۲
انسان کے خالق نے اُسے ایک معاشرت پسند حیوان کی فطرت عطا فرمائی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی تخلیق اِس طرح نہیں ہوتی کہ اُس کا خالق اُسے آسمان پر کہیں بنا کر بالکل عالم شباب میں براہ راست زمین پر نازل کرتا اور پھر ہرم وشیب کے مراحل سے گزارے بغیر اِسی عالم شباب میں اُسے واپس لے جاتا ہے ۔ اِس کے برخلاف اُس کا معاملہ یہ ہے کہ وہ تہ بر تہ ظلمتوں میں ایک ناتواں بچے کی حیثیت سے وجود پذیر ہوتا ہے ۔ آغوش مادر میں آنکھیں کھولتا ہے۔ ہمکتا، کھیلتا، دوسروں کے ہاتھ سے کھاتا ، پیتا اور اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے ۔ وہ پہلے زمین پر گھسٹتا، گھٹنوں کے بل چلتا اور پھر بڑی مشکل سے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل ہوتا ہے ۔ اِس کے بعد بھی قدم قدم پر اُسے سہارے کی ضرورت رہتی ہے ۔ یہاں تک کہ بچپن اور لڑکپن کے کئی مراحل طے کر کے وہ پندرہ یا سولہ برس کے سن کو پہنچ کر کہیں جوان ہوتا ہے ۔ اُس کا یہ دور شباب بھی بیس تیس برس سے زیادہ طویل نہیں ہوتا۔ اِس کے بعد وہ دیکھتا ہے کہ بڑھاپے کے آثار نمودار ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور بارہا علم و معرفت کی انتہائی بلندیوں کو چھونے کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر ناتواں بچوں ہی کی طرح دوسروں کے رحم و کرم پر زندگی کے دن پورے کرنے کے لیے مجبور ہو جاتا ہے ۔ انسان کا یہ معاملہ لازماً تقاضا کرتا ہے کہ وہ ایک معاشرت پسند ہستی کی زندگی بسر کرے ۔ مردو عورت کی حیثیت سے یہ معاشرت خلقت کی ابتدا ہی سے بہ تمام و کمال خود اُس کے اندر چھپی ہوتی ہے ۔ اِس کو تلاش کرنے کے لیے اُسے اپنے وجود سے کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ وہ اِس دنیا میں آتا ہے تو اپنا سازو برگ اور خیمہ و خرگاہ ساتھ لے کر آتا ہے اور وادی و کوہ سار ہو یا دشت و بیاباں ، ہر جگہ اپنی بزم خود آراستہ کر لیتا ہے ۔ انسان کی تاریخ بتاتی ہے کہ اُس کی تخلیق میں پنہاں اِسی اسکیم کے پیش نظر سیدنا آدم علیہ السلام جب پہلے انسان کی حیثیت سے اِس دنیا میں تشریف لائے تو اُنھیں تنہا نہیں بھیجا گیا ، بلکہ اُن کی رفاقت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اُنھی کی جنس سے اُن کا جوڑا بنایا ۔ پھر اُس سے بہت سے مردو عورت دنیا میں پھیلا دیے ، یہاں تک کہ خاندان، قبیلہ اور بالآخر ریاست کی سطح پر نظم معاشرت وجود میں آیا جس میں انسان کو وہ سب کچھ میسر ہو گیا جو اُس کی مخفی صلاحیتوں کو روبہ عمل کرنے کے لیے ناگزیر تھا ۔ یہی حقائق ہیں جن کے پیش نظر انبیا علیہم السلام کے دین میں زوجین کی مستقل رفاقت کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ انسان کو اُس کے بچپن سے بڑھاپے تک سامنے رکھ کر دیکھاجائے تو صاف واضح ہوتا ہے کہ اُس کی حیاتی، نفسیاتی، اور معاشرتی ضرورتوں کے لحاظ سے یہی طریقہ عقل و فطرت کے مطابق ہے۔اِس سے جو معاشرت وجود میں آتی ہے، اُس کے بعض اہم معاملات میں عقل انسانی کی رہنمائی کے لیے ایک مفصل قانون انبیا علیہم السلام کے ذریعے سے بنی آدم کو دیا گیا ہے۔ اسے ہم درج ذیل عنوانات کے تحت بیان کر سکتے ہیں:

نکاح

عورتوں اور مردوں کے ایک دوسرے سے جنسی تسکین حاصل کرنے کا جائز طریقہ صرف نکاح ہے۔ علانیہ ایجاب و قبول کے ساتھ یہ مردو عورت کے درمیان مستقل رفاقت کا عہد ہے جو لوگوں کے سامنے اور کسی ذمہ دار شخصیت کی طرف سے اِس موقع پر تذکیر و نصیحت کے بعد پورے اہتمام اور سنجیدگی کے ساتھ باندھا جاتا ہے۔ اِس کے لیے عورتیں بھی مردوں کی طرح اپنی مرضی کی مالک ہیں اور حدود الٰہی کے اندر اپنے فیصلے کرنے کے لیے پوری طرح آزاد ہیں۔ اُن کی رضا مندی کے بغیر کوئی چیز اُن پر مسلط نہیں کی جا سکتی۔

