیں۔ جس سلسلہ مضمون (غامدی صاحب کا نظریہ تکفیر) پر انہوں نے یہ تحریر لکھی، اس پر ایک عرصہ قبل بندے نے اپنے تئیں ایک تحریر لکھی تھی مگر ان کے گروہ کی طرف سے اسے کوئی لفٹ نہ کروائی گئی۔ ممکن ہے ہماری ہی تنقید میں سقم ہو۔ بہرحال، بحث سے متعلق سمجھتے ہوئے اسے ایک مرتبہ پھر قارئین کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، ممکن ہے کسی کو اس کا متعلق ہونا سمجھ آجائے۔

مسئلہ قادیانیت اور تشکیک کا ہتھیار | Naeem Ahmed

مسئلہ قادیانیت اور تشکیک کا ہتھیار

”میں اپنے آپ کو مسلم کہتا ہوں تو اپنی پہچان متعین کرنے کا حق میرے سوا کسی اور کو کس طرح دیا جا سکتا ہے؟“ جیسے لبرل سیکولر فکر میں لپٹے سوال کیوں اٹھائے جا رہے ہیں؟

غیرمسلم کو کافر کیوں نہیں کہا جا سکتا؟ | Naeem Ahmed

غیرمسلم کو کافر کیوں نہیں کہا جا سکتا؟

سوال اٹھایا گیا کہ قرآن مجید میں ابتداء میں نازل ہونے والی سورہ ”المدثر“ میں اتمام حجت سے قبل ہی اسلام نہ لانے والوں کو کافر قرار دیا جا چکا تھا، تو یہ کہنا کیسے درست ہے کہ کافر کہنے کے لیے اتمام حجت ضروری ہے؟ اس سوال میں کن امور کو خلط کر دیا گیا اس کا جائزہ جواب میں لیا جاتا ہے۔

جاوید غامدی، سلاست اور علمی مباحث | Naeem Ahmed

جاوید غامدی، سلاست اور علمی مباحث

گزشتہ کچھ عرصے سے ورقی اور برقی میڈیا میں محترم جاوید احمد غامدی صاحب کے ”جوابی بیانیہ“ پر بحث چلی آتی ہے۔ سہ ماہی ”جی“ نے بھی اپنی ایک اشاعت میں بساط بھر اس بیانیے کے مذہبی اور نظری پہلوؤں پر گفتگو کو آگے بڑھانے کی کوشش کی تھی۔ ابھی حال ہی میں جناب نادر عقیل انصاری صاحب نے محترم غامدی صاحب کے دلالتِ لسان اور تکفیر کے موقف پر نقد کی نظری اور علمی کاوش کی ہے۔ غامدی صاحب کے مکتبِ فکر کی طرف سے انصاری صاحب کی تحریروں کا جواب بھی سامنے آیا۔ اس میں دلالتِ لسان اصلاً کوئی مذہبی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ خالص نظری مسئلہ ہے، لیکن دین میں متون کی بنیادی اہمیت کی وجہ سے یہ بحث آگے چل کر مذہبی مضمرات حاصل کر لیتی ہے۔

کیا کفر و ضلالت مبنی بر ”دلالت“ ہے؟ | Naeem Ahmed

کیا کفر و ضلالت مبنی بر ”دلالت“ ہے؟

احباب گمرہی کا رشتہ ”دلالت“ سے جوڑ بیٹھے. کہا گیا کہ جہاں دلالت قطعی ہوگی اس کا انکار کفر ہوگا، اور جہاں ظنی ہوگی وہاں حکم بتدریج کم ہوتا جائےگا. مکتب فراہی چوں کہ دلالت کو قطعی مانتا ہے، اب یا تو اس قطعی مفہوم کے منکرین کو کافر کہے یا مان جائے کہ کلام کی دلالت ہر جگہ قطعی نہیں ہے. پھر مثال چپکائی گئی کہ ”لا مطاع و لا معبود الااللہ“ کا مفہوم قطعی مدلول کی حیثیت رکھتا ہے، اس کا ماننا لازم اور انکار کفر ہے.

قرآن میں لفظ مشرک کا استعمال و اطلاق اور حلقہ غامدی کا مؤقف | Naeem Ahmed

قرآن میں لفظ مشرک کا استعمال و اطلاق اور حلقہ غامدی کا مؤقف

میرا موضوع بھی ’’دلیل‘‘ پر شائع ہونے والے زیر بحث مسئلہ جو تکفیر کے جواز یا عدم جواز سے متعلق ہے، سے ملتا جلتا ہے اور اس کا تعلق بھی ان ہی لوگوں سے ہے جو جاوید احمد غامدی صاحب کے شاگرد یا پیروکار ہیں۔ لیکن ان دونوں میں فر ق بس صرف اتنا ہی ہے کہ یہاں لفظ ’’کفر‘‘ استعمال کیا گیا ہے اور وہاں ’’شرک‘‘ کا۔ یہاں ’’کافر‘‘ کی اصطلاح اور وہاں’’مشر ک‘‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ اب میرا عرض یہ ہے کہ قرآن میں مومن، مشرک، مسلم اور کافر کی اصطلاحات بکثرت موجود ہیں اور اس میں کہیں بھی ’’غیر مسلم‘‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کی گئی ہے،گویا کہ یہ ایک غیر قرآنی اصطلاح ہے۔

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور عامۃ المسلمین کی تکفیر | Naeem Ahmed

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور عامۃ المسلمین کی تکفیر

جدید استعماری دور میں بہت لوگوں نے نئے فرقوں کی بنا ڈالی، اور ”اظہار رائے کی آزادی“ کے عَلم تلے اس کا جواز پیش کیا۔ تکفیر کے مسئلے پر ان کا نقطہ نظر بالعموم داخلی طور پر شدید تضاد کا شکار رہا۔ جدید فرقے اپنے وجود کے جواز کے حق میں اپنا استدلال مسلمان اُمت کے روایتی فکر کے نقص و خطا پر تعمیر کرتے ہیں۔ اگر امت کے فکر و عمل درست ہوں تو نئے فرقوں کی ضرورت کا جواز کیسے ثابت ہوگا؟ اگر مسلمانوں میں اپنے دین سے کوئی غفلت پائی جاتی ہے، تو تذکیر و تبلیغ اور تجدید و احیاء کی ضرورت ہے، نئے فرقے کی نہیں۔ لیکن جب یہ نئے مکاتب فکر امت کی تکفیر و تضلیل کر چکتے ہیں، تو ایک اور مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ ہر نیا فرقہ جانتا ہے کہ دینی فکر میں جو نیا پیوند وہ لگا رہا ہے، جلد یا بدیر امت اس کی غلطی پر متنبہ ہوجائے گی، اور اس پر اپنا ردّ عمل ظاہر کرے گی۔ اور اگر کسی نووارد فرقے نے دینی عقیدہ و عمل میں بنیادی تبدیلیاں کی ہیں، تو بالآخر امت اس کی تکفیر و تضلیل کا فیصلہ کرے گی۔

