۱

ایمان ایک دینی اصطلاح ہے۔ کسی چیز کو دل کے پورے یقین کے ساتھ تسلیم کر لیا جائے تو اِسے ایمان کہا جاتا ہے۔ اِس کی اصل خدا پر ایمان ہے۔ انسان اگر اپنے پروردگار کو اِس طرح مان لے کہ تسلیم و رضا کے بالکل آخری درجے میں اپنے دل و دماغ کو اُس کے حوالے کر دے تو قرآن کی اصطلاح میں وہ مومن ہے۔ ایمان کی یہی حقیقت ہے جس کی بنا پر قرآن تقاضا کرتا ہے کہ انسان کے قول و عمل کو بھی اِس پر گواہ ہونا چاہیے۔ چنانچہ ہر نیکی کو وہ ایمان کا خاصہ اور ایمان والوں کا لازمی وصف بتاتا ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ قانون کی نگاہ میں ہر وہ شخص مومن ہے جو زبان سے اسلام کا اقرار کرتا ہے۔ اُس کا یہ ایمان کم یا زیادہ بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن جہاں تک حقیقی ایمان کا تعلق ہے، وہ ہرگز کوئی جامد چیز نہیں ہے۔ اللہ کے ذکر اور اُس کی آیتوں کی تلاوت اور انفس و آفاق میں اُن کے ظہور سے اُ س میں افزونی ہوتی ہے۔ قرآن مجید نے اُسے ایک ایسے درخت سے تشبیہ دی ہے جس کی جڑیں زمین کی گہرائیوں میں اتری ہوئی اور شاخیں آسمان کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی ہوں۔ یہی معاملہ ایمان میں کمی کا ہے۔ انسان اگر اپنے ایمان کو علم نافع اور عمل صالح سے برابر بڑھاتے رہنے کے بجاے اُس کے تقاضوں کے خلاف عمل کرنا شروع کر دے تو یہ کم بھی ہوتا ہے، بلکہ بعض حالات میں بالکل ختم ہو جاتا ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ ایمان اور عمل لازم و ملزوم ہیں۔ لہٰذا جس طرح ایمان کے ساتھ عمل ضروری ہے، اِسی طرح عمل کے ساتھ ایمان بھی ضروری ہے۔ نجات کے لیے قرآن نے ہر جگہ اِسے شرط اولین قرار دیا ہے۔ یہ ایمان درج ذیل پانچ چیزوں سے عبارت ہے: ۱۔ اللہ پر ایمان ۲۔ فرشتوں پر ایمان ۳۔ نبیوں پر ایمان ۴۔ کتابوں پر ایمان ۵۔ روز جزا پر ایمان