محرمات

ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھانجی اور بھتیجی سے نکاح ممنوع ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ ماں کے لیے بیٹے، بیٹی کے لیے باپ، بہن کے لیے بھائی، پھوپھی کے لیے بھتیجے، خالہ کے لیے بھانجے، بھانجی کے لیے ماموں اور بھتیجی کے لیے چچا کی نگاہ جنس و شہوت کی ہر آلایش سے پاک رہے۔ اِس لیے کہ اِن رشتوں میں اِس نوعیت کا علاقہ شرف انسانی کا ہادم اور شرم و حیا کے اُس پاکیزہ احساس کے بالکل منافی ہے جو انسانوں اور جانوروں میں وجہ امتیاز ہے۔ یہی حکم رضاعی رشتوں کا ہے۔ چنانچہ ہر وہ رشتہ جو نسب کے تعلق سے حرام ہے، رضاعت سے بھی حرام ہو جاتا ہے۔ نسب اور رضاعت کے بعد ایک تعلق مصاہرت کا ہے۔ اِس سے جو رشتے پیدا ہوتے ہیں، اُن کا تقدس بھی فطرت انسانی کے لیے بالکل واضح ہے۔ چنانچہ خسر کے لیے بہو اور شوہر کے لیے بیوی کی ماں، بیٹی، بہن، خالہ، پھوپھی، بھانجی اور بھتیجی سے نکاح ممنوع ہے۔ تاہم یہ رشتے چونکہ بیوی اور شوہر کی وساطت سے قائم ہوتے ہیں اور اِس سے ایک نوعیت کا ضعف اِن میں پیدا ہو جاتاہے، اِس لیے قرآن نے یہ تین شرطیں اِن پر عائد کر دی ہیں: ایک یہ کہ بیٹی صرف اُس بیوی کی حرام ہے جس سے خلوت ہو جائے۔ دوسری یہ کہ بہو کی حرمت کے لیے بیٹے کا صلبی ہونا ضروری ہے۔ تیسری یہ کہ بیوی کی بہن، پھوپھی، خالہ، بھانجی اور بھتیجی کی حرمت اُس حالت کے ساتھ خاص ہے، جب میاں بیوی میں نکاح کا رشتہ قائم ہو۔ اِن رشتوں کے علاوہ سوتیلی ماں کے ساتھ اور اُس عورت کے ساتھ بھی نکاح ممنوع قرار دیا گیا ہے جو کسی دوسرے کے نکاح میں ہو۔

حدود و شرائط

نکاح مال، یعنی مہر کے ساتھ ہونا چاہیے۔ قرآن نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عائد کردہ ایک فریضہ کی حیثیت سے یہ نکاح کی ایک لازمی شرط ہے۔ مردو عورت نکاح کے ذریعے سے مستقل رفاقت کا جو عہد باندھتے ہیں، اُس میں نان ونفقہ کی ذمہ داریاں ہمیشہ سے مرد اٹھاتا رہا ہے، یہ اُس کی علامت (token) ہے۔ اِس کی کوئی مقدار مقرر نہیں کی گئی ۔ اِسے معاشرے کے دستور اور لوگوں کے فیصلے پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ چنانچہ عورت کی سماجی حیثیت اور مرد کے معاشی حالات کی رعایت سے وہ جتنا مہر چاہیں، مقرر کر سکتے ہیں۔ نکاح کے لیے پاک دامن ہونا بھی ضروری ہے۔ کوئی زانی کسی عفیفہ سے اور کوئی زانیہ کسی مرد عفیف سے نکاح نہیں کر سکتی، الاّ یہ کہ معاملہ عدالت میں نہ پہنچا ہو اور وہ توبہ و استغفار کے ذریعے سے اپنے آپ کو اِس گناہ سے پاک کر لیں۔ یہی معاملہ شرک کا ہے۔ جس طرح یہ بات گوارا نہیں کی جاسکتی کہ میاں اور بیوی میں سے کوئی دوسرے کے بستر پر سوئے، اِسی طرح یہ بات بھی کسی مسلمان کے لیے قابل برداشت نہیں ہو سکتی کہ اُس کے گھر میں خدا کے ساتھ کسی اور کی پرستش کی جائے، بلکہ یہ اُس کے نزدیک کسی اور کے بستر پر سونے سے زیادہ قابل نفرت چیز ہے۔ یہود و نصاریٰ کے معاملے میں، البتہ اتنی رعایت ہے کہ اُن کی پاک دامن عورتوں سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نکاح کی اجازت دی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ شرک جیسی نجاست سے پوری طرح آلودہ ہونے کے باوجود وہ اصلاً توحید ہی کے ماننے والے ہیں۔

حقوق و فرائض

خاندان کا ادارہ بھی ایک چھوٹی سی ریاست ہے۔ جس طرح ہر ریاست اپنے قیام و بقا کے لیے ایک سربراہ کا تقاضا کرتی ہے، اِسی طرح یہ ریاست بھی ایک سربراہ کا تقاضا کرتی ہے۔ سربراہی کا مقام اِس ریاست میں مرد کو بھی دیا جا سکتا تھا اور عورت کو بھی۔ قرآن نے بتایا ہے کہ مرد کی بعض خلقی صلاحیتوں کے پیش نظر یہ اُسے دیا گیا ہے اور اِس کے لازمی نتیجے کے طور پر عورتوں سے تقاضا کیا گیا ہے کہ اولاً، اُنھیں اپنے شوہروں کے ساتھ موافقت اور فرماں برداری کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ ثانیاً، شوہر کے رازوں اور اُس کی عزت و ناموس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ عورت اگر شوہر کی اِس حیثیت کو چیلنج کر کے گھر کے نظام کو تلپٹ کر دینے پر آمادہ ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اپنے گھر کو بچانے کے لیے مرد تین صورتیں اختیار کر سکتا ہے: پہلی یہ کہ عورت کو نصیحت کی جائے۔ قرآن میں اِس کے لیے وعظ کا لفظ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اِس میں کسی حد تک زجرو توبیخ بھی ہو سکتی ہے۔ دوسری یہ کہ اُس سے بے تکلفانہ قسم کا خلاملا ترک کر دیا جائے تاکہ اُسے اندازہ ہو کہ اُس نے اپنا رویہ نہ بدلا تو اِس کے نتائج غیرمعمولی ہو سکتے ہیں۔ تیسری یہ کہ عورت کو جسمانی سزا دی جائے۔ یہ سزا اتنی ہی ہو سکتی ہے، جتنی کوئی معلم اپنے زیرتربیت شاگردوں کو یا کوئی باپ اپنی اولاد کو دیتا ہے۔ یہ تینوں صورتیں ترتیب و تدریج کے ساتھ ہیں۔ یعنی پہلی کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری صورت اُسی وقت اختیار کرنی چاہیے، جب آدمی مطمئن ہو جائے کہ بات نہیں بنی اور اگلا قدم اٹھانے کے سوا چارہ نہیں رہا۔ شوہر کے تادیبی اختیارات کی یہ آخری حد ہے۔ اِس سے اصلاح ہوجائے تو عورت کے خلاف انتقام کی راہیں نہیں ڈھونڈنی چاہییں۔ بیوی اگر ناپسند بھی ہو تو اُس سے اپنا دیا دلایا واپس لینے کے لیے اُس کو ضیق میں ڈالنے اور تنگ کرنے کی کوشش کسی بندۂ مومن کے لیے جائز نہیں ہے۔ اِس طرح کا رویہ صرف اُس صورت میں گوارا کیا جا سکتا ہے، جب وہ کھلی ہوئی بدکاری کرنے لگے۔ اِس قسم کی کوئی چیز اگر اُس سے صادر نہیں ہوئی ہے، وہ اپنی وفاداری پر قائم ہے اور پاک دامنی کے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہے تو محض اِس بنیاد پر کہ بیوی پسند نہیں ہے، اُس کو تنگ کرنا عدل و انصاف اور فتوت و شرافت کے بالکل منافی ہے۔ اخلاقی فساد، بے شک قابل نفرت چیز ہے، لیکن محض صورت کے ناپسند ہونے یا کسی ذوقی عدم مناسبت کی بنا پر اُسے شریفانہ معاشرت کے حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ ناپسندیدگی کے باوجود اُس کے ساتھ وہی برتاؤ کرنا چاہیے جو شریفوں کے شایان شان ہو، عقل و فطرت کے مطابق ہو، رحم و مروت پر مبنی ہو اور اُس میں عدل و انصاف کے تقاضے ملحوظ رہے ہوں۔