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ، تکفیر کے مسئلے پر فکری انتشار | Naeem Ahmed

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ، تکفیر کے مسئلے پر فکری انتشار

تکفیر کے جواز کے بارے میں بعض متجددین نے ایک خلطِ مبحث پیدا کر دیا ہے، اسی سلسلے کی ایک کڑی جاوید غامدی صاحب کا ”جوابی بیانیہ“ بھی ہے، جس میں تکفیر کے مسئلے میں متشددانہ نقطہ اختیار کیا گیا ہے۔ ایک تو تکفیر کو سرے سے ممنوع قرار دیا ہے جس کی غرض یہ معلوم ہوتی ہے کہ قادیانیوں کی تکفیر کا فیصلہ معرض شک میں ڈال دیا جائے۔ دوسری طرف وہ تمام صوفیائے کرام کے ساتھ یہ معاملہ کرتے ہیں کہ انہیں اسلام سے مختلف، مقابل اور متوازی دین کا پیروکار قرار دیتے ہیں، جس کی کتاب بھی قرآن مجید کے مقابل کوئی اور ہے، اور شریعت بھی اسلامی شریعت سے مختلف ہے۔

مسئلۂ تکفیر: نادر عقیل انصاری کے مضمون پر اعتراضات کا جائزہ | Naeem Ahmed

مسئلۂ تکفیر: نادر عقیل انصاری کے مضمون پر اعتراضات کا جائزہ

جاوید غامدی صاحب کے ”جوابی بیانیے“ پر نادر عقیل انصاری صاحب کا ایک تنقیدی مضمون بعنوان ”مسئلہ تکفیر: غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ“، دلیل میں شائع ہوا تھا۔ تاحال غامدی صاحب کے متنازعہ ”جوابی بیانیے“ پر جو تحریریں سامنے آئی ہیں، ان میں یہ سب سے زیادہ محققانہ مضمون ہے،جس نے غامدی صاحب کے استدلال کی کمزوری محکم دلائل سے واضح کر دی ہے۔ غامدی صاحب نے ”جوابی بیانیے“ میں تکفیر کے جواز کا انکار کیا ہے۔ نادر عقیل انصاری صاحب کا موقف ہے کہ علماء اور امت کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ مبتدعہ اور گمراہ افراد اور گروہوں کی تکفیر کر سکیں۔ ان کا استدلال ہے کہ قرآن مجید میں تکفیر کی ممانعت نہیں آئی، احادیث میں اس کا جواز ثابت ہے، اور عدالتی اور معاشرتی امور میں کئی شرائع اس پر موقوف ہیں۔ اور جس شے پر شرائع کا نفاذ موقوف ہو، وہ کیسے ممنوع ہو سکتی ہے؟

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور مسئلہ تکفیر: چند اعتراضات | Naeem Ahmed

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور مسئلہ تکفیر: چند اعتراضات

راقم کا ایک مضمون ”دلیل“ پر شائع ہوا تھا۔ اس کا عنوان تھا ”جاوید غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ: تکفیر کے مسئلے پر فکری انتشار۔“ ہماری خوش نصیبی ہے کہ المورد کے صفِ اول کے سکالر، ہمارے محترم آصف افتخار صاحب نے جاوید غامدی صاحب کے دفاع کے لیے قلم اُٹھایا ہے (۱)۔ المورد کے کسی بھی اہم فرد کی جانب سے ہماری تنقیدوں پر یہ پہلا باقاعدہ جواب تصور کیا جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ جاوید احمد غامدی صاحب کوئی جواب دینے سے تحریری معذرت کر چکے ہیں۔ بہتر تو یہی تھا کہ غامدی صاحب خود بات کرتے، کیونکہ جب یہ بحث ذرا آگے بڑھے گی، تو سابقہ تجربے کی روشنی میں یہ خدشہ ہے کہ غامدی صاحب اپنے کسی بھی شاگرد کی تحریروں سے اظہارِ برأت کرنے میں لمحہ بھر دیر نہیں لگائیں گے، اور یوں یہ تمام مکالمہ بےسُود رہےگا۔ تاہم، ہم اس کو بھی غنیمت جانتے ہیں کہ المورد کے اصحابِ علم نے علمی و فکری مکالمے میں شرکت کا فیصلہ فرمایا ہے۔

مسلمان کو کافر کہنا کیوں حرام ہے؟ اصول تکفیر کیا ہیں؟ (2/2) | Naeem Ahmed

مسلمان کو کافر کہنا کیوں حرام ہے؟ اصول تکفیر کیا ہیں؟ (2/2)

عصر حاضر فتن، دجل، غفلت، ذہنی ارتداد اور ذہنی تخریب کاری کا دور ہے۔ ان فتنوں میں ایک بہت بڑا فتنہ، فتنہ تکفیر ہے۔ دشمنان اسلام مسلمانوں کے درمیان پھوٹنے والے تمام فروعی اور اصولی اختلافات کے تفصیلی مطالعہ کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مسلمانوں کی قوت کو باہم ٹکراؤ کے ذریعہ ختم کرنے کا طریقہ ان کے درمیان فرقہ وارانہ اختلافات کو بڑھا کر تکفیری سوچ اور فکر کو ہوا دینا ہے کیونکہ کسی مسلمان کی تکفیر کے بعد اسے مرتد قرار دے کر واجب القتل قرار دے دینا ہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے مسلمان انتہائی اخلاص اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ ایک دوسرے کو انفرادی ،قومی اور بین الاقوامی سطح پر ختم کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے۔

مسلمان کو کافر کہنا کیوں حرام ہے؟ اصول تکفیر کیا ہیں؟ (1/2) | Naeem Ahmed

مسلمان کو کافر کہنا کیوں حرام ہے؟ اصول تکفیر کیا ہیں؟ (1/2)

عصر حاضر فتن، دجل، غفلت، ذہنی ارتداد اور ذہنی تخریب کاری کا دور ہے۔ ان فتنوں میں ایک بہت بڑا فتنہ، فتنہ تکفیر ہے۔ دشمنان اسلام مسلمانوں کے درمیان پھوٹنے والے تمام فروعی اور اصولی اختلافات کے تفصیلی مطالعہ کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مسلمانوں کی قوت کو باہم ٹکراؤ کے ذریعہ ختم کرنے کا طریقہ ان کے درمیان فرقہ وارانہ اختلافات کو بڑھا کر تکفیری سوچ اور فکر کو ہوا دینا ہے کیونکہ کسی مسلمان کی تکفیر کے بعد اسے مرتد قرار دے کر واجب القتل قرار دے دینا ہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے مسلمان انتہائی اخلاص اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ ایک دوسرے کو انفرادی ،قومی اور بین الاقوامی سطح پر ختم کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے۔