  اللہ پر ایمان

اللہ اُس ہستی کا نام ہے جو زمین و آسمان اور تمام مخلوقات کی خالق ہے۔ یہ نام ابتدا ہی سے پروردگار عالم کے لیے خاص رہا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عرب جاہلیت میں بھی یہ اِسی مفہوم کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ دین ابراہیمی کے جو باقیات عربوں کو وراثت میں ملے تھے، یہ لفظ بھی اُنھی میں سے ہے۔ اِس ہستی کا اقرار ایک ایسی چیز ہے جو ازل ہی سے انسان کی فطرت میں ودیعت کر دی گئی ہے۔ قرآن کا بیان ہے کہ یہ معاملہ ایک عہدومیثاق کی صورت میں ہوا ہے۔ اِس عہد کا ذکر قرآن ایک امرواقعہ کی حیثیت سے کرتا ہے۔ انسان کو یہاں امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے، اِس لیے یہ واقعہ تو اُس کی یادداشت سے محو کر دیا گیا ہے، لیکن اِس کی حقیقت اُس کے صفحۂ قلب پر نقش اور اُس کے نہاں خانۂ دماغ میں پیوست ہے، اِسے کوئی چیز بھی محو نہیں کر سکتی۔ چنانچہ ماحول میں کوئی چیز مانع نہ ہو اور انسان کو اِسے یاد دلایا جائے تو وہ اِس کی طرف اُسی طرح لپکتا ہے، جس طرح بچہ ماں کی طرف لپکتا ہے، دراں حالیکہ اُس نے کبھی اپنے آپ کو ماں کے پیٹ سے نکلتے ہوئے نہیں دیکھا، اور اِس یقین کے ساتھ لپکتا ہے، جیسے کہ وہ پہلے ہی سے اِس کو جانتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا کا یہ اقرار اُس کی ایک فطری احتیاج کے تقاضے کا جواب ہے جو اُس کے اندر ہی موجود تھا۔ اُس نے اِسے پالیا ہے تو اُس کی نفسیات کے تمام تقاضوں نے بھی اِس کے ساتھ ہی اپنی جگہ پالی ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ نفس انسانی کی یہ شہادت ایسی قطعی ہے کہ جہاں تک خدا کی ربوبیت کا تعلق ہے، ہر شخص مجرد اِس شہادت کی بنا پر اللہ کے حضور میں جواب دہ ہے۔ انسان کے باطن کی اِس رہنمائی کے ساتھ یہ صلاحیت بھی اُسے دی گئی ہے کہ اپنے ظاہری حواس سے جو کچھ وہ دیکھتا، سنتا اور محسوس کرتا ہے، اُس سے بعض ایسے حقائق کا استنباط کرے جو ماوراے حواس ہیں۔ اِس کی ایک سادہ مثال قانون تجاذب (Law of Gravitation) ہے۔ سیب درخت سے ٹوٹتا ہے تو زمین پر گر پڑتا ہے۔ پتھر کو زمین سے اٹھانا ہو تو اِس کے لیے طاقت خرچ کرنا پڑتی ہے۔ سیڑھیاں اترنے کے مقابلے میں چڑھنا مشکل ہوتا ہے۔ چاند اور تارے آسمان میں گردش کرتے ہیں۔ انسان اِن چیزوں کو صدیوں سے دیکھ رہا تھا، یہاں تک کہ نیوٹن نے ایک دن انکشاف کیا کہ یہ سب قانون تجاذب کا کرشمہ ہے۔ یہ قانون بذات خود ناقابل مشاہدہ ہے، لیکن اِس وقت پوری دنیا اِس کو ایک سائنسی حقیقت کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نظریہ تمام معلوم حقائق سے ہم آہنگ ہے۔ اِس سے تمام مشاہدات کی توجیہ ہو جاتی ہے اور دوسرا کوئی نظریہ ابھی تک ایسا سامنے نہیں آیا جو واقعات سے اِس درجہ مطابقت رکھتا ہو۔ یہ ظاہر ہے کہ محسوس سے غیر محسوس کا استنباط ہے۔ انسان جب اپنی اِس صلاحیت کو کام میں لا کر اپنا اور اپنے گردو پیش میں پھیلی ہوئی کائنات کا مطالعہ کرتا ہے تو اُس کا یہ مطالعہ بھی اُس کے باطن میں نہاں اِسی حقیقت کی گواہی دیتا ہے۔ چنانچہ وہ دیکھتا ہے کہ اِس دنیا کی ہر چیز حسن تخلیق کا معجزانہ اظہار ہے؛ ہر چیز میں اتھاہ معنویت ہے، غیرمعمولی اہتمام ہے؛ حکمت، تدبیر، منفعت اور حیرت انگیز نظم و ترتیب ہے؛ بے مثال اقلیدس اور ریاضی ہے جس کی کوئی توجیہ اِس کے سوا نہیں ہو سکتی کہ اِس کا ایک خالق ہے اور یہ خالق کوئی اندھی اور بہری طاقت نہیں ہے، بلکہ ایک لامحدود ذہن ہے۔ اِس لیے کہ طاقت کا ظہور اگر کسی علیم و حکیم ہستی کی طرف سے نہ ہو تو اُسے جبرمحض ہونا چاہیے، مگر یہ حقیقت ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ بلکہ اِس میں غایت درجہ موزونیت ہے، بے پناہ توافق ہے، اِس سے غیرمعمولی فوائد اور عجیب و غریب تغیرات پیدا ہوتے ہیں جو کسی اندھی اور بہری طاقت سے ہرگز پیدا نہیں ہو سکتے۔ یہ شواہد اگرچہ کافی تھے، مگر لوگوں پر اتمام حجت کے لیے اللہ تعالیٰ نے مزید اہتمام یہ فرمایا کہ انسانیت کی ابتدا ایک ایسے انسان سے کی جس نے خدا کی بات سنی، اُس کے فرشتوں کو دیکھا اور اِس طرح حقیقت کے براہ راست مشاہدے کی گواہی دے کر دنیا سے رخصت ہوا تاکہ اُس کا یہ علم نسل در نسل اُس کی ذریت کو منتقل ہوتا رہے اور خدا کا تصور انسانی زندگی کے کسی دور، زمین کے کسی خطے، کسی بستی، کسی پشت اور کسی نسل کے لیے کبھی اجنبی نہ ہونے پائے۔ پھر یہی نہیں، پہلے انسان کی حیثیت سے آدم و حوا کو دنیا میں بھیجنے کے بعد ایک عرصے تک یہ اہتمام بھی کیا گیا کہ بنی آدم اگر اپنے ایمان و عمل کی قبولیت یا عدم قبولیت اِسی دنیامیں جاننا چاہیں تو جان لیں۔ یہ گویا حقیقت کو اُس زمانے کے ہر شخص کے لیے تجربے اور مشاہدے کے درجے تک پہنچا دینا تھا تاکہ اپنے ماں باپ کے ساتھ وہ بھی اِس گواہی میں شامل ہو جائے۔ اِس کی صورت یہ ہوتی تھی کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور قربانی پیش کرتے، پھر آسمان سے ایک آگ اترتی اور قبولیت کی علامت کے طور پر اُسے کھالیتی تھی۔ اِس سے واضح ہے کہ خدا کا وجود ایک بدیہی حقیقت ہے جس کا تصور انسان اپنے آبا سے لے کر آیا ہے اور جس کی گواہی نفس اور مادہ، دونوں اپنے وجود سے دیتے ہیں۔ لیکن خدا کی ذات کیا ہے؟ اُس کی صفات کیا ہیں؟ وہ سنن کیا ہیں جو اُس نے اپنی ذات کے لیے مقرر کر رکھے ہیں؟ انسان اگر اپنے پروردگار کی معرفت حاصل کرنا چاہے تو یہ سوالات اُ س کے ذہن میں لازماً پیدا ہوتے ہیں۔ ایمان کے لیے یہ معرفت ضروری ہے۔ قرآن نے جب اللہ تعالیٰ پر ایمان کا مطالبہ کیا ہے تو اِن سوالوں کا جواب بھی دیا ہے۔ یہ جواب کیا ہے؟ ہم یہاں اِس کی وضاحت کریں گے۔

