۱
دین کا مقصد تزکیہ ہے ۔ اِس کے منتہاے کمال تک پہنچنے کا ذریعہ اللہ اور بندے کے درمیان عبد و معبود کے تعلق کا اُس کے صحیح طریقے سے قائم ہو جانا ہے۔ یہ تعلق جتنا محکم ہوتا ہے، انسان اپنے علم و عمل کی پاکیزگی میں اتنا ہی ترقی کرتا ہے۔ محبت، خوف، اخلاص و وفا اور اللہ تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں اور بے نہایت احسانات کے لیے احساس و اعتراف کے جذبات، یہ اِس تعلق کے باطنی مظاہر ہیں۔ انسان کے شب و روز میں اِس کا ظہور بالعموم تین ہی صورتوں میں ہوتا ہے: پرستش، اطاعت اور حمیت و حمایت۔ انبیا علیہم السلام کے دین میں عبادات اِسی تعلق کی یاددہانی کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔ نماز اور زکوٰۃ پرستش ہے۔ قربانی اور عمرہ کی حقیقت بھی یہی ہے۔ روزہ و اعتکاف اطاعت اور حج اللہ تعالیٰ کے لیے حمیت و حمایت کا علامتی اظہار ہے ۔ نماز اِن میں اہم ترین عبادت نما زہے۔ دین کی حقیقت، اگر غور کیجیے تو معبود کی معرفت اور اُس کے حضور میں خوف و محبت کے جذبات کے ساتھ خضوع و تذلل ہی ہے۔ اِس حقیقت کا سب سے نمایاں ظہور پرستش ہے۔ تسبیح و تحمید، دعا و مناجات اور رکوع و سجود اِس پرستش کی عملی صورتیں ہیں۔ نماز یہی ہے اور اِن سب کو غایت درجہ حسن توازن کے ساتھ اپنے اندر جمع کر لیتی ہے۔ دین میں اِس عبادت کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ ایمانیات میں جو حیثیت توحید کی ہے، وہی اعمال میں نماز کی ہے۔ یہ خدا کی یاد کو قائم رکھنے کے لیے فرض کی گئی ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ آیات الٰہی کی تذکیر سے خدا کی جو معرفت حاصل ہوتی ہے اور اُس سے اللہ تعالیٰ کے لیے محبت اور شکرگزاری کے جو جذبات انسان کے اندر پیدا ہوتے ہیں یا ہونے چاہییں، اُن کا پہلا ثمرہ یہی نماز ہے۔ یہ اسلام کا ستون ہے، دنیا اور آخرت میں آدمی کے مسلمان سمجھے جانے کی شرائط میں سے ہے، دین پر قائم رہنے کا ذریعہ ہے، مشکل کشا ہے، گناہوں کو مٹاتی ہے، دعوت حق کی پہچان ہے، راہ حق میں استقامت کی بنیاد ہے، کائنات کی فطرت ہے، حقیقی زندگی ہے۔ خدا کی معرفت، اُس کا ذکر و فکر اور اُس کی قربت کا احساس جب منتہاے کمال کو پہنچتا ہے تو نماز بن جاتا ہے۔ دنیا کے سب عارفوں کا فیصلہ ہے کہ اصل زندگی دل کی زندگی ہے اور دل کی زندگی یہی معرفت، ذکر و فکر اور قربت الٰہی ہے۔ یہ زندگی انسان کو صرف نماز سے حاصل ہوتی ہے اور نماز ہی سے باقی رہتی ہے۔