کفار و مشرکین کی تکفیر پر غامدی صاحب کے اپنے فتوے | Naeem Ahmed

کفار و مشرکین کی تکفیر پر غامدی صاحب کے اپنے فتوے

ہمارے محترم دوست جناب سمیع اللہ سعدی صاحب نے تکفیر کے مسئلے پر غامدی صاحب کا ایک مضمون کل ارسال فرمایا اور ہمارا نقطہ نظر جاننے کی خواہش ظاہر کی. اس کا تفصیلی جواب زیرتحریر ہے. ان کی خواہش کی تعمیل تکمیل میں ایک مختصر تحریر میرے محترم غامدی صاحب کے غور و خوض کے لیے حاضر خدمت ہے. اس تحریر میں مشرکین اور کفار کے خلاف غامدی صاحب کے فتوے ان کی دو کتابوں مقامات اور البیان سے جمع کردیے گئے ہیں. امید ہے سعدی صاحب اسے ان کی خدمت میں ارسال کردیں گے، اور ان سے صرف یہ پوچھ لیں گے کہ حضرت والا آپ تو سب کو کافر و مشرک کہتے ہیں لیکن امت کے علماء کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ کسی کو کافر و مشرک نہیں کہہ سکتے۔

WHY DO MUSLIMS OPPOSE THE SCOTUS SAME-SEX MARRIAGE VERDICT | Adnan Ejaz

WHY DO MUSLIMS OPPOSE THE SCOTUS SAME-SEX MARRIAGE VERDICT

WHY DO MUSLIMS OPPOSE THE SCOTUS SAME-SEX MARRIAGE VERDICT

Seed of arrogance | Nikhat Sattar

Seed of arrogance

MANY Muslims around the world have been conditioned to believe that they are the preferred ones of God. The rest of the people are ‘infidels’, and, as such, are to be destroyed or ostracised one way or another. This belief has been extended to Muslims of different sects, with disastrous consequences.

Self Purification and Fasting | Nikhat Sattar

Self Purification and Fasting

islamic guidance has come through the Prophet (sws) to purify humankind and perfect their moral character. The Quran has given instructions on how this may be worked towards- salah, saum and zakah. Fasting is for God and is a sure way to assist in self purification, provided it is done without the external trappings of commercial religion.

Protection or Subjugation? | Nikhat Sattar

Protection or Subjugation?

The men who sre members of the Council of Islamic Ideology have come up with yet more pronouncements which they ironically enough, term as a model women protection. It is as un Islamic as are kiling and adultery. The result of deliberate or otherwise misinterpretation of Quranic verses and reading them in piece meal has caused much havoc to the lives and safety of women through out the Muslim world and especially in Pakistan. Viewed holistically, the words nushuz and daraba on which the entire wife beating premise is based have alternate meanings that have been considered by scholars in other countries but not in Pakistan.

Religious Terrorism | Nikhat Sattar

Religious Terrorism

The Lahore carnage was seemingly claimed by the Taliban, but the thousands of people shouting for demands to declare Qadri as a martyr and protesting against the Women Protection Bill were all links of the same chain.

I dreamed by Sheikh Abdul Malik | Nikhat Sattar

I dreamed by Sheikh Abdul Malik

A poem on Quaid Azam's birth anniversary

Crime and Punishment (influenced by Ghamidi Saheb’s article- Islamic Punishments) | Nikhat Sattar

Crime and Punishment (influenced by Ghamidi Saheb’s article- Islamic Punishments)

Islamic punishments are not to be confused with state laws and are the extreme. They are God's azaab on those who claim to be believers and yet, knowingly, commit sins. Punishments must take the external situations of perpetrators as well as the manner in which these may have influenced those who commit crimes.

The Supreme Struggle | Nikhat Sattar

The Supreme Struggle

Hazrat Hajirah's story as she ran around the hills of Safa and Marwah is often forgotten for its poignancy, the extent of her effort and he total belief in God.

Monopolising Heaven | Nikhat Sattar

Monopolising Heaven

The belief that non Muslims are kafirs, and that unless people of other religions, as well as atheists, accept Islam, they will all go to hell, is very common among Muslims. It has given rise to much arrogance, but more seriously, extreme violence against non Muslims. Not only do the Taliban and IS derive their ideologies from this; every Muslim sect believes that their sect is the chosen one, and therefore, all others are doomed to hell.

الاسلام و الدولة — السرد المضاد | Javed Ahmad Ghamidi

الاسلام و الدولة — السرد المضاد

الوضع الذي يحدث اليوم في العالم للإسلام والمسلمين من بعض المنظمات المتطرفة, هو بالحقيقة النتيجة السيئة للأيديولوجية التي تدرس في مدارسنا الدينية، مع ذلك الفكر الذي نشروه ليلاً و نهاراً من الحركات الإسلامية و الأحزاب السياسية.

پارلیمنٹ کی بالادستی | Javed Ahmad Ghamidi

پارلیمنٹ کی بالادستی

اسلام اور جمہوریت، دونوں کا تقاضا ہے کہ پارلیمنٹ کے فیصلوں کے سامنے عملاً سر تسلیم خم کر دیا جائے۔ اِس کے معنی یہ ہیں اور سیاسی اقدار سے واقف ہر شخص یہی سمجھے گا کہ جو فیصلہ ہو جائے، اُس کے نفاذ میں رکاوٹ نہ پیدا کی جائے، اُس کے خلاف شورش نہ برپا کی جائے، کاروبار حکومت کو اُسی کے مطابق چلنے دیا جائے، اپنے حامیوں کے جتھے منظم کر کے اُن کے ذریعے سے نظم و نسق کو معطل کرنے کی کوشش نہ کی جائے، اُس کے خلاف ہتھیار نہ اٹھائے جائیں اور لوگوں کو آمادۂ بغاوت نہ کیا جائے، یہاں تک کہ اُس فیصلے کے نتیجے میں اگر حکومت کسی فرد کے خلاف کوئی اقدام کرتی ہے تو اُس کو بھی صبر کے ساتھ برداشت کر لیا جائے۔ میں جس ہستی کوخدا کا پیغمبر مانتا ہوں، اُس نے مجھے یہی ہدایت فرمائی ہے۔

Supremacy of the Parliament | Javed Ahmad Ghamidi

Supremacy of the Parliament

It is the requisite of both Islam and democracy that all rulings of the parliament be practically submitted to. This means – and everyone aware of political values will also agree – that no hindrance should be created in the implementation of such a ruling, no hue and cry should be raised against it, the affairs of the government should be allowed to function according to it, through protest gatherings no attempt should be made that impairs law and discipline, picking up arms should not be resorted to against it and people must not be enticed into rebellion against it – so much so, if as a result of this ruling a government takes action against an individual, then such an action should be borne with patience. The person whom I regard as God’s prophet has given me this very guidance.

