۳ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جس فطرت پر پیدا کیا ہے ،اُس کا ایک لازمی نتیجہ یہ بھی ہے کہ وہ تمدن کو چاہتا ہے اور پھر اِس تمدن کو اپنے ارادہ و اختیار کے سوء استعمال سے بچانے کے لیے جلد یا بدیر اپنے اندر ایک نظم اجتماعی پیدا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ انسانی تاریخ میں سیاست و حکومت، انسان کی اِس خواہش اور اِس مجبوری ہی کے بطن سے پیدا ہوئی ہے اور انسان جب تک انسان ہے، وہ اگر چاہے بھی تو اِس سے نجات حاصل کر لینے میں کامیاب نہیں ہو سکتا ، لہٰذا عقل کا تقاضا یہی ہے کہ اِس دنیا میں حکومت کے بغیر کسی معاشرے اور تمدن کا خواب دیکھنے کے بجاے وہ اپنے لیے ایک ایسا معاہدۂ عمرانی وجود میں لانے کی کوشش کرے جو نظم اجتماعی کا تزکیہ کر کے اُس کے لیے ایک صالح حکومت کی بنیاد فراہم کر سکے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ انسان کی فطرت نے اُسے بالعموم یہی راہ دکھائی اور اِسی راستے پر جدوجہد کے لیے آمادہ کیا ہے، لیکن اِس کے جو نتائج اب تک نکلے ہیں اور جنھیں ہر شخص بچشم سر اِس عالم میں دیکھ سکتا ہے ،تنہا وہی اِس حقیقت کو بالکل آخری حد تک ثابت کر دینے کے لیے کافی ہیں کہ زندگی کے دوسرے معاملات کی طرح عقل انسانی اِس معاملے میں بھی آسمانی ہدایت کے بغیر بعض بنیادی نوعیت کے فیصلے پوری قطعیت کے ساتھ نہیں کر سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے اِسی بنا پر سیاست کا ایک قانون مسلمانوں کو دیا ہے۔ یہ درج ذیل پانچ دفعات پر مبنی ہے:
۱۔ بنیادی اصول
اللہ و رسول نے جن معاملات میں کوئی حکم ہمیشہ کے لیے دے دیاہے، اُن میں مسلمانوں کے اولی الامر کو، خواہ وہ ریاست کے سربراہ ہوں یا پارلیمان کے ارکان، اب اپنی طرف سے کوئی فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ چنانچہ مسلمان اپنی ریاست میں کوئی ایسا قانون نہیں بناسکتے جو اللہ و رسول کے احکام کے خلاف ہو یا جس میں اُن کی ہدایت کو نظر انداز کر دیا گیا ہو۔ اِس کے تحت، البتہ وہ پابند ہیں کہ اولی الامر کی طرف سے جو حکم بھی دیا جائے، اُسے پوری توجہ سے سنیں اور مانیں۔
۲۔ اصل ذمہ داری
اِس اصول کی بنیاد پر جو نظم اجتماعی قائم ہوگا، اُس کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ قوم کی امانتیں اہلیت کی بنیاد پر لوگوں کے سپرد کرے اور عدل و انصاف کو زندگی کے ہر شعبے میں اور اُس کی آخری صورت میں قائم کر دینے کی جدوجہد کرتا رہے۔
۳۔ دینی فرائض
نماز قائم کی جائے، زکوٰۃ ادا کی جائے، بھلائی کی تلقین کی جائے اور برائی سے روکا جائے، یہ نظم اجتماعی کے دینی فرائض ہیں۔ اِنھیں پورا کرنے کے لیے جو ہدایات قرآن و سنت میں دی گئی ہیں، اُن کی رو سے: ا۔ ریاست کے مسلمان شہریوں سے تقاضا کیا جائے گا کہ اپنے ایمان و اسلام کی شہادت کے طور پر نماز قائم کریں۔ ب۔ نماز جمعہ کا خطاب اور اُس کی امامت ریاست کے صدر مقام کی مرکزی جامع مسجد میں سربراہ مملکت، صوبوں میں گورنر اور مختلف انتظامی و حدتوں میں اُن کے عمال کریں گے۔ ج۔ ہر وہ مسلمان جس پر زکوٰۃ عائد ہوتی ہو، اپنے مال، مواشی اور پیداوار میں مقرر ہ حصہ اپنے سرما ئے سے الگ کر کے لازماً حکومت کے حوالے کر دے گا اور حکومت دوسرے مصارف کے ساتھ اُس سے اپنے حاجت مند شہریوں کی ضرورتیں، اُن کی فریاد سے پہلے، اُن کے دروازے پر پہنچ کر پوری کرنے کی کوشش کرے گی ۔ د۔بھلائی کی تلقین کرنے اور برائی سے روکنے کے لیے ریاست کی طرف سے کچھ لوگ باقاعدہ مقرر کیے جائیں گے جو اپنے لیے متعین کردہ حدود کے مطابق اِس کام کو انجام دینے کے لیے ہمہ وقت سرگرم عمل ہوں گے۔
۴۔ شہریت کے حقوق
ریاست کے مسلمان شہری اگر نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں تو وہ تمام حقوق اُنھیں حاصل ہو جائیں گے جو ایک مسلمان کی حیثیت سے اُن کی ریاست میں اُنھیں حاصل ہونے چاہییں۔ وہ آپس میں بھائی بھائی ہوں گے، قانونی حقوق کے لحاظ سے برابر ہوں گے، دین کے ایجابی تقاضوں میں سے نماز اور زکوٰۃ کے سوا کوئی چیز قانون کی طاقت سے اُن پر نافذ نہیں کی جائے گی اور نہ ریاست اُن کی جان، مال، آبرو اور عقل و راے کے خلاف کسی نوعیت کی کوئی تعدی کر سکے گی۔
۵۔ نظم حکومت
ریاست کے امرا و حکام کا انتخاب اور حکومت و امارت کا انعقاد لوگوں کی راے اور مشورے سے ہوگا اور امارت کا منصب سنبھال لینے کے بعد بھی وہ یہ اختیار نہیں رکھیں گے کہ اجتماعی معاملات میں مسلمانوں کے اجماع یا اکثریت کی راے کو رد کردیں۔