تعدد ازواج

انسان کی تخلیق جس فطرت پر ہوئی ہے، اُس کی رو سے خاندان کا ادارہ اپنی اصلی خوبیوں کے ساتھ ایک ہی مردو عورت میں رشتۂ نکاح سے قائم ہوتا ہے۔ یہ تمدن کی ضروریات اور انسان کے نفسی، سیاسی اور سماجی مصالح ہیں جن کی بنا پر تعدد ازواج کا رواج کم یا زیادہ، ہر معاشرے میں رہا ہے اور اِنھی کی رعایت سے اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی کسی شریعت میں اِسے ممنوع قرار نہیں دیا۔ تاہم یتیموں کی مصلحت کے پیش نظر جب قرآن نے اِس رواج سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی ہے تو اِس کے ساتھ یہ دوشرطیں بھی اِس پر عائد کر دی ہیں: ایک یہ کہ یتیموں کے حقوق جیسی مصلحت کے لیے بھی عورتوں کی تعداد کسی شخص کے نکاح میں چار سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ دوسری یہ کہ بیویوں کے درمیان انصاف کی شرط ایک ایسی اٹل شرط ہے کہ آدمی اگر اِسے پورا نہ کر سکتا ہو تو اِس طرح کی کسی اہم دینی مصلحت کے پیش نظر بھی ایک سے زیادہ نکاح کرنا اُس کے لیے جائز نہیں ہے۔ تاہم اِس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ظاہر کے برتاؤ اور دل کے لگاؤ میں کسی پہلو سے کوئی فرق باقی نہ رہے۔ اِس طرح کا انصاف کسی کی طاقت میں نہیں ہے اور کوئی شخص یہ کرنا بھی چاہے تو نہیں کر سکتا۔ دل کے میلان پر آدمی کو اختیار نہیں ہوتا، لہٰذا اتنا کافی ہے کہ شوہر ایک بیوی کی طرف اِس طرح نہ جھک جائے کہ دوسری بالکل معلق ہو کر رہ جائے۔ نکاح یتیموں کے حقوق کی نگہداشت کے لیے کیا گیا ہو یا کسی اور مقصد سے، مہر اور عدل عورت کا حق ہے اور یہ نہایت خوش دلی کے ساتھ ادا ہونا چاہیے، لیکن اگر اندیشہ ہو کہ بیویوں میں برابری کے حقوق پر اصرار کے نتیجے میں شوہر بیوی سے بے پروائی برتے گا یا پیچھا چھڑانے کی کوشش کرے گا تو اِس میں حرج نہیں کہ دونوں مل کرآپس میں کوئی سمجھوتا کر لیں۔

مباشرت کے حدود

حیض و نفاس کے دنوں میں میاں بیوی کا جنسی تعلق ممنوع ہے۔ یہ پابندی خون کے بند ہوجانے تک ہے، اِس کے بعد یہ باقی نہیں رہتی، لیکن صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب عورت نہا دھو کر پاکیزگی حاصل کرلے، تب اُس سے ملاقات کی جائے اور لازماً اُسی راستے سے کی جائے جو اللہ نے اِس کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔

ایلا

بیوی سے ازدواجی تعلق منقطع کر لینا کسی عذر معقول کے بغیر جائز نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اگر اِس کے لیے قسم بھی کھالی گئی ہے تو اُسے توڑ دینا ضروری ہے۔ اِس کے لیے چار مہینے کی مدت مقرر ہے۔ شوہر پابند ہے کہ اِس کے اندر یا تو بیوی سے ازدواجی تعلقات بحال کر لے یا طلاق دینے کا فیصلہ ہے تو اُس کو طلاق دے دے۔

ظہار

اگر کوئی شخص منہ پھوڑ کر بیوی کو ماں سے یا اُس کے کسی عضو کو ماں کے کسی عضو سے تشبیہ دیتا ہے تو اِس سے بیوی ماں نہیں ہو جاتی اور نہ اُس کو وہ حرمت حاصل ہو سکتی ہے جو ماں کو حاصل ہے۔ لہٰذا اِس طرح کی تشبیہ سے نہ کسی کا نکاح ٹوٹتاہے اور نہ اُس کی بیوی اُس کے لیے ماں کی طرح حرام ہو جاتی ہے۔ تاہم اِس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اُسے بغیر کسی تنبیہ کے چھوڑ دیا جائے۔ انسان کی معاشرتی زندگی پر اِس طرح کی باتوں کے اثرات بڑے غیرمعمولی ہوتے ہیں، اِس وجہ سے ضروری ہے کہ اُس کی تادیب کی جائے تاکہ آیندہ وہ بھی احتیاط کرے اور دوسروں کو بھی اِس سے سبق حاصل ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ بیوی کو ہاتھ لگانے سے پہلے اُسے اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرنا چاہیے۔ یہ کفارہ درج ذیل ہے: ایک لونڈی یا غلام آزاد کیا جائے۔ وہ میسر نہ ہو تو پے درپے دو مہینے کے روزے رکھے جائیں۔ یہ بھی نہ ہوسکے تو ۶۰ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے۔

