۵

دین کا ایک اہم مطالبہ یہ ہے کہ جو لوگ اِس دنیا میں حق کو اختیار کریں، وہ اُسے اختیار کر لینے کے بعد دوسروں کو بھی برابر اُس کی تلقین و نصیحت کرتے رہیں۔ دین کا یہی مطالبہ ہے جس کے لیے بالعموم دعوت و تبلیغ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اِس کا جو قانون قرآن میں بیان ہوا ہے، اُس میں دعوت کی ذمہ داری اہل ایمان کی مختلف حیثیتوں کے لحاظ سے بالکل الگ الگ صورتوں میں اُن پر عائد کی گئی ہے۔ اِسے ہم درج ذیل عنوانات کے تحت بیان کر سکتے ہیں:

پیغمبر کی دعوت

اللہ تعالیٰ کے جو پیغمبر بھی دنیا میں آئے ہیں، دعوت الی اللہ اور انذار و بشارت کے لیے آئے ہیں۔ اِن میں سے نبیوں کا انذار و بشارت تو کسی وضاحت کا تقاضا نہیں کرتا، لیکن نبیوں میں سے اللہ تعالیٰ جنھیں رسالت کے منصب پر فائز کرتا ہے، اُن کے بارے میں البتہ، قرآن نے بتایا ہے کہ وہ اِس انذار کو اپنی قوموں پر شہادت کے مقام تک پہنچا دینے کے لیے مامور تھے۔ قرآن کی اصطلاح میں اِس کے معنی یہ ہیں کہ حق لوگوں پر اِس طرح واضح کر دیا جائے کہ اِس کے بعد کسی شخص کے لیے اُس سے انحراف کی گنجایش نہ ہو۔ اِس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اِن رسولوں کو اپنی دینونت کے ظہور کے لیے منتخب فرماتے اور پھر قیامت سے پہلے ایک قیامت صغریٰ اُن کے ذریعے سے اِسی دنیا میں برپا کر دیتے ہیں۔ اُنھیں بتا دیا جاتا ہے کہ وہ خدا کے ساتھ اپنے میثاق پر قائم رہیں گے تو اِس کی جزا اور اِس سے انحراف کریں گے تو اِس کی سزا اُنھیں دنیا ہی میں مل جائے گی۔ اِس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اُن کا وجود لوگوں کے لیے ایک آیت الٰہی بن جاتا ہے اور وہ خدا کو گویا اُن کے ساتھ زمین پر چلتے پھرتے اور عدالت کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اِس کے ساتھ اُنھیں حکم دیا جاتا ہے کہ جس حق کو وہ بچشم سر دیکھ چکے ہیں، اُس کی تبلیغ کریں اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت بے کم و کاست اور پوری قطعیت کے ساتھ لوگوں تک پہنچا دیں۔ یہی شہادت ہے۔ رسولوں کی دعوت میں انذار، انذار عام، اتمام حجت اور ہجرت و براء ت کے مراحل سے گزر کر یہ شہادت جب قائم ہو جاتی ہے تو دنیا اور آخرت، دونوں میں فیصلۂ الٰہی کی بنیاد بن جاتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اِن رسولوں کو غلبہ عطا فرماتے اور اِن کی دعوت کے منکرین پر اِسی دنیا میں اپنا عذاب نازل کر دیتے ہیں۔

ذریت ابراہیم کی دعوت

یہ دعوت وہی شہادت ہے جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ قرآن نے بتایا ہے کہ ذریت ابراہیم کو بھی اللہ تعالیٰ نے اِس شہادت کے لیے اُسی طرح منتخب کیااور اِس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کا حکم دیا ہے، جس طرح وہ بنی آدم میں سے بعض جلیل القدر ہستیوں کو نبوت و رسالت کے لیے منتخب کرتا ہے۔ ذریت ابراہیم کا یہی منصب ہے جس کے تحت یہ اگر حق پر قائم ہو اور اُسے بے کم و کاست اورپوری قطعیت کے ساتھ دنیا کی سب قوموں تک پہنچاتی رہے تو اُن کے نہ ماننے کی صورت میں اللہ تعالیٰ اِن قوموں پر اِسے غلبہ عطا فرماتے اور اِس سے انحراف کرے تو اِنھی کے ذریعے سے ذلت اور محکومی کے عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