Islam and Nationhood | Javed Ahmad Ghamidi

Islam and Nationhood

Like colour, ethnicity, language, culture and country, religion is also an important factor is determining nationhood. Muslims, through over centuries, have become a nation on the basis of their religion. If they are faced with a challenge, at least in the Indian sub-continent, they fervently express this nationhood. On this very basis, Quaid e Azam had said that the Muslims of this region are a separate nation with regard to all the principles of international law. This is because their culture, social trends, language and literature, disciplines of knowledge, customs and traditions, mental framework, temperament, law, moral principles, style of life and even their calendar and way of naming children is distinct from other nations.

اسلام اور قومیت | Javed Ahmad Ghamidi

اسلام اور قومیت

رنگ، نسل، زبان، تہذیب و ثقافت اور وطن کی طرح مذہب بھی قومیت کی تشکیل کے عوامل میں سے ایک اہم عامل ہے۔ صدیوں کے تعامل سے مسلمان اب اِسی حوالے سے ایک قوم بن چکے ہیں اور اگر کوئی چیلنج درپیش ہو تو کم سے کم برصغیر میں پورے جوش و جذبے کے ساتھ اپنی اِس قومیت کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے اِسی بنا پر فرمایا تھا کہ یہاں کے مسلمان بین الاقوامی قانون کے تمام ضوابط کے لحاظ سے ایک الگ قوم ہیں، اِس لیے کہ دوسری اقوام کے مقابل میں اُن کی تہذیب، ثقافت، زبان و ادب، علوم و فنون، رسوم و روایات، ذہن، مزاج، قانون، اخلاقی ضوابط اور اسلوب حیات، یہاں تک کہ اُن کی تقویم اور نام رکھنے کا طریقہ، سب منفرد خصوصیات کے حامل ہیں۔

Khilāfah | Javed Ahmad Ghamidi

Khilāfah

It is an undeniable fact that for the past many centuries, the word khilafah is being used as a term. However, it is certainly not a religious term. It needs to be understood that religious terms cannot be coined by scholars like Razi, Ghazali, Mawardi, Ibn Hazm and Ibn Khuldun. Similarly, not every word which Mulims start using in a particular sense becomes a religious term. On the contrary, religious terms can only be coined by God and His messengers, and are acceptable only when their meaning as a term is validated from the Qur’an and Hadith or other divine scriptures. Words as sawm, salah, hajj and ‘umrah etc are regarded as religions terms because God and His messengers have accorded them this status, and have used them at various instances as terms. On the other hand, the word khilafah is a word of the Arabic language and means “vicegerency,” “succession,” and “political authority.”

خلافت | Javed Ahmad Ghamidi

خلافت

اِس میں شبہ نہیں کہ خلافت کا لفظ اب کئی صدیوں سے اصطلاح کے طور پر استعمال ہوتا ہے، لیکن یہ ہرگز کوئی دینی اصطلاح نہیں ہے۔ دینی اصطلاحات رازی، غزالی، ماوردی، ابن حزم اور ابن خلدون کے بنانے سے نہیں بنتیں اور نہ ہر وہ لفظ جسے مسلمان کسی خاص مفہوم میں استعمال کرنا شروع کر دیں، دینی اصطلاح بن جاتا ہے۔ یہ اللہ اور اُس کے رسولوں کے بنانے سے بنتی ہیں اور اُسی وقت قابل تسلیم ہوتی ہیں، جب اِن کا اصطلاحی مفہوم قرآن و حدیث کے نصوص یا دوسرے الہامی صحائف سے ثابت کر دیا جائے۔ صوم، صلوٰۃ اور حج و عمرہ وغیرہ اِسی لیے دینی اصطلاحات ہیں کہ اُنھیں اللہ اور اُس کے رسولوں نے یہ حیثیت دی ہے اور جگہ جگہ اُن کے اصطلاحی مفہوم میں استعمال کیا ہے۔ لفظ ’خلافت‘ اِس کے برخلاف عربی زبان کا ایک لفظ ہے اور نیابت، جانشینی اور حکومت و اقتدار کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔

State and government | Javed Ahmad Ghamidi

State and government

State and government are two separate entities. In political science terminology, a state signifies the political organisation of society, while a government refers to those in authority. Consider first the state. The types of state that have emerged till now are of three kinds: First, the state founded in the Arabian Peninsula. The Almighty made it specific for His own self after He Himself had ascertained its boundaries. Thus, at His behest the universal centre of His worship and preaching was set up in Arabia, and at the end of seventh century AD it was declared through Muhammad (pbuh): ‘No non-Muslim can become its citizen till the Day of Judgement’. Earlier, the same status was enjoyed by Palestine for centuries. The addressees of Islam and the Islamic Shariah here too are individuals in their various capacities. However, if for such a state it is said that its religion is Islam and only Islam shall reign in it, then this statement is understandable on all grounds. It cannot be objected to.

ریاست اور حکومت | Javed Ahmad Ghamidi

ریاست اور حکومت

ریاست اور حکومت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ علم سیاست کی اصطلاح میں ریاست معاشرے کی سیاسی تنظیم ہے اور حکومت کا لفظ اُن ارباب حل و عقد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو اُس میں نظم و نسق قائم رکھنے کے ذمہ دار ہوں۔ پہلے ریاست کو لیجیے۔ اِ س کی جو اقسام اب تک دنیا میں نمایاں ہوئی ہیں، وہ اصلاً تین ہی ہیں: ایک، جزیرہ نماے عرب کی ریاست جس کے حدود خود خالق کائنات نے متعین کر کے اُس کو اپنے لیے خاص کر لیا ہے۔ چنانچہ اُسی کے حکم پر اُس کی دعوت اور عبادت کا عالمی مرکز اُس میں قائم کیا گیا اور ساتویں صدی عیسوی میں آخری رسول کی وساطت سے اعلان کر دیا گیا کہ ’لا یجتمع فیھا دینان‘ ’’اب قیامت تک کوئی غیر مسلم اِس کا شہری نہیں بن سکتا۔‘‘ اِس سے پہلے کئی صدیوں تک یہی حیثیت ریاست فلسطین کی تھی۔ اسلام اور اسلامی شریعت کے مخاطب یہاں بھی اپنی مختلف حیثیتوں میں افراد ہی ہوں گے، تاہم اِس طرح کی ریاست کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ اِس کا مذہب اسلام ہے اور اِس میں حکومت بھی اسلام ہی کی ہو گی تو یہ تعبیر ہر لحاظ سے قابل فہم ہے۔ اِس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔

Islam and the State: A Counter Narrative | Javed Ahmad Ghamidi

Islam and the State: A Counter Narrative

The situation which today has been created in the whole world for Islam and Muslims by certain extremist organizations is the evil consequence of the ideology taught in our religious seminaries, and also propagated day and night by Islamic movements and religious political parties. The true understanding of Islam in contrast to this has been presented by this writer in his treatise Mizan. This understanding actually constitutes a counter narrative. It has been repeatedly pointed out by this writer that when in a Muslim society anarchy is created on the basis of religion, then the remedy to this situation is not advocacy of secularism. On the contrary, the solution lies in presenting a counter narrative to the existing narrative on religion. Its details can be looked up in the aforementioned treatise.