طلاق

میاں بیوی میں نباہ نہ ہو سکے تو انبیا علیہم السلام کے دین میں علیحدگی کی گنجایش ہمیشہ رہی ہے ۔ اصطلاح میں اِسے طلاق کہا جاتا ہے۔ اِس کی نوبت پہنچنے سے پہلے ہر شخص کی خواہش ہونی چاہیے کہ جو رشتہ ایک مرتبہ قائم ہو گیا ہے، اُسے ممکن حد تک ٹوٹنے سے بچانے کی کوشش کی جائے۔ لیکن اصلاح کی تمام ممکن تدابیر اختیار کر لینے کے بعد بھی اگر صورت حال بہتر نہیں ہوتی اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ رشتہ قائم نہ رہ سکے گا تو طلاق سے پہلے آخری تدبیر کے طور پر اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے قبیلہ، برادری اور اُن کے رشتہ داروں اور خیر خواہوں کو ہدایت فرمائی ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اپنے اثرورسوخ سے کام لے کر معاملات کو سدھارنے کی کوشش کریں۔ اِس کی صورت یہ بتائی گئی ہے کہ ایک حکم میاں اور ایک بیوی کے خاندان میں سے منتخب کیا جائے اور وہ دونوں مل کر اُن میں صلح کرائیں۔ اِس سے توقع ہے کہ جس جھگڑے کو فریقین خود طے کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے،وہ خاندان کے بزرگوں اور دوسرے خیرخواہوں اور ہمدردوں کی مداخلت سے طے ہوجائے۔ مرد خاندان کا سربراہ ہے، پھر نان و نفقہ اور دوسرے اخراجات کی ذمہ داری بھی اُسی پر ہے، اِس لیے طلاق کا حق بھی اُسے ہی دیا گیا ہے۔ چنانچہ عورت اگر علیحدگی چاہے تو وہ طلاق دے گی نہیں، بلکہ شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے گی۔ عام حالات میں توقع یہی ہے کہ ہر شریف النفس آدمی نباہ کی کوئی صورت نہ پاکر یہ مطالبہ مان لے گا، لیکن اگرایسا نہ ہو تو عورت عدالت سے رجوع کر سکتی ہے جو شوہر کو طلاق دینے کا حکم دے گی یا فسخ نکاح کا فیصلہ کر دے گی۔ شوہر خود طلاق دے یا بیوی کے مطالبے پر اُسے علیحدہ کر دینے کا فیصلہ کرے، دونوں ہی صورتوں میں اِس کا جو طریقہ قرآن میں بتایا گیا ہے، وہ درج ذیل ہے: ۱۔ طلاق عدت کے لحاظ سے دی جائے گی۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ بیوی کو فوراً علیحدہ کر دینے کے لیے طلاق دینا جائز نہیں ہے۔ یہ جب دی جائے گی، ایک متعین مدت کے پورا ہو جانے پر مفارقت کے ارادے سے دی جائے گی۔ عدت کا لفظ اصطلاح میں اُس مدت کے لیے استعمال ہوتا ہے جس میں بیوی شوہر کی طرف سے طلاق یا اُس کی وفات کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح نہیں کر سکتی۔ یہ مدت چونکہ اصلاً مقرر ہی اِس لیے کی گئی ہے کہ عورت کے پیٹ کی صورت حال پوری طرح واضح ہو جائے، اِس لیے ضروری ہے کہ بیوی کو حیض سے فراغت کے بعد اور اُس سے زن و شو کا تعلق قائم کیے بغیر طلاق دی جائے۔ ۲۔ عدت کا شمار پوری احتیاط کے ساتھ کرنا چاہیے۔ طلاق کا معاملہ نہایت نازک ہے، اِس سے عورت اور مرد اور اُن کی اولاد اور اُن کے خاندان کے لیے بہت سے قانونی مسائل پیدا ہوتے ہیں، اِس لیے ضروری ہے کہ جب طلاق دی جائے تو اُس کے وقت اور تاریخ کو یاد رکھا جائے اور یہ بھی یاد رکھا جائے کہ طلاق کے وقت عورت کی حالت کیا تھی، عدت کی ابتدا کس وقت ہوئی ہے، یہ کب تک باقی رہے گی اور کب ختم ہو جائے گی۔ ۳۔ عدت کے پورا ہونے تک شوہر کو رجوع کا حق ہے۔ شوہر رجوع نہ کرے تو عدت کے پورا ہو جانے پر میاں بیوی کا رشتہ ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ یہ خاتمے کو پہنچ رہی ہو تو شوہر کو فیصلہ کر لینا چاہیے کہ اُسے بیوی کو روکنا ہے یا رخصت کردینا ہے۔ دونوں ہی صورتوں میں اللہ کا حکم ہے کہ معاملہ معروف کے مطابق، یعنی بھلے طریقے سے کیا جائے۔ اِس باب میں جو ہدایات خود قرآن میں دی گئی ہیں، وہ یہ ہیں: اولاً ، بیوی کو کوئی مال ، جائداد ، زیورات اور ملبوسات وغیرہ، خواہ کتنی ہی مالیت کے ہوں، اگر تحفے کے طور پر دیے گئے ہیں تو اُن کا واپس لینا جائز نہیں ہے۔ نان ونفقہ اور مہر تو عورت کا حق ہے، اُن کے واپس لینے یا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اِن کے علاوہ جو چیزیں دی گئی ہوں، اُن کے بارے میں بھی قرآن کا حکم ہے کہ وہ ہرگز واپس نہیں لی جا سکتیں ۔ اِس سے دو صورتیں ، البتہ مستثنیٰ ہیں: ایک یہ کہ میاں بیوی میں حدودالٰہی کے مطابق نباہ ممکن نہ رہے، معاشرے کے ارباب حل و عقد بھی یہی محسوس کریں، لیکن میاں صرف اِس لیے طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو کہ اُس کے دیے ہوئے اموال بھی ساتھ ہی جائیں گے تو بیوی یہ اموال یا اِن کا کچھ حصہ واپس کر کے شوہر سے طلاق لے سکتی ہے۔ اِس طرح کی صورت حال اگر کبھی پیدا ہو جائے تو شوہر کے لیے اُسے لینا ممنوع نہیں ہے۔ دوسری یہ کہ بیوی کھلی ہوئی بدکاری کا ارتکاب کرے ۔ اِس سے میاں بیوی کے رشتے کی بنیاد ہی چونکہ منہدم ہو جاتی ہے، لہٰذا شوہر کے لیے جائز ہے کہ اِس صورت میں وہ اپنا دیا ہوا مال اُس سے واپس لے لے۔ ثانیاً، عورت کو ہاتھ لگانے یا اُس کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دی جائے تو مہر کے معاملے میں شوہر پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے، لیکن مہر مقرر ہو اور ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق کی نوبت پہنچ جائے تو مقررہ مہر کا نصف ادا کرنا ہو گا، الاّیہ کہ عورت اپنی مرضی سے پورا چھوڑ دے یا مرد پورا ادا کر دے۔ ثالثاً، عورت کو کچھ سامان زندگی دے کر رخصت کیا جائے ۔ قرآن نے اِسے اللہ سے ڈرنے والوں اور احسان کا رویہ اختیار کرنے والوں پر ایک حق قرار دیا ہے۔ اِس کی مقدار سوسائٹی کے دستور اور مرد کے معاشی حالات کی رعایت سے متعین کی جائے گی۔ طلاق اگر عورت کو ہاتھ لگائے بغیر یا مہر مقرر کیے بغیر بھی دی گئی ہے تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ حق ادا ہونا چاہیے۔ ۴۔ عدت کے دوران میں شوہر رجوع کر لے تو عورت بدستور اُس کی بیوی رہے گی۔ طلاق اور طلاق کے بعد رجوع کا یہ حق ہر شخص کو ایک رشتۂ نکاح میں دو مرتبہ حاصل ہے۔ اِس کے بعد یہ حق باقی نہیں رہتا۔ چنانچہ ایک رشتۂ نکاح میں دومرتبہ رجوع کے بعد تیسری مرتبہ پھرعلیحدگی کی نوبت آگئی اور شوہر نے طلاق دے دی تو اِس کے نتیجے میں عورت ہمیشہ کے لیے اُس سے جدا ہو جائے گی، الاّ یہ کہ اُس کا نکاح کسی دوسرے شخص کے ساتھ ہو اور وہ بھی اُسے طلاق دے دے۔ ۵۔ شوہر طلاق دے یا رجوع کرے، دونوں ہی صورتوں میں اُسے چاہیے کہ اپنے اِس فیصلے پر دو ثقہ مسلمانوں کو گواہ بنا لے۔ اِس سے مقصود یہ ہے کہ فریقین میں سے کوئی بعد میں کسی بات کا انکار نہ کرے اور اگر کوئی نزاع پیدا ہو تو اُس کا فیصلہ آسانی کے ساتھ ہو جائے۔ ۶۔ طلاق کی عدت عام حالات میں تین حیض اور حمل کی صورت میں وضع حمل ہے۔ عورت حیض سے مایوس ہو چکی ہو یا حیض کی عمر کو پہنچنے کے باوجود اُسے حیض نہ آیا ہو تو یہ عدت تین مہینے ہوگی۔ عورت غیرمدخولہ ہو تو اُس کے متعلق چونکہ حمل کا سوال پیدا نہیں ہو تا، اِس لیے اُس کی کوئی عدت بھی نہیں ہے۔ زمانۂ عدت کے جو احکام قرآن میں بیان ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: اولاً، ہدایت کی گئی ہے کہ اِس دوران میں نہ بیوی کو اپنا گھر چھوڑنا چاہیے او رنہ شوہر کو یہ حق ہے کہ اُس کے گھر سے اُسے نکال دے۔ اِس طرح اکٹھا رہنے کے نتیجے میں توقع ہے کہ دلوں میں تبدیلی پیدا ہو جائے، دونوں اپنے رویے کا جائزہ لیں اور اُن کا اجڑتا ہوا گھر ایک مرتبہ پھر آباد ہو جائے۔ اِس سے مستثنیٰ صرف یہ صورت ہے کہ مرد نے عورت کو طلاق ہی کسی کھلی بدکاری کے ارتکاب پر دی ہو۔ اِس صورت میں، ظاہر ہے کہ نہ شوہر سے یہ مطالبہ کرنا جائز ہے کہ وہ ایسی عورت کو گھر میں رہنے دے، اور نہ اِس سے وہ فائدہ ہی حاصل ہو سکتا ہے جس کے لیے یہ ہدایت کی گئی ہے۔ ثانیاً، فرمایا ہے کہ عدت کے دوران میں وہ عورت کو اپنی حیثیت کے مطابق رہنے کی جگہ اور نان و نفقہ فراہم کرے گا اور اِس عرصے میں کوئی ایسا طریقہ اختیار نہیں کرے گاجس سے اُس کی خودداری مجروح ہو اور وہ چند ہی دنوں میں پریشان ہو کر اُس کا گھر چھوڑنے کے لیے مجبور ہو جائے۔ ثالثاً، زمانۂ عدت میں عورت اپنا حمل چھپانے کی کوشش نہیں کرے گی۔ اللہ تعالیٰ نے نہایت سختی کے ساتھ اِس کی تاکید فرمائی ہے، اِس لیے کہ عدت کا حکم دیا ہی اِس لیے گیا ہے کہ عورت کے حاملہ ہونے یانہ ہونے کا فیصلہ ہو جائے۔ ۷۔ طلاق کے بعد بھی اگر طلاق دینے والا شوہر یہ چاہتا ہے کہ عورت اُس کے بچے کو دودھ پلائے تو اُسے دو سال تک یہ ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ عورت اِس کے لیے آمادہ ہو تو مرد اُسے اِس خدمت کا معاوضہ ادا کرے گا اور یہ معاوضہ باہمی مشورے سے اور بھلے طریقے سے طے کیا جائے گا۔ بچے کا باپ وفات پا چکا ہو تو بعینہٖ یہی پوزیشن مذکورہ ذمہ داریوں اور حقوق کے معاملے میں اُس کے وارث کی ہوگی۔ فریقین یہ مدت کم بھی کر سکتے ہیں اور بچے کا باپ یا اُس کے ورثہ ماں کی جگہ کسی اور عورت سے دودھ پلوانا چاہیں تو اِس کی بھی اجازت ہے، بشرطیکہ اُس کی ماں سے دینے دلانے کی جو قرارداد ہوئی ہے، وہ پوری کر دی جائے۔ ۸۔ طلاق کے بعد عورت کے کسی فیصلے میں رکاوٹ بننے کا حق پہلے شوہر کے لیے باقی نہیں رہتا۔ وہ جب چاہے اور جہاں چاہے، شادی کر سکتی ہے۔ اُس کا یہ فیصلہ اگر دستور کے مطابق ہے تو اِس پر کسی اعتراض کی گنجایش نہیں ہو سکتی۔

