۸ دین ہر پہلو سے نفس انسانی کا تزکیہ چاہتا ہے، اِس لیے اُسے اِس بات پر ہمیشہ اصرار رہا ہے کہ باطن کی تطہیر کے ساتھ کھانے اور پینے کی چیزوں میں بھی خبیث و طیب کا فرق ہر حال میں ملحوظ رہنا چاہیے۔ انسان کی فطرت اِس معاملے میں بالعموم اُس کی صحیح رہنمائی کرتی ہے اور وہ بغیر کسی تردد کے فیصلہ کر لیتا ہے کہ کیا چیز طیب اور کیا خبیث ہے۔ وہ ہمیشہ سے جانتا ہے کہ شیر، چیتے، ہاتھی، چیل، کوے، گد، عقاب، سانپ، بچھو اور خود انسان کوئی کھانے کی چیز نہیں ہیں۔ اُسے معلوم ہے کہ گھوڑے اور گدھے دستر خوان کی لذت کے لیے نہیں ، سواری کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔اِن جانوروں کے بول و براز کی نجاست سے بھی وہ پوری طرح واقف ہے۔ نشہ آور چیزوں کی غلاظت کو سمجھنے میں بھی اُس کی عقل عام طور پر صحیح نتیجے پر پہنچتی ہے۔ چنانچہ خدا کی شریعت نے اِس معاملے میں انسان کو اصلاً اُس کی فطرت ہی کی رہنمائی پر چھوڑ دیا ہے۔ انسان کی یہ فطرت کبھی کبھی مسخ ہو جاتی ہے ، لیکن دنیا میں انسانوں کی عادات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اُن کی ایک بڑی تعداد اِس معاملے میں بالعموم غلطی نہیں کرتی۔ چنانچہ شریعت نے اِس طرح کی کسی چیز کو اپنا موضوع نہیں بنایا۔ اِس باب میں شریعت کا موضوع صرف وہ جانور اور اُن کے متعلقات ہیں جن کی حلت و حرمت کا فیصلہ تنہا عقل و فطرت کی رہنمائی میں کر لینا انسانوں کے لیے ممکن نہ تھا۔ سؤر انعام کی قسم کے بہائم میں سے ہے، لیکن وہ درندوں کی طرح گوشت بھی کھاتا ہے، پھر اُسے کیا کھانے کا جانور سمجھا جائے گا یا نہ کھانے کا؟ وہ جانور جنھیں ہم ذبح کرکے کھاتے ہیں، اگر تذکیے* کے بغیر مر جائیں تو اُن کا حکم کیا ہونا چاہیے؟ اِنھی جانوروں کا خون کیا اِن کے بول و براز کی طرح نجس ہے یا اُسے حلال و طیب قرار دیا جائے گا؟ یہ اگر اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کر دیے جائیں تو کیا پھر بھی حلال ہی رہیں گے؟ اِن سوالوں کا کوئی واضح اور قطعی جواب چونکہ انسان کے لیے دینا مشکل تھا، اِس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کے ذریعے سے اُسے بتایا کہ سؤر، خون، مردار اور خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانور بھی کھانے کے لیے پاک نہیں ہیں اور انسان کو اُن سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اِس حکم کی جو توضیحات قرآن میں بیان ہوئی ہیں، وہ یہ ہیں: ۱۔ طبعی موت سے مرے ہوئے اور ناگہانی حوادث سے مرے ہوئے جانور میں کوئی فرق نہیں کیا جائے گا، یہ دونوں یکساں مردار ہوں گے۔ کسی درندے کا پھاڑاہوا جانور بھی مردار ہے، الاّ یہ کہ اُسے زندہ پا کر ذبح کر لیا گیا ہو۔ ۲۔ سدھایا ہوا جانور اگر شکار کو پھاڑ دے اور شکار ذبح کی نوبت آنے سے پہلے ہی دم توڑ دے تو اِس طرح کے جانور کا اُسے پھاڑنا ہی اُس کا تذکیہ ہے، لہٰذا اُسے ذبح کیے بغیر کھایا جا سکتا ہے۔ تاہم اِس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اُسے اپنے مالک کے لیے روک رکھے۔ اُس میں سے جانور نے اگر کچھ کھا لیا ہے تو اُس کا شکار جائز نہ رہے گا۔ ۳۔ وہ جانور بھی حرام ہے جو کسی آستانے پر ذبح کیا گیا ہو۔ جس ذبیحہ پر غیر اللہ کا نام تو نہیں لیا گیا ، لیکن اللہ کا نام بھی نہیں لیا گیا، وہ بھی اِسی کے تحت ہے۔ یہی معاملہ اُس ذبیحہ اورصیدکا ہے جس پر اللہ کا نام لیا گیا، مگر نام لینے والا اللہ تعالیٰ کو نہیں مانتا یا مانتا تو ہے ، لیکن خداؤں کی انجمن میں ایک رب الارباب کی حیثیت سے مانتا ہے اور شرک ہی کو اصلاً اپنا دین قرار دیتا ہے۔ ۴۔ اِن محرمات سے استثنا صرف حالت اضطرار کا ہے اور وہ بھی اِس طرح کہ آدمی نہ خواہش مند ہو، نہ ضرورت کی حد سے آگے بڑھنے والا ہو۔