۹
انسان کی تہذیب نفس رہن سہن کے جن طریقوں اور تمدن کے جن مظاہر سے نمایاں ہوتی ہے، اُنھیں ہم اصطلاح میں رسوم و آداب کہتے ہیں۔ انسانی معاشرت کا کوئی دور اِن رسوم و آداب سے خالی نہیں رہا۔ اِنھیں ہم ہر قبیلے، ہر قوم اور ہر تہذیب میں یکساں رائج اور ایک عمومی دستور کی حیثیت سے یکساں جاری دیکھتے ہیں۔ اقوام و ملل کی پہچان ایک دوسرے کے مقابلے میں زیادہ تر اِنھی سے قائم ہوتی ہے۔ انبیا علیہم السلام جو دین لے کر آئے ہیں، وہ بھی اپنے ماننے والوں کو بعض رسوم و آداب کا پابند کرتا ہے۔ دین کا مقصد تزکیۂ نفس ہے، لہٰذا دین کے یہ رسوم و آداب بھی اِسی مقصد کو سامنے رکھ کر مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ رسوم و آداب درج ذیل ہیں: ۱۔ اللہ کا نام لے کر اور دائیں ہاتھ سے کھانا پینا۔ اِن میں سے پہلی چیز اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے اعتراف و اقرار اور اُن میں برکت کی دعا کے لیے ہے اور دوسری اِس حقیقت کی ہمہ وقت یاد دہانی کے لیے کہ جنت کی نعمتیں قیامت کے دن جن لوگوں کو ملیں گی، اُن کا نامۂ اعمال اُن کے دائیں ہاتھ میں پکڑایا جائے گا۔ ۲۔ ملاقات کے موقع پر ’السلام علیکم‘ اور اُس کا جواب۔ ۳۔ چھینک آنے پر ’الحمدللہ‘ او ر اُس کے جواب میں ’یرحمک اللہ‘۔ ۴۔مونچھیں پست رکھنا۔ ۵۔ زیر ناف کے بال مونڈنا۔ ۶۔ بغل کے بال صاف کرنا۔ ۷۔بڑھے ہوئے ناخن کاٹنا۔ ۸۔ لڑکوں کا ختنہ کرنا۔ ۹۔ ناک، منہ اور دانتوں کی صفائی۔ ۱۰۔ استنجا۔ ۱۱۔ حیض و نفاس کے بعد غسل۔ ۱۲۔ غسل جنابت۔ ۱۳۔ میت کا غسل، تجہیز و تکفین اور تدفین۔ ۱۴۔عیدالفطر اور عید الاضحی کے تہوار۔