اسلام اور ریاست — ایک جوابی بیانیہ | Javed Ahmad Ghamidi

اسلام اور ریاست — ایک جوابی بیانیہ

اِس وقت جو صورت حال بعض انتہا پسند تنظیموں نے اپنے اقدامات سے اسلام اور مسلمانوں کے لیے پوری دنیا میں پیدا کر دی ہے، یہ اُسی فکر کا مولود فساد ہے جو ہمارے مذہبی مدرسوں میں پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے، اور جس کی تبلیغ اسلامی تحریکیں اور مذہبی سیاسی جماعتیں شب و روز کرتی ہیں۔ اِس کے مقابل میں اسلام کا صحیح فکر کیا ہے؟ اِس کو ہم نے اپنی کتاب ’’میزان‘‘ میں دلائل کے ساتھ پیش کر دیا ہے۔ یہ درحقیقت ایک جوابی بیانیہ (counter narrative) ہے اور ہم نے بارہا کہا ہے کہ مسلمانوں کے معاشرے میں مذہب کی بنیاد پر فساد پیدا کر دیا جائے تو سیکولرازم کی تبلیغ نہیں، بلکہ مذہبی فکر کا ایک جوابی بیانیہ ہی صورت حال کی اصلاح کر سکتا ہے۔

Pakistani Laws- are they Islamic? | Nikhat Sattar

Pakistani Laws- are they Islamic?

Pakistan leads the world in using blasphemy laws to punish individuals. Rarely a day passes when violent murder is not perpetrated in the name of religious fervor by fanatic individuals or crazy mobs, incited by calls from imams. Just a couple of days ago, a young illiterate Christian woman was burning papers in her house when her employer who owned her brick kiln worker husband, lakhs of rupees accused her of burning the Qur’an. A mob hounded the couple, called upon to punish them by calls from the local mosque loudspeakers, and after unspeakable torture, threw them into the same fire that burned their bricks. May God rest the couple in heaven and bring their tormentors to His justice. This was soon followed by a police officer hacking a man to death, allegedly because he had said something negative about the companions of the Prophet (sws).

The Spirit of Sacrifice | Nikhat Sattar

The Spirit of Sacrifice

Prophet Abraham (asm) dreamt one night that he was sacrificing his beloved son, Ismael (asm), giving him up to God. There were probably other interpretations he could have drawn: he decided to adopt one that would test his love for God the most. In consultation with his son, he proceeded to implement the dream in submission to what he perceived to be the will of his Creator. As he opened his eyes, he saw a sheep slaughtered and Ismael standing there. God had accepted this supreme act of sacrifice, and promised Abraham (asm) that it shall be remembered in the world for all time to come. ‘We ransomed Ismael for a great sacrifice’ (37:107). The prophet’s story, his piety and single minded devotion to God finds mention in the Qur’an several times.

Whither the Muslims | Nikhat Sattar

Whither the Muslims

For the last several days, Israeli forces have been pounding the Gaza strip, killing and destroying innocent Palestinians, their toll rising each day. While rockets that are fired from Gaza at Tel Aviv with no fatality get the status of breaking news from western news channels, the retaliation in the form of indiscriminate murder of innocent civilians is a consistent strategy that hardly gets Israel a rap on the knuckles. In Iraq, Syria, Nigeria and Afghanistan, Muslims themselves transform into devils incarnate for those who dare to differ, killing mercilessly in the name of corrupt and distorted versions of religious beliefs that have no relationship with principles of Islam. Closer to home, a war on terrorism wages, supposedly in the north, but in reality sectarian, social and economic conflicts are prevalent throughout the country. More than 800,000 persons have been displaced and provinces are refusing to provide them refuge, citing security reasons.

Religious Extremism | Javed Ahmad Ghamidi

Religious Extremism

ریاست پاکستان کے لیے اِس وقت سب سے بڑا مسئلہ مذہبی انتہا پسندی ہے۔

اپنے کل کو روشن کیجیے | Rehan Ahmed Yusufi

اپنے کل کو روشن کیجیے

اولاد انسان کا بہترین سرمایہ ہے۔ یہ اس کی ذات کا تسلسل ہی نہیں، اس کی امیدوں اور خواہشوں کا سب سے بڑا مرکز بھی ہے۔ ہم میں سے کون ہے جو اپنی اولاد کے برے مستقبل کا تصور بھی کر سکے۔ لیکن اولاد کا اچھا مستقبل صرف خواہشوں اور تمناؤں کے سہارے وجود پذیر نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ایک واضح اور متعین لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ ذیل میں ہم اختصار کے ساتھ وہ لائحہ عمل بیان کر رہے ہیں جو دنیا اور آخرت دونوں میں آپ کی اولاد کو آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے گا۔

اللہ کے سند یافتہ | Naeem Baloch

اللہ کے سند یافتہ

سکول سے واپسی پر معزکچھ الجھا الجھا سا لگا تھا۔اس کی امی اس انتظار میں تھی کہ وہ اپنی پریشانی خود بتائے ۔ اصل میں وہ کھانے کی میز پر اس کا چہرہ پڑھ چکی تھیں لیکن اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ پریشانی کس نوعیت کی ہے۔ جب اس نے آرام کرنے کے بجائے کتابیں دیکھنا شروع کیں تو زینب بی بی کو یہ بھی معلوم ہو گیا کہ معاملہ کچھ لکھنے پڑھنے ہی سے متعلق ہے۔

Religion and Secularism | Nikhat Sattar

Religion and Secularism

The past several years have been tumultuous, to say the least, especially for us in Pakistan. We have seen rampant killing almost everywhere in the country, based on religion, sect, language, race and ethnicity. Various terms and jargons have entered public discourse, among them being religiousness, Islamism and secularism. Many of these are used synonymously and interchangeably and it is disturbing to note that even scholars and analysts use these terms without consideration of how their connotations have entered our collective psyche. Even worse is the situation when these terms are translated into Urdu, when secularism, for example, is equated with “la-deeniyat”, or irreligiousness. Thus he who is secular is without any religion. For some reason, they also see secular people as those with loose morals.