شوہر کی وفات

بیوہ کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔ عام مطلقہ کی نسبت سے یہ اضافہ اِس لیے ہوا ہے کہ اُس کو تو ایسے طہر میں طلاق دینے کی ہدایت کی گئی ہے جس میں شوہر سے اُس کی ملاقات نہ ہوئی ہو، لیکن بیوہ کے لیے اِس طرح کا کوئی ضابطہ بنانا چونکہ ممکن نہیں ہے، اِس لیے احتیاط کا تقاضا یہی تھا کہ دن بڑھا دیے جاتے۔ مطلقہ اور بیوہ کے لیے عدت کا حکم چونکہ ایک ہی مقصد سے دیا گیا ہے، اِ س لیے جو مستثنیات طلاق کے لیے بیان ہوئے ہیں، وہ بیوہ کی عدت میں بھی اِسی طرح ملحوظ ہوں گے۔ چنانچہ بیوہ غیرمدخولہ کے لیے کوئی عدت نہیں ہو گی اور حاملہ کی عدت وضع حمل کے بعد ختم ہو جائے گی۔ عدت گزرنے کے بعد عورت آزاد ہے اور اپنے معاملے میں جو قدم مناسب سمجھے، اٹھا سکتی ہے۔ معاشرے کے دستور کی پابندی، البتہ اُسے کرنی چاہیے، یعنی کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس سے متعلق خاندانوں کی عزت، شہرت، وجاہت اور اچھی روایات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ یہ ملحوظ رہے تو اُس پر یا اُس کے اولیا پر کوئی الزام عائد نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص بیوہ سے نکاح کرنا چاہتا ہو تو عدت کے دوران میں وہ یہ تو کر سکتا ہے کہ اپنے دل میں اِس کا ارادہ کر لے یا اشارے کنایے میں کوئی بات منہ سے نکال دے، لیکن اُس کے لیے ہرگز جائز نہیں ہے کہ ایک غم زدہ خاندان کے جذبات کا لحاظ کیے بغیر عورت کو نکاح کا پیغام بھیجے یا کوئی خفیہ عہدوپیمان کرے۔ شوہروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی بیواؤں کے لیے ایک سال کے نان و نفقہ اور اپنے گھروں میں سکونت کی وصیت کر جائیں ، الاّ یہ کہ وہ خود اپنی مرضی سے شوہر کا گھر چھوڑ دیں یا اِس نوعیت کا کوئی دوسرا قدم اٹھالیں۔