نماز کی تاریخ

اِس کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے، جتنی خود مذہب کی ہے۔ اِس کا تصور تمام مذاہب میں رہا ہے اور اِس کے مراسم اور اوقات بھی کم و بیش متعین رہے ہیں۔ ہندووں کے بھجن، پارسیوں کے زمزمے، عیسائیوں کی دعائیں اور یہودیوں کے مزامیر، سب اِسی کی یادگاریں ہیں۔ قرآن نے بتایا ہے کہ اللہ کے تمام پیغمبروں نے اِس کی تعلیم دی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت جس دین ابراہیمی کی تجدید کے لیے ہوئی، اُس میں بھی اِس کی حیثیت سب سے نمایاں ہے۔ قرآن نے جب لوگوں کو اِس کا حکم دیا تو یہ اُن کے لیے کوئی اجنبی چیز نہ تھی۔ وہ اِس کے آداب و شرائط اور اعمال و اذکار سے پوری طرح واقف تھے۔ چنانچہ اِس بات کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ قرآن اِس کی تفصیلات بیان کرتا۔ دین ابراہیمی کی ایک روایت کی حیثیت سے یہ جس طرح ادا کی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے حکم پر بعض ترامیم کے ساتھ اِسے ہی اپنے ماننے والوں کے لیے جاری فرمایا اور نسل در نسل، وہ اُسی طرح اِسے ادا کر رہے ہیں۔

نماز کے شرائط

نماز کے لیے جن چیزوں کا اہتمام ضروری ہے، وہ یہ ہیں: نماز پڑھنے والا نشے میں نہ ہو، وہ اگر عورت ہے تو حیض و نفاس کی حالت میں نہ ہو، وہ باوضو ہو اور حیض و نفاس یا جنابت کے بعد اُس نے غسل کر لیا ہو، سفر، مرض یا پانی کی نایابی کی صورت میں، یہ دونوں مشکل ہو جائیں تو وہ تیمم کر لے، قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز کے لیے کھڑا ہو۔ وضو کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے منہ دھویا جائے، پھر کہنیوں تک ہاتھ دھوئے جائیں، پھر پورے سر کا مسح کیا جائے اور اِس کے بعد پاؤں دھو لیے جائیں۔ وضو اگر ایک مرتبہ کر لیا جائے تو اُس وقت تک قائم رہتا ہے، جب تک کوئی ناقض حالت آدمی کو پیش نہ آ جائے۔ چنانچہ وضو کی یہ ہدایت اُس حالت کے لیے ہے، جب وضو باقی نہ رہا ہو، الاّ یہ کہ کوئی شخص نشاط خاطر کے لیے تازہ وضو کر لے۔ اِس کے نواقض درج ذیل ہیں : ۱۔ پیشاب کرنا ۔ ۲۔پاخانہ کرنا۔ ۳۔ ریح کا خارج ہونا، خواہ آواز سے ہو یا آہستہ ۔ ۴۔ مذی یا ودی کا خارج ہونا۔ سفر، مرض یا پانی کی نایابی کی صورت میں وضو اور غسل، دونوں مشکل ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے کہ آدمی تیمم کر سکتا ہے۔ اِس کا طریقہ یہ ہے کہ کوئی پاک جگہ دیکھ کر اُس سے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کر لیا جائے۔ یہ ہر قسم کی نجاست میں کفایت کرتا ہے۔ وضو کے نواقض میں سے کوئی چیز پیش آجائے تو اِس کے بعد بھی کیا جا سکتا ہے اور مباشرت کے بعد غسل جنابت کی جگہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ مرض اور سفر کی حالت میں پانی موجودہوتے ہوئے بھی آدمی تیمم کر سکتا ہے۔ اِس سے بظاہر کوئی پاکیزگی تو حاصل نہیں ہوتی، لیکن اگر غور کیجیے تو اصل طریقۂ طہارت کی یادداشت ذہن میں قائم رکھنے کے پہلو سے اِس کی بڑی اہمیت ہے۔ شریعت میں یہ چیز بالعموم ملحوظ رکھی گئی ہے کہ جب اصلی صورت میں کسی حکم پر عمل کرنا ممکن نہ ہو یا بہت مشکل ہو جائے تو شبہی صورت میں اُس کی یادگار باقی رکھی جائے۔ اِس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ حالات معمول پر آتے ہی طبیعت اصلی صورت کی طرف پلٹنے کے لیے آمادہ ہو جاتی ہے۔

