۶
امن اور آزادی انسانی تمدن کی ناگزیر ضرورت ہے۔ فرد کی سرکشی سے اُس کی حفاظت کے لیے تادیب اور سزائیں ہیں، لیکن اگر قومیں شوریدہ سر ہو جائیں تو ہر شخص جانتا ہے کہ اُن کے خلاف تلوار اٹھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ نصیحت اور تلقین جب تک کارگر ہو، تلوار اٹھانے کو کوئی شخص بھی جائز قرار نہ دے گا، مگر جب کسی قوم کی سرکشی اور شوریدہ سری اِس حد کو پہنچ جائے کہ اُسے نصیحت اور تلقین سے صحیح راستے پر لانا ممکن نہ رہے تو انسان کا حق ہے کہ اُس کے خلاف تلوار اٹھائے اور اُس وقت تک اٹھائے رکھے، جب تک امن اور آزادی کی فضا دنیا میں بحال نہ ہو جائے۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ تلوار اٹھانے کی یہ اجازت اگر نہ دی جاتی تو قوموں کی سرکشی اِس انتہا کو پہنچ جاتی کہ تمدن کی بربادی کا تو کیا ذکر، معبد تک ویران کر دیے جاتے اور اُن جگہوں پر خاک اڑتی، جہاں اب شب و روز اللہ پروردگار عالم کا نام لیا جاتا اور اُس کی عبادت کی جاتی ہے۔ اسلامی شریعت میں جہاد* اِسی مصلحت سے کیا جاتا ہے۔ یہ نہ خواہش نفس کے لیے ہے، نہ مال و دولت کے لیے، نہ ملک کی تسخیر اور زمین کی حکومت کے لیے، نہ شہرت و ناموری کے لیے اور نہ حمیت و حمایت اور عصبیت یا عداوت کے کسی جذبے کی تسکین کے لیے۔ انسان کی خود غرضی اور نفسانیت کا اِس جہاد و قتال کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ اللہ کی جنگ ہے جو اُس کے بندے، اُس کے حکم پر اور اُس کی ہدایت کے مطابق اُس کی راہ میں لڑتے ہیں۔ اُن کی حیثیت اِس جنگ میں محض آلات و جوارح کی ہے۔ اِس میں اُنھیں اپنا کوئی مقصد نہیں، بلکہ خدا کے مقاصد پورے کرنا ہوتے ہیں۔ لہٰذا وہ اپنی اِس حیثیت سے سرمو کوئی انحراف نہیں کر سکتے۔ اِس کا قانون یہ ہے:
۱۔ جہاد کا حکم
جہاد و قتال کا حکم مسلمانوں کو بحیثیت جماعت دیا گیا ہے۔ اِس کی جو آیتیں بھی قرآن میں آئی ہیں ، مسلمان اپنی انفرادی حیثیت میں اُن کے مخاطب ہی نہیں ہیں۔ حدودوتعزیرات کی طرح اِن آیات کے مخاطب وہ بحیثیت جماعت ہیں۔ لہٰذا اِس معاملے میں کسی اقدام کا حق بھی اُن کے نظم اجتماعی کو حاصل ہے۔ اُن کے اندر کا کوئی فرد یا گروہ ہرگز یہ حق نہیں رکھتا کہ اُن کی طرف سے اِس طرح کے کسی اقدام کا فیصلہ کرے۔
۲۔جہاد کا مقصد
قرآن میں اِس کا حکم اصلاً فتنہ کے استیصال کے لیے آیا ہے۔ اِس کے معنی کسی شخص کو ظلم و جبر کے ساتھ اُس کے مذہب سے برگشتہ کرنے کی کوشش کے ہیں۔ یہی چیز ہے جسے انگریزی زبان میں’ persecution‘کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جان و مال اور عقل و راے کے خلاف زیادتی کی دوسری تمام صورتیں اِسی کے تحت ہیں۔ چنانچہ ظلم و عدوان جس صورت میں بھی ہو، یہ اُس کے خلاف کیا جا سکتا ہے۔
۳۔ جہاد کی فرضیت
جہاد مسلمانوں پر اُس وقت تک فرض نہیں ہوتا، جب تک دشمن کے مقابلے میں اُن کی حربی قوت ایک خاص حد تک نہ پہنچ جائے، لہٰذا ضروری ہے کہ جہاد و قتال کی اِس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے وہ نہ صرف یہ کہ اپنے اخلاقی وجود کو محکم رکھنے کی کوشش کریں، بلکہ اپنی حربی قوت بھی اُس درجے تک لازماً بڑھائیں جس کا حکم قرآن نے زمانۂ رسالت کے مسلمانوں کو اُس وقت کی صورت حال کے لحاظ سے دیا تھا اور اُن کے اور اُن کے دشمنوں کے درمیان اِس کے لیے ایک اور دو کی نسبت قائم کر دی تھی۔