مردوزن کا اختلاط

نکاح کے ادارے کی حفاظت اور باہمی تعلقات میں دلوں کی پاکیزگی قائم رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اختلاط مردوزن کے آداب مقرر فرمائے ہیں۔ یہ آداب درج ذیل ہیں: ۱۔ ایک دوسرے کے گھروں میں جانے کی ضرورت پیش آ جائے تو بے دھڑک اور بے پوچھے اندر داخل ہونا جائز نہیں ہے ۔ اِس طرح کے موقعوں پر ضروری ہے کہ آدمی پہلے گھر والوں کو اپنا تعارف کرائے، جس کا شایستہ او رمہذب طریقہ یہ ہے کہ دروازے پر کھڑے ہو کر سلام کیا جائے۔ اِس سے گھر والے معلوم کر لیں گے کہ آنے والا کون ہے، کیا چاہتا ہے اور اُس کا گھر میں داخل ہونا مناسب ہے یا نہیں۔ اِس کے بعد اگر وہ سلام کا جواب دیں اور اجازت ملے تو گھر میں داخل ہو، اجازت دینے کے لیے گھر میں کوئی موجود نہ ہو یا موجود ہو اور اُس کی طرف سے کہہ دیا جائے کہ اِس وقت ملنا ممکن نہیں ہے تو دل میں کوئی تنگی محسوس کیے بغیر واپس چلا جائے ۔ اِس سے ربط و تعلق کے لوگوں کو سہارے سے محروم کرنا یا اُن کی سوشل آزادیوں پر پابندی لگانا مقصود نہیں ہے، اِس لیے لوگ خود ہوں یا اُن کے مجبورو معذور اعزہ و احباب جو اُنھی کے گھروں پر گزارہ کرتے ہیں، اُن کے لیے کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ ایک دوسرے کے گھروں میں آئیں جائیں، ملیں جلیں اور مردو عورت الگ الگ یا اکٹھے بیٹھ کر کھائیں پئیں، نہ اُن کے اپنے گھروں میں کوئی حرج ہے، نہ باپ دادا کے گھروں میں، نہ ماؤں کے گھروں میں، نہ بھائیوں اور بہنوں کے گھروں میں، نہ چچاؤں، پھوپھیوں، مامووں اور خالاؤں کے گھروں میں، نہ زیر تولیت افراد کے گھروں میں اور نہ دوستوں کے گھروں میں۔ اتنی بات، البتہ ضروری ہے کہ گھروں میں داخل ہوں تو اپنے لوگوں کو سلام کریں۔ ۲۔ اُن جگہوں کے لیے یہ پابندی ضروری نہیں ہے جہاں لوگوں کے بیوی بچے نہ رہتے ہوں۔ یعنی ہوٹل، سرائے، مہمان خانے، دکانیں، دفاتر، مردانہ نشست گاہیں وغیرہ۔اِسی طرح گھروں میں آمدورفت رکھنے والے خادموں اور نابالغ بچوں کے لیے بھی ہر موقع پر اجازت لینا ضروری نہیں ہے۔ اُن کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ تین اوقات میں اجازت لے کر داخل ہوں: نماز فجر سے پہلے جبکہ لوگ ابھی بستروں میں ہوتے ہیں؛ ظہر کے وقت جب وہ قیلولہ کے لیے کپڑے اتار کر رکھ دیتے ہیں اور عشا کے بعد جب وہ سونے کے لیے بستروں میں چلے جاتے ہیں۔ اِن کے سوا دوسرے اوقات میں نابالغ بچے اور گھر کے خدام عورتوں اور مردوں کے پاس، اُن کے تخلیے کی جگہوں میں اور اُن کے کمروں میں اجازت لیے بغیر آ سکتے ہیں۔ نابالغ بچوں کے لیے، البتہ بالغ ہو جانے کے بعد یہ رخصت باقی نہ رہے گی۔ بلوغ کی عمر کو پہنچ جانے کے بعد اُن کے لیے بھی ضروری ہو گا کہ عام قانون کے مطابق اجازت لے کر گھروں میں داخل ہوں۔ ۳۔ اِن مقامات پر اگر عورتیں موجود ہوں تو اللہ کا حکم ہے کہ مرد بھی اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور عورتیں بھی۔ نگاہوں میں حیا ہو اور مردو عورت ایک دوسرے کے حسن و جمال سے آنکھیں سینکنے، خط و خال کا جائزہ لینے اور ایک دوسرے کو گھورنے سے پرہیز کریں تو اِس حکم کا منشا یقیناًپورا ہو جاتا ہے، اِس لیے کہ اِس سے مقصود نہ دیکھنا یا ہروقت نیچے ہی دیکھتے رہنا نہیں ہے، بلکہ نگاہ بھر کر نہ دیکھنا اور نگاہوں کو دیکھنے کے لیے بالکل آزاد نہ چھوڑ دینا ہے۔ ۴۔ اِس طرح کے موقعوں پر شرم گاہوں کی حفاظت کی جائے۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ نہ اُن کے اندر دوسروں کے لیے کوئی میلان ہو اور نہ وہ اُن کے سامنے کھولی جائیں، بلکہ عورتیں اور مرد ایک جگہ موجود ہوں تو چھپانے کی جگہوں کو اور بھی زیادہ اہتمام کے ساتھ چھپا کر رکھا جائے۔ اِس میں، ظاہر ہے کہ بڑا دخل اِس چیز کو ہے کہ لباس باقرینہ ہو۔ عورتیں اور مرد، دونوں ایسا لباس پہنیں جو زینت کے ساتھ صنفی اعضا کو بھی پوری طرح چھپانے والا ہو۔ پھر ملاقات کے موقع پر اِس بات کا خیال رکھا جائے کہ اٹھنے بیٹھنے میں کوئی شخص برہنہ نہ ہونے پائے۔ ۵۔ عورتوں کے لیے بالخصوص ضروری ہے کہ وہ زیب و زینت کی کوئی چیز اپنے محرم اعزہ اور متعلقین کے سوا کسی شخص کے سامنے ظاہر نہ ہونے دیں۔ اِس سے زیبایش کی وہ چیزیں، البتہ مستثنیٰ ہیں جو عادتاً کھلی ہوتی ہیں۔ یعنی ہاتھ پاؤں اور چہرے کا بناؤ سنگھار اور زیورات وغیرہ۔ اِن اعضا کے سوا باقی ہر جگہ کی زیبایش عورتوں کوچھپا کر رکھنی چاہیے، یہاں تک کہ مردوں کی موجودگی میں اپنے پاؤں زمین پر مار کر چلنے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے تاکہ اُن کی چھپی ہوئی زینت ظاہر نہ ہو جائے۔ ۶۔ عورت کاسینہ بھی چونکہ صنفی اعضا میں سے ہے، پھر گلے میں زیورات بھی ہوتے ہیں، اِس لیے اِس طرح کے موقعوں پر اِسے دوپٹے سے ڈھانپ لیناچاہیے۔ سینہ اور گریبان ڈھانپ کر رکھنے کا یہ حکم اُن بڑی بوڑھیوں کے لیے نہیں ہے جو اب نکاح کی امید نہیں رکھتی ہیں، بشرطیکہ وہ زینت کی نمایش کرنے والی نہ ہوں۔ تاہم پسندیدہ بات اُن کے لیے بھی یہی ہے کہ احتیاط کریں اور مردوں کی موجودگی میں دوپٹا نہ اتاریں۔ یہ اُن کے لیے بہتر ہے۔

والدین

نکاح سے جو رشتے پیدا ہوتے ہیں، اُن میں اہم ترین رشتہ والدین کا ہے۔ اِن کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم تمام الہامی صحائف میں دی گئی ہے۔ اِس کے جو حدود قرآن نے متعین فرمائے ہیں، وہ یہ ہیں: ۱۔ اپنے پروردگار کے بعد انسان کو سب سے بڑھ کر اپنے ماں باپ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ یہ شکر محض زبان سے ادا نہیں ہوتا، اِس کا لازمی تقاضا ہے کہ آدمی اُن کے ساتھ انتہائی احترام سے پیش آئے، اُن کے خلاف دل میں کوئی بے زاری نہ پیدا ہونے دے، اُن کے سامنے سوء ادب کا کوئی کلمہ زبان سے نہ نکالے، بلکہ نرمی، محبت، شرافت اور سعادت مندی کا اسلوب اختیار کرے۔ اُن کی بات مانے اور بڑھاپے کی ناتوانیوں میں اُن کی دل داری اور تسلی کرتا رہے ۔ ۲۔ والدین کی اِس حیثیت کے باوجود یہ حق اُن کو حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنانے کے لیے اولاد پر دباؤ ڈالیں۔ اِس معاملے میں اولاد کو اُن کی اطاعت سے صاف انکار کر دینا چاہیے اور پیروی ہر حال میں اُنھی لوگوں کے طریقے کی کرنی چاہیے جو خدا کی طرف متوجہ ہیں۔ خدا سے انحراف کی دعوت والد ین بھی دیں تو قبول نہیں کی جا سکتی۔اللہ تعالیٰ کے دوسرے احکام و ہدایات بھی اِسی کے تحت سمجھے جائیں گے اور والدین کے کہنے سے اُن کی خلاف ورزی بھی کسی کے لیے جائز نہ ہو گی۔ ۳۔ شرک جیسے گناہ پر اصرار کے باوجود دنیا کے معاملات میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کا رویہ دستور کے مطابق اِسی طرح قائم رہنا چاہیے۔ اُن کی ضروریات حتی المقدور پوری کرنے کی کوشش کی جائے اور اُن کے لیے ہدایت کی دعا بھی برابرجاری رہے ۔ دین و شریعت کا معاملہ الگ ہے، مگر اِس طرح کی چیزوں میں اولاد سے ہرگز کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے ۔