علما کی دعوت

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انذار کی ذمہ داری اِس امت کے علما کو منتقل ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مسلمانوں کی ہر جماعت میں سے کچھ لوگ نکل کر آئیں، دین کا علم حاصل کریں اور اپنی قوم کے لیے نذیر بن کر اُسے آخرت کے عذاب سے بچانے کی کوشش کریں۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت کی اِس صورت میں یہ چند باتیں لازماً ملحوظ رہنی چاہییں: اول یہ کہ اِس کے لیے اٹھنے والے جس حق کو لے کر اٹھیں، اُس پر اُن کا اپنا ایمان بالکل راسخ ہونا چاہیے۔وہ جو بات بھی لوگوں کے سامنے پیش کریں، اُس پر اُن کے دل و دماغ کو اِس طرح مطمئن ہونا چاہیے کہ وہ خود بھی محسوس کریں کہ یہ اُن کے دل کی آواز اور روح کی صدا ہے جو اُن کی زبان پر آئی ہے۔ وہ اپنی ساری شخصیت کو اپنے رب کے حوالے کرکے اِس میدان میں اتریں اور جس چیز کی طرف لوگوں کو بلائیں، اُس کے بارے میں سب سے پہلے خود یہ اعلان کریں کہ وہ پورے دل اور پوری جان سے اُس پر ایمان لائے ہیں۔ دوم یہ کہ اُن کے قول و عمل میں کسی پہلو سے کوئی تضاد نہ ہو۔ وہ جس چیز کے علم بردار بن کر اٹھیں ، سب سے پہلے خود اُسے اپنائیں اور جس حق کی لوگوں کو دعوت دیں، اُن کا عمل بھی اُسی کی شہادت دے۔ سوم یہ کہ وہ حق کے معاملے میں کسی مداہنت سے کام نہ لیں ۔ دین کی چھوٹی سی چھوٹی حقیقت بھی جو اُن پر واضح ہو جائے ، اُسے دل سے قبول کریں ، زبان سے اُس کی گواہی دیں اور ملامت کرنے والوں کی ملامت کی پروا کیے بغیر اُسے بے کم و کاست دنیا کے سامنے پیش کردیں ۔ چہارم یہ کہ اپنے انذار کا ذریعہ وہ قرآن مجید کو بنائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن نے اِسی کا حکم دیا ہے اور آپ اِسی بنا پر پوری دنیا کے لیے نذیرہیں۔ علما درحقیقت آپ ہی کے اِس انذار کو لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔

ریاست کی دعوت

مسلمانوں کو اگر کسی خطۂ ارض میں سیاسی خودمختاری حاصل ہو جائے تو اُن کی ذمہ داری ہے کہ اپنے اندر سے کچھ لوگوں کو اِس کام پر مقرر کر یں کہ وہ لوگوں کو خیر کی طرف بلائیں، برائی سے روکیں اور بھلائی کی تلقین کریں۔ قیام حکومت کے بعد یہ فرض مسلمانوں کے ارباب حل و عقد پر عائد ہوتا ہے۔ اُن پر لازم ہے کہ نظم ریاست سے متعلق دوسری تمام فطری ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے ساتھ وہ اپنی یہ ذمہ داری بھی لازماً پوری کریں۔

فرد کی دعوت

فرد کی دعوت اپنے ماحول اور اپنے دائرۂ عمل میں ایک دوسرے کو بھلائی کی نصیحت کرنااور برائی سے روکنا ہے۔ دعوت کی اِس صورت میں داعی اور مدعو الگ الگ نہیں ہیں، بلکہ ہر شخص جس طرح ہر وقت داعی ہے، اِسی طرح مدعو بھی ہے۔ یہ فرض باپ کو بیٹے کے لیے اور بیٹے کو باپ کے لیے، بیوی کو شوہر کے لیے اور شوہر کو بیوی کے لیے، بھائی کو بہن کے لیے اور بہن کو بھائی کے لیے، دوست کو دوست کے لیے اور پڑوسی کو پڑوسی کے لیے، غرض یہ کہ ہر شخص کو اپنے ساتھ متعلق ہر شخص کے لیے ادا کرنا چاہیے۔ وہ جہاں یہ دیکھے کہ اُس کے متعلقین میں سے کسی نے کوئی خلاف حق طریقہ اختیار کیا ہے، اُسے چاہیے کہ اپنے علم اور اپنی استعداد و صلاحیت کے مطابق اُسے راستی کی روش اپنانے کی نصیحت کرے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ صبح ہم کسی شخص کو بھلائی کی ترغیب دیں اور شام کے وقت وہ ہمارے لیے یہ خدمت انجام دے۔ آج ہم کسی کو کوئی حق پہنچائیں اور کل وہ ہمیں اِس کی تلقین کرے۔ غرض یہ کہ جب موقع میسر آئے، ہر مسلمان کو اپنے دائرۂ عمل میں یہ کام لازماً انجام دیتے رہنا چاہیے۔