۴۔ جہاد میں شرکت
جہاد میں عملاً حصہ نہ لینا صرف اُس صورت میں جرم ہے، جب کوئی مسلمان نفیر عام کے باوجود گھر میں بیٹھا رہے۔ اُس وقت یہ بے شک، نفاق جیسا بڑا جرم بن جاتا ہے۔ یہ صورت نہ ہو تو جہاد ایک فضیلت ہے جس کے حصول کا جذبہ ہر شخص میں ہونا چاہیے۔ لیکن اِس کی حیثیت ایک درجۂ فضیلت ہی کی ہے، یہ اُن فرائض میں سے نہیں ہے جنھیں پورا نہ کیا جائے تو آدمی مجرم قرار پائے۔
۵۔ جہاد سے فرار
جہاد و قتال کے لیے میدان میں اترنے کے بعد بزدلی اور فرار کی نوعیت کا پیٹھ دکھانا حرام ہے۔ کسی صاحب ایمان کو ہرگز اِس کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نصرت پر بے اعتمادی، دنیا کی آخرت پر ترجیح اور موت و حیات کو اپنی تدبیر پر منحصر قرار دینے کا جرم ہے جس کی ایمان کے ساتھ کوئی گنجایش نہیں مانی جا سکتی۔
۶۔ اخلاقی حدود
جہاد اخلاقی حدود سے بے پروا ہو کر نہیں کیا جا سکتا۔ اخلاقیات ہر حال میں اور ہر چیز پر مقدم ہیں اور جنگ و جدال کے موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے اِن سے انحراف کی اجازت کسی شخص کو نہیں دی۔ اِس حکم کے ذیل میں جو سب سے اہم ہدایت قرآن میں بیان ہوئی ہے، وہ عہد کی پابندی کی ہے۔ غدر اور نقض عہد کو اللہ تعالیٰ نے بد ترین گناہ قرار دیا ہے۔ چنانچہ کوئی معاہد قوم اگر مسلمانوں پر ظلم بھی کر رہی ہو تو معاہدے کی خلاف ورزی کرکے اُن کی مدد نہیں کی جا سکتی۔ اِسی طرح جو لوگ جنگ کے موقع پر کسی وجہ سے غیر جانب دار رہنا چاہتے ہوں، اُن کے خلاف بھی کسی اقدام کی اجازت نہیں ہے۔ جہاد کے لیے نکلتے وقت تکبر اور نمایش کا رویہ بھی اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ طنطنہ اور طمطراق کسی بندۂ مومن کے شایان شان نہیں ہے۔ رزم ہو یا بزم، خدا کے بندوں پر عبدیت کی تواضع اور فروتنی ہر حال میں نمایاں رہنی چاہیے۔
۷۔ نصرت الٰہی
مسلمان یہ جنگ اللہ کے بھروسے پر لڑتے ہیں، لیکن قرآن نے واضح کر دیا ہے کہ اِس میں اللہ کی مدد حاصل کرنے کے لیے سب سے بنیادی چیز صبر و ثبات ہے۔ مسلمانوں کی کسی جماعت کے لیے نصرت الٰہی کا استحقاق اُس وقت تک پیدا نہیں ہوتا، جب تک وہ یہ صفت اپنے اندر پیدا نہ کر لے۔
۸۔ اسیران جنگ
جنگ کے قیدیوں کو مسلمان چھوڑ بھی سکتے ہیں اور اُن سے فدیہ بھی لے سکتے ہیں، مگر اُنھیں قتل کرنے یا لونڈی غلام بنا کر رکھ لینے کی گنجایش قرآن مجید نے ہمیشہ کے لیے ختم کر دی ہے۔
۹۔ اموال غنیمت
اموال غنیمت اصلاً اجتماعی مقاصد کے لیے خاص ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجاہدین کا کوئی ابدی حق اُن میں قائم نہیں کیا گیا کہ مسلمانوں کی حکومت اُسے ہر حال میں ادا کرنے کی پابند ہو۔ وہ اپنے حالات اور اپنی تمدنی ضرورتوں کے لحاظ سے جو طریقہ چاہے،اِس معاملے میں اختیار کر سکتی ہے۔