ذات

اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں قرآن نے پوری صراحت کے ساتھ واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی طرح انسان کے حیطۂ ادراک میں نہیں آسکتی۔ اِس لیے کہ ادراک کے ذرائع جس ہستی نے پیدا کیے ہیں، وہ تو یقیناًاُنھیں پاسکتی اور اُن کا احاطہ بھی کر سکتی ہے، لیکن یہ ذرائع کسی طرح اُس کا احاطہ نہیں کر سکتے جو خود اُن کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

صفات

اللہ تعالیٰ کی صفات، البتہ کسی نہ کسی درجے میں انسان کی گرفت میں آتی ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ صفات سے متعلق کچھ چیزیں، خواہ وہ کتنی ہی حقیر ہوں، انسان کے پاس بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم و خبر، قدرت، ربوبیت اور رحمت و حکمت کا کچھ حصہ ہمیں بھی عطا فرمایا ہے۔ اُس پر قیاس کر کے خدا کی اِن صفات کا کچھ تصور ہم قائم کر سکتے ہیں۔ چنانچہ قرآن جب کہتا ہے کہ وہ خالق ہے، قدیر ہے، رحمن و رحیم ہے، علیم و حکیم ہے، حی و قیوم ہے، اول و آخر اور ظاہر وباطن ہے تو اِس سے خدا کی صفات کا ایک تصور یقیناًقائم ہو جاتا ہے۔ اِن صفات کے سمجھنے میں جو چیزیں ملحوظ رہنی چاہییں، اُن میں سے ایک اِن کی جہت حسن ہے۔ اِس لیے کہ قدرت اُسی وقت مدح کی مستحق ہے، جب وہ رحمت، کرم اور عدالت کے ساتھ ہو۔ غصے، انتقام اور قہروغضب کا ظہور بھی ظلم و عدوان کے خلاف ہو تو قابل تحسین ہے۔ رحمت، مغفرت اور جودوکرم بھی اپنے محل ہی میں تعریف کے مستحق ہوتے ہیں۔ قرآن مجید میں غنی کے ساتھ حمید، علیم کے ساتھ حکیم اور عزیز کے ساتھ غفور کی صفات اِسی جہت حسن کی طرف رہنمائی کے لیے آئی ہیں۔ اِسی طرح یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا جو تصور بھی قائم کیا جائے گا، وہ جلال وجمال اور کمال سے خالی نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ اکیلا،یکتا،پناہ کی چٹان ،مثال کے طور پر، صفات کمال ہیں۔ منزہ،سلامتی،امن دینے والاصفات جمال اور بادشاہ، غالب،بڑے زور والاصفات جلال ہیں۔ انسان کے دل میں صفات جلال سے خوف، تعظیم اور مدح کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور صفات جمال سے حمد، رجا اور محبت کے۔ پھر صفات جلال حواس کے لیے زیادہ ظاہر اور صفات جمال عقل و دل کے زیادہ قریب ہوتی ہیں۔ پروردگار کو سامنے رکھا جائے تو صفات جمال کا غلبہ محسوس ہوتا ہے اور نفس انسانی نگاہوں کے سامنے ہو تو جلال کا پہلو نمایاں ہو جاتا ہے۔ انسان خدا سے ڈر کر اِسی بنا پر خدا کی طرف لپکتا اور اُس کی صفات جمال کے دامن میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ قرآن مجید جب یہ کہتا ہے کہ تمام اچھے نام اُسی کے ہیں تو اِس کے معنی اُس کے نزدیک یہی ہوتے ہیں کہ ہر وہ نام جو خدا کے جلال و جمال اور اُس کے کمال کو بیان کرتا ہے، وہ اچھا ہے اور اُس سے خدا کو پکارا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اِس لحاظ سے اہمیت کی حامل ہیں کہ اُن سے اُس کی عظمت نمایاں ہوتی ہے۔ انسان جب اُن کا صحیح تصور قائم کر لیتا ہے تو اِس کے نتیجے میں ایک ایسے خدا پر ایمان لاتا ہے جو یگانہ، یکتا اور بے ہمتا ہے؛ سب کے لیے پناہ کی چٹان ہے؛ زمین و آسمان اور اُن کے درمیان کی ہر چیز کا تنہا مالک ہے؛ اُس کی بادشاہی میں کوئی دوسرا شریک نہیں، اُس کے کارخانۂ قدرت میں کوئی دوسرا ساجھی نہیں؛ دنیا کی کوئی چیز اُس کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں؛ عالم کا کوئی معاملہ اُس کے حکم سے باہر نہیں؛ ہر چیز اُس کی محتاج ہے، مگر اُس کو کسی کی احتیاج نہیں؛ جمادات، نباتات، حیوانات، سب اُس کے حضور میں سجدہ ریز اور اُس کی تسبیح و تہلیل میں مشغول ہیں؛ اُس کی قدرت بے انتہا، اُس کی وسعت غیر محدود اور اُس کی مشیت کائنات کے ذرے ذرے میں کار فرما ہے؛ وہ جب چاہے اور جس چیز کو چاہے فنا کرے اور جب چاہے اُس کو پھر پیدا کر دے؛ عزت و ذلت، سب اُسی کے ہاتھ ہے؛ سب فانی ہیں، وہی باقی ہے؛ وہ وراء الوراء ہے، مگر رگ جاں سے قریب ہے؛ اُس کا علم اور اُس کی قدرت ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے؛ وہ دلوں کے بھید تک جانتا ہے؛ اُس کا ارادہ ہر ارادے میں نافذ اور اُس کا حکم ہر حکم سے بالاتر ہے؛ وہ ہر عیب سے پاک، ہر برائی سے منزہ اور ہر الزام سے بری ہے۔ اِن صفات کمال میں اہم ترین اللہ تعالیٰ کی توحید ہے۔ قرآن مجید نے سب سے زیادہ تاکید اور وضاحت کے ساتھ اِسے ہی بیان کیا ہے۔ یہاں تک کہ اِس صحیفۂ آسمانی کا آخری باب اپنے مضمون کے لحاظ سے جس سورہ پر ختم ہوا ہے، اُس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو ہدایت فرمائی ہے کہ لوگوں کے سامنے برملا اعلان کر دیا جائے کہ اللہ یکتا ہے، سب کا سہارا ہے، وہ نہ کسی کا باپ ہے نہ بیٹا اور اُس کا کوئی ہم سر بھی نہیں ہے۔ توحید کی یہی اہمیت ہے جس کے پیش نظر قرآن نے صراحت کی ہے کہ اِس کے بغیر انسان کا کوئی عمل مقبول نہیں ہے اور اِس کے ساتھ ہر غلطی کے بخشے جانے کی توقع ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ توحید پر ایمان کے ساتھ بندہ نہ گناہ پرسرکش ہو سکتا ہے اور نہ اُس کا ارتکاب کر لینے کے بعد توبہ و استغفار کی توفیق سے محروم رہ سکتا ہے۔ وہ لازماً پروردگار کی طرف لوٹتا ہے اور اِس طرح قیامت کی پیشی سے پہلے ہی اپنے لیے عفو ودر گذر کا استحقاق پیدا کر لیتا ہے۔ توحید کے جو دلائل قرآن میں آئے ہیں، وہ نہایت دل نشیں اور علم و عقل کے مسلمات پر مبنی ہیں۔ یہاں اتنی بات کافی ہے کہ خدا کی خدائی میں شریک ٹھیرانے کے لیے کسی کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ قرآن نے اپنے مخاطبین سے ایک سے زیادہ مقامات پر مطالبہ کیا ہے کہ عقل و نقل سے اِس کی دلیل پیش کر سکتے ہو تو ضرور کرو۔ خدا کا کوئی شریک ہے یا نہیں، اِس کے لیے اصلی گواہی خود خدا ہی کی ہو سکتی ہے اور خدا کی گواہی کو جاننے کا واحد ذریعہ اُس کی نازل کردہ کتابیں اور وہ روایات و آثار ہیں جو اُس کے نبیوں اور رسولوں سے نسل در نسل انسانیت کو منتقل ہوئے ہیں۔ اُن میں شرک کی تائید کے لیے کوئی شہادت موجود نہیں ہے۔