نماز کے اعمال

نماز کے لیے جو اعمال مقرر کیے گئے ہیں، وہ یہ ہیں: نماز کی ابتدا رفع یدین سے، یعنی دونوں ہاتھ اوپر کی طرف اٹھا کر کی جائے، قیام کیا جائے، پھر رکوع کیا جائے، پھر آدمی قومہ کے لیے کھڑا ہو، پھر یکے بعد دیگرے دو سجدے کیے جائیں، ہر نماز کی دوسری اور آخری رکعت میں نماز پڑھنے والا دوزانو ہو کر قعدے کے لیے بیٹھے، نماز ختم کرنا پیش نظر ہو تو قعدے کی حالت میں منہ پھیر کر نماز ختم کر دی جائے۔

نماز کے اذکار

نماز کے اذکار درج ذیل ہیں: نماز شروع کرتے ہوئے ’اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘ کہا جائے، قیام میں سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی جائے، پھر اپنی سہولت کے مطابق باقی قرآن کے کچھ حصے کی تلاوت کی جائے، رکوع میں جاتے ہوئے ’اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘ کہا جائے، رکوع سے اٹھتے ہوئے ’سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ‘کہا جائے، سجدوں میں جاتے اور اُن سے اٹھتے ہوئے ’اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘ کہا جائے، قعدے سے قیام کے لیے اٹھتے ہوئے بھی ’اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘ کہا جائے، نماز ختم کرنے کے لیے ’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ‘ کہا جائے۔ ’اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘ (اللہ سب سے بڑا ہے)، ’سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ‘ (اللہ نے اُس کی بات سن لی جس نے اُس کی حمد کی) اور ’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ‘ (تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو) امام ہمیشہ بالجہر، یعنی بلند آواز سے کہے گا۔ مغرب اور عشا کی پہلی دو رکعتوں میں، اور فجر، جمعہ اور عیدین کی نمازوں میں قرا ء ت بھی بلند آواز سے کی جائے گی۔ مغرب کی تیسری اور عشا کی تیسری اور چوتھی رکعت میں یہ ہمیشہ سری ہوگی۔ ظہر اور عصر کی نمازوں میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ اِن کی چاروں رکعتوں میں قرا ء ت سری ہوگی۔ نماز کے لیے شریعت کے مقرر کر دہ اذکار یہی ہیں اور اِن کی زبان عربی ہے، اِن کے علاوہ نماز پڑھنے والا جس زبان میں چاہے، تسبیح و تحمید اور دعا و مناجات کی نوعیت کا کوئی ذکر اپنی نماز میں کر سکتا ہے۔

نماز کے اوقات

نماز مسلمانوں پر شب و روز میں پانچ وقت فرض کی گئی ہے۔ یہ اوقات درج ذیل ہیں: فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا۔ صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ ہو جائے تو یہ فجر ہے۔ ظہر سورج کے نصف النہار سے ڈھلنے کا وقت ہے۔ سورج مرأی العین سے نیچے آجائے تو یہ عصر ہے۔ سورج کے غروب ہو جانے کا وقت مغرب ہے۔ شفق کی سرخی ختم ہو جائے تو یہ عشا ہے۔ فجر کا وقت طلوع آفتاب تک، ظہر کا عصر، عصر کا مغرب، مغرب کا عشا اور عشا کا وقت آدھی رات تک ہے۔ سورج کے طلوع و غروب کے وقت چونکہ اُس کی عبادت کی جاتی تھی، اِس لیے یہ دونوں وقت نماز کے لیے ممنوع قرار دیے گئے ہیں۔ ابنیا علیہم السلام کے دین میں نماز کے اوقات ہمیشہ یہی رہے ہیں۔

نماز کی رکعتیں

نماز کے لیے جو رکعتیں مقرر کی گئی ہیں، وہ یہ ہیں: فجر: ۲رکعت ظہر: ۴رکعت عصر: ۴رکعت مغرب: ۳رکعت عشا: ۴رکعت نماز کی فرض رکعتیں یہی ہیں جن کے چھوڑنے پر قیامت میں مواخذہ ہوگا۔ چنانچہ اُن صورتوں کے سوا جن میں قصر کی اجازت دی گئی ہے، یہ لازماً پڑھی جائیں گی۔ اِن کے علاوہ باقی سب نمازیں نفل ہیں جن کا پڑھنا باعث اجر ہے، لیکن اُن کے چھوڑ دینے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی مواخذے کا اندیشہ نہیں ہے۔