Are Taliban Justified in Taking Human Life? | Concerned Citizen

Are Taliban Justified in Taking Human Life?

The Qur'an claims there is no contradictions in its text. What it says in one part of the book must agree with the other part. If that is not the case, it cannot be claimed that the book is authored by God. Humans have contradictions because, unless they are stubborn, they learn, unlearn, and relearn all the time. God is perfect; there is no learning curve in His case. The Qur'an challenges the reader to reflect upon its verses carefully and see the evidence of this reality. "Do they not ponder over the Qur'an? Had it been from anyone other than God, they would have found in it a lot of discrepancy." (4:82)

Does Society Want Peace? | Nikhat Sattar

Does Society Want Peace?

The Pakistani nation, hostage to some of the worst forms of terrorism, much of it inbred, has been debating on whether or not talks with the Taliban would be productive. Most of the discussions revolve around whether it is justifiable to sit across the table with those who have caused thousands of civilians, among them children, as well as security forces to be killed or crippled. A large group favours dialogue, arguing that serious talks have never really been given a chance whilst the so called war on terror remained a proxy war for the US. Predictions are bandied about, and the best of analysts can do just that- analyse a situation that has become alarmingly unequal.

Talibans Demand to Implement The Shari’ah Law | Concerned Citizen

Talibans Demand to Implement The Shari’ah Law

​One important allegation Taliban make against Pakistani rulers is that they are not implementing the Islamic Shari'ah. By failing in doing it, they claim, they have become Kafir (incorrigible denier of the truth), Fasiq (deliberate transgressor of God's law), and Zalim (unjust) in the eyes of God. The Qur'an says: "Those who do not judge by what God has sent down are Kafir ... Zalim ... Fasiq." (5:44,45,&47) The Qur'an tells us that Kafir and Munafiq (the hypocrites) should be fought against and dealt with sternly: "Prophet, fight against those who deny the truth (Kuffar) and the hypocrites (Munafiqin) and deal severely with them." (Qur'an; 66:9) And that is exactly what Taliban are doing with the Pakistani Muslim rulers and whoever is supporting them in their system. If their claim that they are following exactly what God has desired them to do is not responded to properly, they will continue to influence the hearts and minds of a large number of Muslims.

Sard Jang, Plastic k Chapal, Musalman aur Kafir | Yede Beza

Sard Jang, Plastic k Chapal, Musalman aur Kafir

ماما جب بهی افغانستان کے حالات پر تبصره کرتے تو ان کا آخری جملہ یہ هوتا تها " هائے. وه سرد جنگ اور پلاسٹک کے چپل کا زمانہ بہت اچها تها. یہ تو پتہ چلتا تها کہ کون مسلمان هے کون کافر"

Hayat e Dil Waraq Waraq | Yede Beza

Hayat e Dil Waraq Waraq

ماں کو قرآن پڑهنا نہیں آتا تها. وه هر لیکر پر انگلی پهیرتی تهی. نانا نے اسے بس اتنا سکهایا تها بسم الله الرحمن الرحیم..الله جی! تو نے جو کہا هے سچ کہا هے..محمد جی! تو جو لایا هے سچ لایا هے بسم الله الرحمن الرحیم..الله جی! تو نے جو کہا هے سچ کہا هے..محمد جی! تو جو لایا هے سچ لایا هے بسم الله الرحمن الرحیم..الله جی! تو نے جو کہا هے سچ کہا هے..محمد جی! تو جو لایا هے سچ لایا هے

Khat Kon Prhay? | Yede Beza

Khat Kon Prhay?

" جب پڑهنا نہیں آتا تو اتنی بڑی پگڑی کیوں باندهی هے"

Javed Ghamidi Sb ki Qadam Bosi | aamir-amin

Javed Ghamidi Sb ki Qadam Bosi

پچھلے دنوں جب میں غامدی صاحب سے دوبارہ ملا تو نشست کے اختتام پر میں نے کچھ دوستوں کا سلام ان تک پہنچایا اور ساتھ میں ڈرتے ڈرتے ایک اور دوست کی یہ بات ان تک پہنچائی کے میں ان کی طرف سے غامدی صاحب کے پیر چوموں، ان کی شدید خواہش ہے کے اگر انھیں زندگی میں موقع ملا تو وہ غامدی صاحب کے پیر چومنا چاہیں گے. اس پر غامدی صاحب

2 Quomi Nazarya ki Asas… | Yede Beza

2 Quomi Nazarya ki Asas…

ایک مرتبہ پهر پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے کی صورت میں فرغانہ سے بهگایا هوا ظہیر الدین دو قومی نظریے کا بابر اعظم هوا..اور دو قومی نظریہ بہادر شاه ظفر کی شاعری تک سلامت رها. بیچ میں اگر کہیں هندووں نے اپنے فرائض منصبی (غلامی) سے رو گردانی کی کوشش کرنی چاهی تو حضرت شاه صاحب نے اپنے ایک خواب کی بنیاد پر احمد شاه ابدالی کو دعوت دی، احمد شاه ابدالی نے دو قومی نظریے کا پاسبان بن کر هندووں کو واپس اپنے فرض منصبی پر فائز کر دیا...چونکہ مغل ظل الہی تاریخ و ادب سے گہری دلچسپی رکهتے تهے اس لیے اپنی تزکیں لکهنے کا ساته ساته مسلمان قوم کو اپنی تاریخ پر فخر کرنے کے لیے تاریخی مقامات تعمیر کرتے رهے...جبکے هندووں کی طرح ایک اور بدبخت قوم انگریزوں نے دو قومی نظریے پر خواب غفلت میں حملہ کر دیا..

Mama Qadir ki Kunji Aur Dawat e Deen | Yede Beza

Mama Qadir ki Kunji Aur Dawat e Deen

پیر صاحب لوگ هم کو ساده بولتا هے لیکن هم اتنا بهی ساده نہیں هے..وه چور بدبخت پیٹی تو لے گیا لیکن کهولے گا کیسے؟؟؟؟؟؟اور پهر هنس کے جیب سے چابی نکال کے سب کو دکهائی.....چابی تو همارے پاس هے

Na Jain….Qari Sab. | Yede Beza

Na Jain….Qari Sab.