دعوت کی حکمت عملی

دعوت کی یہ حکمت عملی اِس کی ہر صورت سے متعلق ہے ۔ قرآن نے اِسے ایک اصل اصول کی حیثیت سے بیان کیا ہے اور یہ درج ذیل تین نکات پر مبنی ہے: اول یہ کہ دعوت ہمیشہ حکمت و موعظت اور مجادلۂ احسن کے اسلوب میں پیش کرنی چاہیے۔ حکمت سے مراد دلائل و براہین ہیں اور موعظت حسنہ سے دردمندانہ تذکیر و نصیحت۔ مدعا یہ ہے کہ داعی جو بات بھی کہے، وہ دلیل و برہان اور علم و عقل کی روشنی میں کہے اور اُس کا انداز چڑھ دوڑنے اور دھونس جمانے کا نہیں، بلکہ خیرخواہی اور شفقت و محبت کے ساتھ توجہ دلانے کا ہونا چاہیے۔ یہاں تک کہ بحث و مباحثہ کی نوبت بھی اگر آجائے تو اُس کے لیے پسندیدہ طریقے اختیار کیے جائیں اور اِس کے جواب میں حریف اشتعال انگیزی پر اتر آئے تو اُس کی اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے بجاے داعی حق ہمیشہ مہذب اور شایستہ ہی رہے۔ دوم یہ کہ داعی کی ذمہ داری صرف دعوت تک محدود ہے، یعنی بات پہنچا دی جائے، حق کو ہر پہلو سے واضح کر دیا جائے اور ترغیب و تلقین میں اپنی طرف سے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے۔ اُس نے اگر اپنا یہ فرض صحیح طریقے سے ادا کر دیا تو وہ اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہوا۔ لوگوں کی ہدایت اور گمراہی کا معاملہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔ وہ اُن کو بھی جانتا ہے جو اُس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور اُن کو بھی جو ہدایت پانے والے ہیں۔ لہٰذا ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کا وہ مستحق ہو گا۔ داعی کو نہ داروغہ بننا چاہیے، نہ اپنے مخاطبین کے لیے جنت اور جہنم کے فیصلے صادر کرنے چاہییں۔ یہ سب معاملات اللہ تعالیٰ سے متعلق ہیں۔داعی حق کی ذمہ داری صرف ابلاغ ہے۔ اُسے چاہیے کہ اپنی اِس ذمہ داری سے ہرگز کوئی تجاوز نہ کرے۔ سوم یہ کہ دعوت کے مخاطبین اگر ظلم و زیادتی اور ایذا رسانی پر اتر آئیں تو داعی کو اخلاقی حدود کے اندر رہتے ہوئے اتنا بدلہ لینے کا حق ہے جتنی تکلیف اُسے پہنچائی گئی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کو پسند یہی ہے کہ صبر سے کام لیا جائے۔ اِس صبر کے معنی یہ ہیں کہ حق کے داعی ہر اذیت برداشت کر لیں، لیکن نہ انتقام کے لیے کوئی اقدام کریں، نہ مصیبتوں اور تکلیفوں سے گھبرا کر اپنے موقف میں کوئی ترمیم و تغیر کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اِس موقع پر صبر کرنے والوں کے لیے بڑی نعمت کا وعدہ ہے۔ اِس کا نتیجہ دنیا میں بھی اُن کے لیے بہترین صورت میں ظاہر ہو گا اور قیامت میں بھی خدا نے چاہا تو وہ اِس کے بہترین نتائج دیکھیں گے۔