یتامیٰ

بچے باپ سے محروم ہو جائیں تو اُن کے معاملات سے متعلق چند متعین ہدایات قرآن میں دی گئی ہیں۔ اِن کا خلاصہ درج ذیل ہے: ۱۔ یتیموں کے سرپرست اُن کا مال اُن کے حوالے کریں، اُسے خود ہضم کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ظلم و ناانصافی سے یتیم کا مال ہڑپ کرنا گویا اپنے پیٹ میں آگ بھرنا ہے۔ لہٰذا کوئی شخص نہ اپنا برا مال اُن کے اچھے مال سے بدلنے کی کوشش کرے اور نہ انتظامی سہولت کی نمایش کرکے اُس کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر کھانے کے مواقع پیدا کرے۔ اِس طرح کا اختلاط اگر کسی وقت کیا جائے تو یہ خوردبرد کے لیے نہیں، بلکہ اُن کی بہبود اور اُن کے معاملات کی اصلاح کے لیے ہونا چاہیے ۔ ۲۔یتیموں کے مال کی حفاظت اور اُن کے حقوق کی نگہداشت ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ لوگوں کے لیے تنہا اِس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونا مشکل ہو اور وہ یہ سمجھتے ہوں کہ یتیم کی ماں کو اُس میں شامل کر کے وہ اپنے لیے سہولت پیدا کر سکتے ہیں تو اُنھیں چاہیے کہ اُن کی ماؤں میں سے جو اُن کے لیے جائز ہوں، اُن میں سے دو دو، تین تین، چار چار کے ساتھ نکاح کر لیں۔ لیکن یہ اجازت صرف اُس صورت میں ہے، جب بیویوں کے درمیان عدل قائم رکھنا ممکن ہو۔ اگر یہ اندیشہ ہو کہ وہ اِس میں کامیاب نہ ہو سکیں گے تو پھر یتیموں کی بہبود جیسے نیک مقصد کے لیے بھی ایک سے زیادہ نکاح نہ کریں۔ انصاف پر قائم رہنے کے لیے یہی طریقہ زیادہ صحیح ہے۔ اِس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اِن عورتوں کا مہر اُسی طریقے سے دیا جائے جس طرح عام عورتوں کو دیا جاتا ہے۔ یہ عذر نہیں پیدا کرنا چاہیے کہ نکاح چونکہ اُنھی کی اولاد کی مصلحت سے کیا گیا ہے، اِس لیے اب کوئی ذمہ داری باقی نہیں رہی۔ ہاں، اگر اپنی خوشی سے وہ مہر کا کوئی حصہ معاف کر دیں یا کوئی اور رعایت کریں تو اِس میں حرج نہیں ہے۔ لوگ اگر چاہیں تو اُس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ ۳۔ یتیموں کا مال اُن کے حوالے کر دینے کی جو ہدایت کی گئی ہے، اُس پر عمل اُسی وقت کیا جائے، جب وہ اپنا مال سنبھال لینے کی عمر کو پہنچ جائیں۔ اِس سے پہلے ضروری ہے کہ یہ سرپرستوں کی حفاظت اور نگرانی میں رہے اور وہ یتیموں کو جانچتے رہیں کہ اُن کے اندر معاملات کی سوجھ بوجھ اور اپنی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی صلاحیت پیدا ہو رہی ہے یا نہیں۔ اِس دوران میں اُن کی ضروریات، البتہ فراخی کے ساتھ پوری کی جائیں۔ اِس اندیشے سے کہ وہ بڑے ہو جائیں گے، اُن کا مال جلدی جلدی اڑانے کی کوشش نہ کی جائے او ر بات چیت میں اُن کی دل داری کا خیال رکھا جائے ۔ ۴۔سرپرست اگر مستغنی ہو تو اپنی اِس خدمت کے عوض اُسے کچھ لینا نہیں چاہیے، لیکن غریب ہو تو یتیم کے مال سے اپنا حق خدمت دستور کے مطابق لے سکتا ہے۔ ۵۔ مال حوالے کیا جائے تو اُس پر کچھ ثقہ اور معتبر لوگوں کو گواہ بنا لینا چاہیے تاکہ کسی سوء ظن اور اختلاف و نزاع کا احتمال باقی نہ رہے۔ پھر یاد رکھنا چاہیے کہ ایک دن یہی حساب اللہ تعالیٰ کو بھی دینا ہے اور وہ سمیع و علیم ہے، اُس سے کوئی چیز چھپائی نہیں جا سکتی۔ ۶۔ مرنے والے کے ترکے میں وارثوں کے حصے اگرچہ متعین ہیں، لیکن تقسیم وراثت کے موقع پر قریبی اعزہ اور یتامیٰ و مساکین آ جائیں تو اِس سے قطع نظر کہ قانونی لحاظ سے اُن کا کوئی حق بنتا ہے یا نہیں ، اُنھیں کچھ دے دلا کر اور اچھی بات کہہ کر رخصت کرنا چاہیے۔ اِس طرح کے موقعوں پر یہ بات ہر شخص کو یاد رکھنی چاہیے کہ اُس کے بچے بھی یتیم ہو سکتے ہیں اور وہ بھی اِسی طرح اُنھیں دوسروں کی نگاہ التفات کا محتاج چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہو سکتا ہے ۔