سنن

اللہ تعالیٰ جو معاملہ اپنے بندوں کے ساتھ کرتے اور جس طریقے سے کرتے ہیں، اُسے قرآن میں سنت الٰہی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ سنن ناقابل تغیر ہیں، اِن میں ہر گز کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ چنانچہ خدا کی معرفت کے لیے جس طرح اُس کی صفات کا علم ضروری ہے، اِسی طرح اِن سنن الٰہیہ کا علم بھی ضروری ہے۔ یہ سنن درج ذیل ہیں:

۱۔ ابتلا

اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا امتحان کے لیے بنائی ہے۔ خدا کے ایک عالمگیر قانون کی حیثیت سے یہ امتحان تمام عالم انسانیت کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ انسان کی طبیعت میں جو کچھ ودیعت ہے، وہ اِسی امتحان سے نمایاں ہوتا، نفس کے اسرار اِسی سے کھلتے اور علم و عمل کے درجات اِسی سے متعین ہوتے ہیں۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ موت و حیات کا یہ کارخانہ وجود میں آیا ہی اِس لیے ہے کہ اِس کا پروردگار دیکھ لے کہ کون سرکشی اختیار کرتا اور کون اُس کی پسند کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، لیکن اُس نے یہ سنت ٹھیرائی ہے کہ لوگوں کے ساتھ جزا و سزا کا معاملہ وہ مجرد اپنے علم کی بنیاد پر نہ کرے گا۔ یہ امتحان اِسی مقصد سے برپا کیا گیا ہے۔ اِس دنیا میں رنج و راحت، غربت و امارت، دکھ اور سکھ کی جو حالتیں انسان کو پیش آتی ہیں، وہ اِسی قانون کے تحت ہیں۔ اِن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا اور اِن کے کھوٹے اور کھرے میں امتیاز فرماتا ہے۔ وہ کسی کو مال و دولت او ر عزو جاہ سے نوازتا ہے تو اُس کے شکر کا امتحان کرتا ہے اور کسی کو فقر و مسکنت میں مبتلا کرتا ہے تو اُس کے صبر کا امتحان کرتا ہے۔