یہ خدا کے هوتے زمیں پر خدا بن بیٹهنے والے فرعون هوں. یا دولت کے زور پر انسانوں کا خون پینے والے قارون یہ حلال حرام کے جنتر پهونکنے والے پروهت هوں یا خدا کے نام پر لوگوں کو مارنے والے جلاد یہ حسن بن صبا کی طرح جهوٹی جنتوں کے خالق هوں یا اکبر کی آئین اکبری کے کاتبین یہ مادے کے کرشمات کے پجاری هوں یا عورت کو نچوانے والے دلال.

Kawa Halal Hay….Ghamidi Sab…. | Yede Beza

Kawa Halal Hay….Ghamidi Sab….

پهر دین میں وحدت الوجود نے جگہ بنا لی..کدو اور پائنچے سنت قرار پاے. پهر عزاداری عشق رسول قرار پائی..جاود حق قرار پایا...مردوں کا سننا جزو ایمان هو گیا..پیغبر کی شادی نو سال کی بچی سے کرادی..مومنوں پر لازم قرار پایا کہ ان کو بزور شمشیر ریاست پر قبضہ کرنا هے اور پوری دنیا کو مسلمان کرنا هے یا پهر زمی

Taqi Waly Khat | Yede Beza

Taqi Waly Khat

کوئی ایسا خط سامنے آجاۓ جو مروجہ ڈگر سے ھٹ کر لکھا گیا ھو اور اس میں "پھڑ لؤو، پھڑ لؤو" بھی نہ لکھی ھوئی ھو، جیسا غامدی صاحب لکھتے ھیں، یدِ بیضا جی، قاری حنیف ڈار، اختر عمر یا حنیف سمانہ صاحب لکھتے ھیں تو ھر طرف سے شرعی ذیلدار یہی کہتے نظر آتے ھیں " پتا نہیں کون جاھل ھیں جو تمھیں ایسے خط لکھ کر بھیج دیتیے ھیں، یہ کوئی خط ھیں، اصلی خط تو وہ ھیں جو ھم لکھتے ھیں یا ھمارے دوست احباب لکھتے ھیں، وہ طاقی والے خط ھی اصل میں خط ھیں جنہیں پڑھ کر سرُور سا آ جاتاھے"​

Hakeemullah Mehsood ki Moat aur Kadoo Sharif | Yede Beza

Hakeemullah Mehsood ki Moat aur Kadoo Sharif

ان کو نہ کدو سی دلچسپی هے نہ حکیم الله مسعود سے..ان کو تو بس میاں جی کا مال بیچنا هے!!!!!!الله ان کو جزائے خیر دے....مرده کیسے سوا لاکه کا هوتا هے؟؟؟؟اب سمجهے

Facebook Aur Zinda Quomain | Yede Beza

Facebook Aur Zinda Quomain

یہاں ملالہ جیسے واقعے پر دانشور ایک دوسرے کا جاهل ٹهہراتے هیں یہاں جعلی گاڑی میں وفاقی وزیر اور دانشور دونوں بیٹه کے قسمیں کهاتے هیں کہ هاں پانی سے چل سکتی هے!!!!! یہاں بلفٹ پروف..بم پروف..سردی پروف کنٹیروں میں لوگ دهرنے دیتے هیں..یہاں ایک پاگل کپیٹل سٹی کو یرغمال رکهتا هے..اور کمانڈوز کے بجائے نہتا آدمی احمقوں کی طره اس پر چهپٹے مارتا هے.. .ڈاکٹر عبدالسلام کیوں نہیں پیدا هوتا!!!!!اور کیوں ہو؟غامدی صاحب کو کیوں نہیں سمجهتے!!!!!اور کیسے سمجھیں؟

2 Takay ka Dais Aur Ghamidi Ka inkaar e Hadith? | Yede Beza

2 Takay ka Dais Aur Ghamidi Ka inkaar e Hadith?

چونکہ برصغیر میں دین کی احیاء کا صحیح تصور دیوبند اور بریل سے پهوٹا هے..چونکہ شبلی دیوبندی نہیں تهے. اور امام فراهی سر سید سے تعلق رکهتے تهے.چونکہ امین احسن اصلاحی جماعت اسلامی میں تهے اور چونکہ غامدی صاحب ان کے شاگرد هیں..چونکہ وه سنت اور حدیث کی الگ الگ تعریف کرتے هیں.چونکہ قرآن کا منشاء اسلاف نے اپنے کتابون میں کشید کر لیا هے اور کسی کوبهی یہ حق حاصل نہیں هے کہ وه اسلاف سے روگردانی کی جسارت کرے.. چونکہ تجد د پسند هیں اس لیے نووارد هیں اور طالبان کے حامی نہیں هیں اس لیے بهان متی کا کنبہ هیں.چونکہ ان کا نام جاوید احمد نہیں تها بلکہ بچپن میں شفیق تها...چونکہ وه تصوف کو دین کی صحیح تعبیر نہیں مانتے..چونکہ وه عرب نہیں هیں اس لیے غامدی نہیں کہلا سکتے..چونکہ پرویز حدیث کو نہیں مانتا تها. اس لیے خیال هے کہ غامدی بهی نہیں مانتے هوں گے....اور چونکہ غامدی صاحب نے مولانا وحید الدین خان کی تعریف کی هے

Brastan | Yede Beza

Brastan

ضیاء بابا همارا بڑستن کابل لے کر گئے تهے...آج همارے بڑستن کے ٹکڑے کبهی وزیرستان سے ملتے هیں..کبهی سوات سے ملتے هیں اور کبهی بلوچستان سے

Qari Hanif Dar k Name Dosra Khat | Yede Beza

Qari Hanif Dar k Name Dosra Khat

جو لوگ افغان تاریخ سے واقف نہیں هیں وه افغان طالبان جہاد کے بارے میں همیشہ اسی معصومانہ حیرت کا اظہار کرتے هیں کہ اگر امریکہ غاصب کے خلاف بهی جہاد واجب نہیں هے تو پهر تو اصلا جہاد هے هی نہیں لیکن یہ بات اتنی سادہ نہیں هے پاکستانی طالبان اور افغانی طالبان کی بنیادی سوچ میں کوئی فرق نہیں هے..ذرا اپنے ذهنوں پر زور دیجیے اگر یاد نہ آئے تو میں کچه جهلکیاں دکها دیتا هوں

Aslaaf ka Literature | Yede Beza

Aslaaf ka Literature

وحی مشکوک کر دی گئی هے..قرآن مجید کی تدوین کو دور عثمان میں مدون کرنے کا پورا زور لگایا گیا هے..اور جب مصحف عثمانی کو اسٹیبلش کر لیا گیا تو پهر فرمایا کہ ابن ذیاد نے دو هزار خامیاں درست کیں..اور رهی سہی کسر حجاج سے پوری کروائی گئی جس کے بارے میں کہا گیا کہ گیاره مقامات پر حجاج نے درستگی کی