نماز میں رعایت

نماز کا وقت کسی خطرے، پریشانی، افراتفری اور آپا دھاپی کی حالت میں آجائے تو اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے کہ پیدل چلتے ہوئے یا سواری پر، جس طرح ممکن ہو، نماز پڑھ لی جائے۔ اِس میں، ظاہر ہے کہ جماعت کا اہتمام نہیں ہوگا، قبلہ رو ہونے کی پابندی بھی برقرار نہ رہے گی اور نماز کے اعمال بھی بعض صورتوں میں اُن کے لیے مقرر کردہ طریقے پر ادا نہ ہو سکیں گے۔ اِس طرح کی صورت حال کسی سفر میں پیش آجائے تو قرآن نے مزید فرمایا ہے کہ لوگ نماز میں کمی بھی کر سکتے ہیں۔ اصطلاح میں اِسے قصر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کے لیے یہ سنت قائم کی ہے کہ صرف چار رکعت والی نمازیں دو رکعت پڑھی جائیں گی۔ دو اور تین رکعت والی نمازوں میں کوئی کمی نہ ہو گی۔ چنانچہ فجر اور مغرب کی نمازیں اِ س طرح کے موقعوں پر بھی پوری پڑھیں گے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ فجر پہلے ہی دو رکعت ہے اور مغرب دن کے وتر ہیں، اِن کی یہ حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔ نماز میں تخفیف کی اِس اجازت سے اِس کے اوقات میں تخفیف کا استنباط بھی کیا گیا ہے۔چنانچہ اِس طرح کے سفروں میں ظہرو عصر، اور مغرب اور عشا کی نمازیں جمع کر کے بھی پڑھی جاسکتی ہیں۔

نماز کی جماعت

نماز اگرچہ تنہا بھی ادا کی جا سکتی ہے،لیکن بہتر یہی ہے کہ اِس کو جماعت کے ساتھ اور ممکن ہو تو کسی معبد میں جا کر ادا کیا جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی مقصد سے یثرب پہنچ کر سب سے پہلے مسجد تعمیر کی اور مسلمانوں کی ہر بستی اور ہر محلے میں تعمیر مساجد کی روایت اِس کے ساتھ ہی قائم ہو گئی۔ اِن کی حاضری اور نماز باجماعت کا اہتمام بڑی فضیلت کی چیز ہے۔ عورتیں، بے شک اِس سے مستثنیٰ ہیں، لیکن کسی مسلمان مرد کو بغیر کسی عذر کے اِس سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ قیام جماعت کا طریقہ درج ذیل ہے: ۱۔ نماز سے پہلے اذان دی جائے گی تاکہ لوگ اِسے سن کر جماعت میں شامل ہو سکیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کے جو کلمات مقرر فرمائے ہیں، وہ یہ ہیں: اَللّٰہُ اَکْبَرُ؛ اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ؛ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ؛ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ؛ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ؛ اَللّٰہُ اَکْبَرُ؛ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ. ’’اللہ سب سے بڑا ہے؛ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے؛ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؛ نماز کی طرف آؤ؛ فلاح کی طرف آؤ؛ اللہ سب سے بڑا ہے؛ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔‘‘ ۲۔ ایک ہی مقتدی ہو تو وہ امام کے دائیں جانب اُس کے ساتھ کھڑا ہو گا اور زیادہ ہوں تو امام درمیان میں ہوگا اور وہ اُس کے پیچھے صف بنا کر کھڑے ہوں گے۔ ۳۔ نماز کھڑی کرنے کے لیے اقامت کہی جائے گی۔ اُس میں اذان ہی کے الفاظ دہرائے جائیں گے۔ اتنا فرق، البتہ ہو گا کہ ’حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ‘ کے بعد اقامت کہنے والا ’قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃُ‘ (نماز کھڑی ہو گئی ہے) بھی کہے گا۔ ۴۔ اذان کے کلمات پیش نظر مقصد کے لیے ایک سے زیادہ مرتبہ دہرائے جائیں گے۔ ۵۔ اقامت کے کلمات بھی اگر ضرورت ہو تو اِسی طرح دہرائے جا سکتے ہیں۔