۲۔ ہدایت و ضلالت

اِس ابتلا میں انسان سے تقاضا کیا گیا ہے کہ گمراہی سے بچے اور اپنے لیے ہدایت کا راستہ اختیار کرے۔ قرآن نے بتایا ہے کہ یہ ہدایت اُس کی فطرت میں ودیعت ہے۔ پھر شعور کو پہنچنے کے بعد زمین و آسمان کی نشانیاں اِس کی طرف اُسے متوجہ کرتی ہیں۔ انسان اگر اِس ہدایت کی قدر کرے، اِس سے فائدہ اٹھائے اور خدا کی اِس نعمت پر اُس کا شکر گزار ہو تو خدا کی سنت ہے کہ وہ اِس کی روشنی کو اُس کے لیے بڑھاتا، اُس کے اندر مزید ہدایت کی طلب پیدا کرتا اور اِس کے نتیجے میں انبیا علیہم السلام کی لائی ہوئی ہدایت سے اُس کو بہرہ یاب ہونے کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ انسان اِس فطری ہدایت سے اعراض کا فیصلہ کر لے، اپنی عقل سے کام نہ لے اور جانتے بوجھتے حق سے انحراف کرے تو قرآن کی اصطلاح میں یہ ظلم اور فسق ہے اور خدا کسی ظالم اور فاسق کو کبھی ہدایت نہیں دیتا، بلکہ اُسے گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔

۳۔ تکلیف ما لا یطاق

انبیا علیہم السلام کے ذریعے سے جو شریعت انسانوں کو دی گئی ہے، اُس میں اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے کوئی ایسا حکم کبھی نہیں دیتا جو انسان کے تحمل سے باہر ہو۔ اُس کے تمام اعمال میں یہ معیار ہمیشہ سے قائم ہے کہ لوگوں کی طاقت سے زیادہ کوئی بوجھ اُن پر نہ ڈالا جائے اور جو حکم بھی دیا جائے، انسان کی فطرت کے مطابق اور اُس کی صلاحیتوں کو تول کر دیا جائے۔ چنانچہ بھول چوک، غلط فہمی اور بلا ارادہ کوتاہی پر اِس شریعت میں کوئی مواخذہ نہیں ہے اور لوگوں سے اِس کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ ظاہر و باطن میں وہ پوری صداقت اور دیانت داری کے ساتھ اُس کے احکام کی تعمیل کریں۔ تاہم اِس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ بندے اگر سرکشی اختیار کر لیں تو اُس وقت بھی اللہ تعالیٰ اُنھیں کوئی ایسی تکلیف نہیں دیتے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ تادیب و تربیت کے لیے، تعذیب کے لیے یا لوگوں کے برے اعمال کا نتیجہ اُن کو دکھانے یا خدا کے مقابلے میں اُن کا عجز اُن پر ظاہر کردینے کے لیے اِس طرح کی تکلیف یقیناًدی جاتی ہے۔

۴۔ عزل و نصب

ابتلا کا جو قانون اِس سے پہلے بیان ہوا ہے، اُس کے تحت اللہ تعالیٰ جس طرح افراد کو صبر یا شکر کے امتحان کے لیے منتخب کرتا ہے، اِسی طرح قوموں کو بھی منتخب کرتا ہے۔ اِس انتخاب کے نتیجے میں جب کوئی قوم ایک مرتبہ سرفرازی حاصل کر لیتی ہے تو اللہ اُس کے ساتھ اپنا معاملہ اُس وقت تک نہیں بدلتا،جب تک وہ علم و اخلاق کے لحاظ سے اپنے آپ کو پستی میں نہیں گرا دیتی۔ یہ خدا کی غیر متبدل سنت ہے اورا پنی اِس سنت کے مطابق جب کسی قوم کے لیے بار بار کی تنبیہات کے بعد وہ ذلت و نکبت کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اُس کا یہ فیصلہ کسی کے ٹالے نہیں ٹلتا اور دنیا کی کوئی قوت بھی خدا کے مقابلے میں اُس قوم کی کوئی مدد نہیں کر سکتی۔ انسان کی پوری تاریخ قوموں کے عزل و نصب میں اِس سنت کے ظہور کی گواہی دیتی ہے۔