Balaa | Yede Beza

Balaa

یہ کون سی بلا هے جو پشاور میں بہنے والی خون کی ندیوں پر تو خاموش هے لیکن کبهی برما اور کبهی شام کے امت مسلمہ کے مروڑ اٹهتے هیں یہ کون سی بلا هے جو اوبامہ کے پتلے جلاتا هے لیکن طالبان کے ڈر سے مزاکرات مزاکرات کا راگ الاپتا هے یہ کون سی بلا هے جو زرداری کو تو سڑکوں پر گهسیٹنے کا خواهشمند هے لیکن قاتلوں کو اپنے لوگ کہتا هے

Tera Panja aur Apnon Ka Khon | Yede Beza

Tera Panja aur Apnon Ka Khon

جس دن تو نے سوچنا سمجهنا شروع کر دیا اس دن اس دن یا تو تمهیں برقع میں پناه لینی پڑے گی یا تو کسی کپی سے برآمد هو گا یا تو پنجرے میں قید عدالت میں کهڑا هو گا یا پهر تیری لاش سمندر برد کی جائے گی هاں جب تک تیرا پنجہ هے اس وقت تک اپنوں کا خون بہتا رهے گا

Qari Hanif Dar k Name | Yede Beza

Qari Hanif Dar k Name

مجهے ایسا محسوس هوتا هے کہ میں ایک کورا کاغذ هوں.جس پہ هر شخص کچه نہ کچه لکهنا چاهتا هے. ایک ایسا پرنده هوں جسے هر شکاری قید کرنا چاهتا هے. پارک میں لگا میونسپلٹی کا وه بورڈ هوں جس پہ هر من چلا کچه نہ کچه لکه هی دیتا اور جس کی اصل تحریر اب مٹ چکی هو. جهوٹے روپ کا درشن میں اب میں هوں

MaMa Shafi | Yede Beza

MaMa Shafi

ایک بازو مارکس کا تهاما هو گا اور دوسرا هاته ٹراٹسکی کے کاندهے پر هو گا. دونوں کے فرق کو پہچانے بغیر مولوی سے سوال کریں گے..مولوی جی.صفائی مٹی کے ڈهیلے سے اچهی طرح هوتی هے یا پانی سے؟؟؟ ان ماما شفعوں کو کون سمجهاے کہ مٹی کے ڈهیلے کی بحث اس وقت کی هے جب تہذیب ابهی باته روم سے آشنا نہیں تهی. تہذیب کس رفتار سے آگے بڑهتی هے یہ جاننے کے لیے اگر یہ حضرات تهوڑی دیر اس بحث کو بهی پڑه لیتے کہ اهل علم کس طرح ڈبلیو سی سے کمورڈ کے ڈیزان تک پہنچی تو ان کو مولوی کے مٹی کے ڈهیلوں والی بحث بهی سمجه میں آ جاتی اس سے بحث نہیں هے کہ الحاد صحیح هے یا غلط لیکن اپنا جزیاتی علم دوسروں پر تهوپنا کہاں کی شرافت هے. مولوی تو ویسے هی آپ کی نظر میں جاهل هے

Ookh | Yede Beza

Ookh

مولوی صاحب کے بقول اصل اوخ تو قبر میں همارا منتظر تها. ذرا تففصیل میں گئے تو پتہ چلا کہ یہ بڑا هے اوکها اوخ تها. اور اس سے بچنے کے ذرائع بهی بڑے مشکل، کٹهن اور مستقل ریاضیت کے متقاضی تهے. لگ گئے هم اس چکر میں. نمازیں، روزے، سہ روزے، ذکر، داڑهی، عبادت...لیکن همارے پیشوا روز اس کے تقاضے بڑهاتے رهے. اب پتہ چلا کے همسائے میں ایک بڑا اوخ گهس آیا هے اور اس کے خلاف جہاد فرض هے. هم سر پر کفن بانده کے نکلے

Naabghay | Yede Beza

Naabghay

اسی فکر کو قوم کی عزیمت قرار دیا گیا. انسانی موت پے شادیانے بجائے گئے. قبروں سے کہیں تو خوشبو اور کہیں سانپ برآمد کیئے گئے.بے خطر کود پڑا..بے خطر کود پڑا

Meri Baraat ke Mutamni | Yede Beza

Meri Baraat ke Mutamni

میں تهوڑی دیر کے لیے تسلیم کر لیتا هوں کہ میں تفردات میں پڑا هوا هوں.، میں یہ بهی تسلیم کر لیتا هوں کہ میں ان لوگوں کو پڑهتا هوں جو اسلاف سے هٹ کے هیں.مجهے اس میں بهی کوئی عار محسوس نہیں هوتی کہ غامدی صاحب کے تمام افکار سے براءت کا اظہار کر لوں لیکن کیا آپ نے صرف غامدی صاحب پہ بس کرنا هے؟

Meri Kahani Aur Ghamidi Sahib | Yede Beza

Meri Kahani Aur Ghamidi Sahib

میں بهی چاهتا هوں کہ یہ وصل و فصل میری زندگی کا سرمایہ بنے.میں بهی اپنی عہد کی عظمت کو قریب سے دیکهنا چاهتا هوں. ان کے ساته نمازیں پڑهنا چاهتا هوں، ان سے باتیں کرنا چاهتا هوں. زندگی کے آداب سیکهنا چاهتا هوں. صبر و حکمت کا درس لینا چاهتا هوں. تواضع اور رواداری سیکهنا چاهتا هوں، کہ زبان و بیان کی نزاکتیں سمجهنے کا تو میں اهل نہیں لیکن دائرتہ الفکر سے لے کر المورد اور هجرت تک جو کچه هوا انہی کی زبانی سننا چاهتا هوں. فراهی و اصلاحی کے بارے میں عقیدت مندانہ تاثرات سننا چاهتا هوں. یہ صحبتیں اگر میسر آجائیں، تو حیات کا سرمایہ هاته لگ جاے. باپ تو میں کهو چکا هوں لیکن بٹیے جیسا کہلایا جاووں تو شاید اور خواهشیں نہ رهیں.آپ کی کوئی جماعت نہیں هے لیکن جو لوگ آپ سے عقیدت رکهتے هیں ان کی فکرمندی کے احسان تلے دبا هوا هوں

Lets Break Pakistan | Yede Beza

Lets Break Pakistan

آئیں هم سب مل کر پاکستان توڑتے هیں کیونکہ هم نے کافر بنانے کی فیکٹری لگائی هوئی هے هم روز لوگوں کو کافر بناتے هیں اور ان کے سر قلم کرنے کے فتوے جاری کرتے هیں

Sample Blog for Blog Writers | Jawad Ahmad Ghamidi

Sample Blog for Blog Writers

We created this blog just for the reference.

Join our Mailing List