نماز میں غلطی

نماز کے لیے جو اعمال و اذکار مقرر کیے گئے ہیں، اُن میں کوئی غلطی ہو جائے یا شبہ ہو کہ غلطی ہوئی ہے تو یہ سنت قائم کی گئی ہے کہ غلطی کی تلافی کرنا ممکن ہو تو تلافی کے بعد اور ممکن نہ ہو تو اِس کے بغیر ہی نماز کے آخر میں دو سجدے زیادہ کر لیے جائیں۔

جمعہ کی نماز

جمعہ کے دن مسلمانوں پر لازم کیا گیا ہے کہ نماز ظہر کی جگہ وہ اِسی دن کے لیے خاص ایک اجتماعی نماز کا اہتمام کریں گے۔ اِس نماز کا طریقہ یہ ہے: یہ نماز دو رکعت پڑھی جائے گی، نماز ظہر کے برخلاف اِس کی دونوں رکعتوں میں قرا ء ت جہری ہو گی، نماز کے لیے تکبیر کہی جائے گی، نماز سے پہلے امام حاضرین کی تذکیر و نصیحت کے لیے دو خطبے دے گا۔ یہ خطبے کھڑے ہو کر دیے جائیں گے۔ پہلے خطبے کے بعد اور دوسرا خطبہ شروع ہونے سے قبل امام چند لمحوں کے لیے بیٹھے گا، نماز کی اذان اُس وقت دی جائے گی، جب امام خطبے کی جگہ پر آجائے گا، اذان ہوتے ہی تمام مسلمان مردوں کے لیے ضروری ہے کہ اُن کے پاس اگر کوئی عذر نہ ہو تو اپنی مصروفیات چھوڑ کر نماز کے لیے حاضر ہو جائیں، نماز کا خطاب اور اُس کی امامت مسلمانوں کے ارباب حل و عقد کریں گے اور یہ صرف اُنھی مقامات پر ادا کی جائے گی جو اُن کی طرف سے اِس نماز کی جماعت کے لیے مقرر کیے جائیں گے اور جہاں وہ خود یا اُن کا کوئی نمایندہ اِس کی امامت کے لیے موجود ہو گا۔

عیدین کی نماز

عید الفطر اور عید الاضحی کے دن بھی مسلمانوں پر لازم ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد اور زوال سے پہلے وہ جمعہ ہی کی طرح ایک اجتماعی نماز کا اہتمام کریں۔ اِس کا طریقہ درج ذیل ہے: یہ نماز دو رکعت پڑھی جائے گی، دونوں رکعتوں میں قرا ء ت جہری ہو گی، قیام کی حالت میں نمازی چند زائد تکبیریں کہیں گے، نماز کے لیے نہ اذان ہو گی اور نہ تکبیر کہی جائے گی، نماز کے بعد امام حاضرین کی تذکیر و نصیحت کے لیے دو خطبے دے گا۔یہ خطبے کھڑے ہو کر دیے جائیں گے۔ پہلے خطبے کے بعد اور دوسرا خطبہ شروع کرنے سے قبل امام چند لمحوں کے لیے بیٹھے گا۔ اِس نماز کا خطاب اور اِس کی امامت بھی نماز جمعہ کی طرح مسلمانوں کے ارباب حل و عقد کریں گے اور یہ اُنھی مقامات پر ادا کی جائے گی جو اُن کی طرف سے اِس نماز کی جماعت کے لیے مقرر کیے جائیں گے اور جہاں وہ خود یا اُن کا کوئی نمایندہ اِس کی امامت کے لیے موجود ہو گا۔