۵۔ نصرت الٰہی

اللہ تعالیٰ جب اپنا کوئی مشن کسی فرد یا جماعت کے سپرد کرتا اور اُس کو اِسے پورا کرنے کا حکم دیتا ہے تو اُس کی مدد بھی فرماتا ہے۔ یہ مشن دعوت کا بھی ہو سکتا ہے اور جہاد و قتال کا بھی۔ اِس طرح کے کسی مشن کو پورا کرنے میں ایمان والوں کی مدد اللہ نے اپنے اوپر لازم کر رکھی ہے۔ یہ مدد الل ٹپ نہیں ہوتی، اِس کا ایک ضابطہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ضابطہ قرآن میں بیان فرمایا ہے۔ اُس کے بندوں کو یہ مدد اِ س ضابطے کے مطابق حاصل ہوتی ہے۔

۶۔ توبہ و استغفار

انسان جب کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے تو اِس کے لیے توبہ و استغفار کی گنجایش ہے۔ اِس معاملے میں قاعدہ یہ ہے کہ وہ اگر گناہ کے فوراً بعد توبہ کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُسے لازماً معاف کر دیتا ہے۔ لیکن اُن لوگوں کی توبہ ہر گز قبول نہیں کرتا جو زندگی بھر گناہوں میں ڈوبے رہتے اور جب دیکھتے ہیں کہ موت سر پر آن کھڑی ہوئی ہے تو توبہ کا وظیفہ پڑھنے لگتے ہیں۔ اِسی طرح جانتے بوجھتے حق کا انکار کر دینے والوں کی توبہ بھی قبول نہیں ہوتی، اگر وہ موت کے وقت تک اِس انکار پر قائم رہے ہوں۔

۷۔ جزا و سزا

موت کے بعد جزا و سزا تو ایک اٹل حقیقت ہے، لیکن قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات یہ اِ س دنیا میں بھی دی جاتی ہے۔ خدا کی عدالت کا جو ظہور قیامت کے دن اُس کے منتہاے کمال پر ہونے والا ہے، یہ اُسی کی تمہید ہے۔ اِس کی جو صورتیں اللہ تعالیٰ نے بالکل متعین طریقے پر بیان فرمائی ہیں، وہ یہ ہیں: اولاً، جو لوگ دنیا کے طالب ہوتے ہیں، اُسی کے لیے جیتے، اُسی کے لیے مرتے اور آخرت سے بالکل بے پرو ا ہو کر زندگی بسر کرتے ہیں، اُن کا حساب اللہ تعالیٰ جس کو جتنا چاہتا ہے، دے کر اِسی دنیا میں بے باق کر دیتا ہے اور اُن کی تمام کار گزاریوں کا پھل اُنھیں یہیں مل جاتا ہے۔ ثانیاً، رسولوں کے ذریعے سے اتمام حجت کے بعد اُن کے منکرین پر اِسی دنیا میں عذاب آجاتا ہے او رماننے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔ ثالثاً، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ذریت کے لیے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اگر حق پر قائم ہو تو اُسے قوموں کی امامت حاصل ہو گی اور انحراف کرے تو اِس منصب سے معزول کر کے ذلت اور محکومی کے عذاب میں مبتلا کر دی جائے گی۔

  فرشتوں پر ایمان

اللہ تعالیٰ جن ہستیوں کے ذریعے سے مخلوقات کے لیے اپنا حکم نازل کرتے ہیں، اُنھیں فرشتے کہا جاتا ہے۔ قرآن میں اُن کے لیے ’الملٰئکۃ‘ کا لفظ آیا ہے۔ یہ ’ملک‘ کی جمع ہے جس کے معنی پیام بر کے ہیں۔ چنانچہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ عالم لاہوت کے ساتھ اِس عالم ناسوت کا رابطہ اُن کی وساطت سے قائم ہوتا اور اِس کا تمام کاروبار اللہ تعالیٰ اُنھی کے ذریعے سے چلاتے ہیں۔ اِس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ بارگاہ خداوندی سے جو حکم اُنھیں القا کیا جاتا ہے، اُس کو وہ ایک محکوم محض کی طرح اُس کی مخلوقات میں جاری کر دیتے ہیں۔ اِس میں اُن کا کوئی ذاتی اختیار اور ذاتی ارادہ کارفرما نہیں ہوتا۔ وہ سر تا پا اطاعت ہیں، ہر وقت اپنے پروردگار کی حمد و ثنا میں مصروف رہتے ہیں اور اُس کے حکم سے سرِ مو انحراف نہیں کرتے۔