۱۰
دین میں قسم کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ عہد پورا کرنا اسلام کے بنیادی اخلاقیات میں سے ہے۔ قسم اِس عہد کو بالکل آخری درجے میں محکم کر دیتی ہے۔ مسلمان جب اپنے کسی عزم، ارادے یا عہد پر اللہ کی قسم کھاتا ہے تو وہ گویا اپنے پروردگار اور عالم کے پادشاہ کو اپنی بات پر گواہ ٹھیراتا ہے۔ قسم کی اِس اہمیت کے باوجود بارہا ایسی صورت پیدا ہو جاتی ہے کہ آدمی کے لیے اپنی قسم پوری کرنا ممکن نہیں رہتا یا وہ محسوس کرتا ہے کہ اُس سے اللہ کا یا اُس کے نفس کا یا دوسروں کا کوئی حق تلف ہو جائے گا۔ اِس صورت میں قسم توڑی جا سکتی ہے، بلکہ بعض صورتوں میں قسم توڑ دینا دین و اخلاق کی رو سے ضروری ہو جاتا ہے۔ شریعت میں اِس کے لیے کفارے کا طریقہ مقرر کیا گیا ہے۔ اِس کا حکم درج ذیل ہے: ۱۔ قسم بعض اوقات بالکل لغو، بے فائدہ اور مہمل ہوتی ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ بندۂ مومن کو اِس سے بھی اجتناب کرنا چاہیے، لیکن اپنے بندوں پر اللہ تعالیٰ کی یہ بے پایاں نعمت ہے کہ وہ اِس طرح کی قسموں پر دنیا اور آخرت میں کوئی مواخذہ نہ کرے گا۔ ۲۔ اِس کے برعکس اگر قسم پختہ عزم کے ساتھ اور دل کے ارادے سے کھائی گئی ہے ، اُس کے ذریعے سے کوئی عہد و پیمان باندھا گیا ہے، اُس سے حقوق و فرائض پر کوئی اثر مترتب ہوتا ہے یا وہ خدا کی کسی تحلیل و تحریم پراثر انداز ہو سکتی ہے تو اُس پر اللہ تعالیٰ لازماً مواخذہ فرمائے گا۔ لہٰذا قسم کے معاملے میں آدمی کو ہرگز بے پروا اور سہل انگار نہیں ہونا چاہیے، بلکہ پوری ذمہ داری کے ساتھ اُس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ ۳۔ اِس طرح کی قسم اگر کسی وجہ سے توڑنی پڑے تو ضروری ہے کہ اُس کا کفارہ ادا کیا جائے۔ اِس کا طریقہ یہ ہے کہ قسم کھانے والا دس مسکینوں کو اُس معیارکا کھانا کھلائے جو وہ عام طور پر اپنے اہل و عیال کو کھلاتا ہے یا اُنھیں پہننے کے کپڑے دے یا ایک غلام آزاد کرے۔ اِن میں سے کچھ بھی میسر نہ ہو تو اُسے تین دن کے روزے رکھنا ہوں گے۔