جنازہ کی نماز

مرنے والوں کے لیے جنازہ کی نماز بھی انبیا علیہم السلام کے دین میں ضروری قرار دی گئی ہے۔ میت کو نہلانے اور اُس کی تجہیز و تکفین کے بعد یہ نماز جس طریقے سے ادا کی جائے گی، وہ یہ ہے: میت کو اپنے اور قبلہ کے درمیان رکھ کر مقتدی امام کے پیچھے صف بنا لیں گے، رفع یدین کے ساتھ ’اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘ کہہ کر نماز شروع کی جائے گی، عیدین کی طرح اِس نماز میں بھی چند زائد تکبیریں کہی جائیں گی، قیام کی حالت ہی میں تکبیرات اور دعاؤں کے بعد سلام پھیر کر نماز ختم کر دی جائے گی۔ نماز کی صورت میں کم سے کم یہی عبادت ہے جس کا مسلمانوں کو مکلف ٹھیرایا گیا ہے۔ تاہم قرآن کا ارشاد ہے کہ جس نے اپنے شوق سے نیکی کا کوئی کام کیا، اُسے اللہ قبول کرنے والا ہے۔ اِسی طرح فرمایا ہے کہ مصیبت کے موقعوں پر صبر اور نماز سے مدد چاہو۔ چنانچہ اِن ارشادات کے پیش نظر مسلمان اِس لازمی نماز کے علاوہ بالعموم نوافل کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔ اِس طرح کے جو نوافل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھے ہیں یا لوگوں کو پڑھنے کی ترغیب دی ہے، اُن کی تفصیلات روایتوں میں دیکھ لی جا سکتی ہیں۔ زکوٰۃ نماز کے بعد یہ دوسری اہم ترین عبادت ہے۔ اپنے معبودوں کے لیے پرستش کے جو آداب انسان نے بالعموم اختیار کیے ہیں، اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اپنے مال، مواشی اور پیداوار میں سے ایک حصہ اُن کے حضور میں نذر کے طور پر پیش کیا جائے۔ اِسے صدقہ، نیاز، نذرانے اور بھینٹ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ انبیا علیہم السلام کے دین میں زکوٰۃ کی حیثیت اصلاً یہی ہے اور اِسی بنا پر اِسے عبادت قرار دیا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن نے کئی جگہ اِس کے لیے لفظ صدقہ استعمال کیا ہے اور وضاحت فرمائی ہے کہ اِسے دل کی خستگی اور فروتنی کے ساتھ ادا کیا جائے۔ اِس کے بارے میں عام روایت یہ رہی ہے کہ نذر گزارنے کے بعد اِسے معبد سے اٹھا کر اُس کے خدام کو دیا جاتا تھا کہ وہ اِس سے عبادت کے لیے آنے والوں کی خدمت کریں۔ اب یہ طریقہ باقی نہیں رہا۔ اِس کی جگہ مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ نظم اجتماعی کی ضرورتوں کے لیے یہ مال ارباب حل و عقد کے سپرد کر دیا جائے۔ تاہم اِس کی حقیقت میں اِس سے کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ یہ خدا ہی کے لیے خاص ہے اور اُس کے بندے جب اِسے ادا کرتے ہیں تو اِس کی پذیرائی کا فیصلہ بھی اُسی بارگاہ سے ہوتا ہے۔

زکوٰۃ کی تاریخ

اِس کی تاریخ وہی ہے جو نماز کی ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی طرح اِس کا حکم بھی انبیا علیہم السلام کی شریعت میں ہمیشہ موجود رہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جب مسلمانوں کو اِس کے ادا کرنے کی ہدایت کی تو یہ اُن کے لیے کوئی اجنبی چیز نہ تھی۔ دین ابراہیمی کے تمام پیرو اِس کے احکام سے پوری طرح واقف تھے۔ چنانچہ یہ پہلے سے موجود ایک سنت تھی جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کے حکم سے اور ضروری اصلاحات کے بعد مسلمانوں میں جاری فرمایا ہے۔

زکوٰۃ کا مقصد

اِس کا مقصد، اگر غور کیجیے تو اِس کے نام ہی سے متعین ہو جاتا ہے۔ اِس لفظ کی اصل نمو اور طہارت ہے۔ لہٰذا اِس سے مراد وہ مال ہے جو پاکیزگی اور طہارت حاصل کرنے کے لیے دیا جائے۔ اِس سے واضح ہے کہ زکوٰۃ کا مقصد وہی ہے جو پورے دین کا ہے۔ یہ نفس کو اُن آلایشوں سے پاک کرتی ہے جو مال کی محبت سے اُس پر آسکتی ہیں، مال میں برکت پیدا کرتی ہے اور نفس انسانی کے لیے اُس کی پاکیزگی کو بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔ اللہ کی راہ میں انفاق کا یہ کم سے کم مطالبہ ہے جسے ایک مسلمان کو ہر حال میں پورا کرناہے، اِس لیے اِس سے وہ سب کچھ تو حاصل نہیں ہوتا جو اِس سے آگے انفاق کے عام مطالبات کو پورا کرنے سے حاصل ہوتا ہے، تاہم انسان کا دل اِس سے بھی اپنے پروردگار سے لگ جاتا اور اللہ تعالیٰ سے وہ غفلت بڑی حد تک دور ہو جاتی ہے جو دنیا اور اسباب دنیا کے ساتھ تعلق خاطر کی وجہ سے اُس پر طاری ہوتی ہے۔

زکوٰۃ کا قانون

زکوٰۃ کا قانون درج ذیل ہے: ۱۔ پیداوار، تجارت اور کاروبار کے ذرائع، ذاتی استعمال کی چیزوں اور حدنصاب سے کم سرمایے کے سوا کوئی چیز بھی زکوٰۃ سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ یہ ہر مال، ہر قسم کے مواشی اور ہر نوعیت کی پیداوار پر عائد ہو گی اور ہر سال ریاست کے ہر مسلمان شہری سے لازماً وصول کی جائے گی۔ ۲۔ اِس کی شرح یہ ہے: مال میں ۲ /۱ ۲ فی صدی سالانہ ۔ پیداوار میں اگر وہ اصلاً محنت یا اصلاً سرمایے سے وجود میں آئے تو ہر پیداوار کے موقع پراُس کا ۱۰فی صدی، اور اگر محنت اورسرمایہ، دونوں کے تعامل سے وجود میں آئے تو۵ فی صدی، اور دونوں کے بغیر محض عطےۂ خداوندی کے طور پر حاصل ہو جائے تو ۲۰ فی صدی ۔ مواشی میں ا۔ اونٹ ۵سے ۲۴تک ،ہر پانچ اونٹوں پر ایک بکر ی ۲۵سے ۳۵تک، ایک یک سالہ اونٹنی اور اگر وہ میسر نہ ہو تو دوسالہ اونٹ ۳۶ سے ۴۵تک، ایک دو سالہ اونٹنی ۴۶سے ۶۰تک، ایک سہ سالہ اونٹنی ۶۱ سے ۷۵تک، ایک چار سالہ اونٹنی ۷۶سے ۹۰تک، دو، دوسالہ اونٹنیاں ۹۱سے ۱۲۰تک، دو، سہ سالہ اونٹنیاں ۱۲۰سے زائد کے لیے ہر ۴۰ پر ایک دوسالہ اورہر ۵۰ پرایک سہ سالہ اونٹنی ب۔گائیں ہر ۳۰ پرایک یک سالہ اور ہر ۴۰پرایک دو سالہ بچھڑا ج۔بکریاں ۴۰سے ۱۲۰ تک،ایک بکری ۱۲۱سے ۲۰۰ تک، دوبکریاں ۲۰۱ سے ۳۰۰ تک، تین بکریاں ۳۰۰ سے زائد میں ہر ۱۰۰ پرایک بکری ۳۔ زکوٰۃ کے جو مصارف قرآن میں بیان ہوئے ہیں، اُن کی تفصیل یہ ہے: فقرا و مساکین کے لیے ۔ ریاست کے تمام ملازمین کی خدمات کے معاوضے میں۔ اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں تمام سیاسی اخراجات کے لیے۔ ہر قسم کی غلامی سے نجات کے لیے۔ نقصان، تاوان یا قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے لوگوں کی مدد کے لیے۔ دین کی خدمت اور لوگوں کی بہبود کے کاموں میں۔ مسافروں کی مدد اور اُن کے لیے سڑکوں، پلوں، سراؤں وغیرہ کی تعمیر کے لیے ۔ ۴۔ زکوٰۃ کی ایک قسم صدقۂ فطر بھی ہے۔ یہ ایک فرد کے لیے صبح و شام کا کھانا ہے جو چھوٹے بڑے ہر شخص کے لیے دینا لازم کیا گیا ہے اور رمضان کے اختتام پر نماز عید سے پہلے دیا جاتا ہے۔