۲

ایمان کے بعد دین کا اہم ترین مطالبہ تزکیۂ اخلاق ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ انسان خلق اور خالق، دونوں سے متعلق اپنے عمل کو پاکیزہ بنائے۔ یہی وہ چیز ہے جسے عمل صالح سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تمام شریعت اِسی کی فرع ہے۔ تمدن کی تبدیلی کے ساتھ شریعت تو بے شک، تبدیل بھی ہوئی ہے، لیکن ایمان اور عمل صالح اصل دین ہیں، اِن میں کوئی ترمیم و تغیر کبھی نہیں ہوا۔ قرآن اِس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ جو شخص اللہ کے حضور میں آئے اور اُس کے پاس یہ دونوں ہوں، اُس کے لیے جنت ہے اور وہ اُس میں ہمیشہ رہے گا۔ اِس کے ساتھ یہ بات بھی قرآن نے واضح کر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسان کو دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سننے کے لیے کان دیے ہیں، بالکل اِسی طرح نیکی اور بدی کو الگ الگ پہچاننے کے لیے ایک حاسۂ اخلاقی بھی عطا فرمایا ہے۔ وہ محض ایک حیوانی اور عقلی وجود ہی نہیں ہے، اِس کے ساتھ ایک اخلاقی وجود بھی ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ خیروشر کا امتیاز اور خیر کے خیر اور شر کے شر ہونے کا احساس انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اُس کے دل و دماغ میں الہام کر دیا گیا ہے۔ یہ امتیاز ایک عالم گیر حقیقت ہے۔ چنانچہ برے سے برا آدمی بھی گناہ کرتا ہے تو پہلے مرحلے میں اُسے چھپانے کی کوشش کر تا ہے۔ یہی معاملہ نیکی کا ہے۔ انسان اُس سے محبت کرتا ہے، اُس کے لیے اپنے اندر عزت اور احترام کے جذبات پاتا ہے اور اپنے لیے جب بھی کوئی معاشرت پیدا کرتا ہے، اُس میں حق و انصاف کے لیے لازماً کوئی نظام قائم کرتا ہے۔ یہ اِس امتیاز خیروشر کے فطری ہونے کا ثبوت ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ برائی کے حق میں انسان بعض اوقات بہانے بھی تراش لیتا ہے، لیکن جس وقت تراشتا ہے، اُسی وقت جانتا ہے کہ یہ بہانے وہ اپنی فطرت کے خلاف تراش رہا ہے۔ اِس لیے کہ وہی برائی اگر کوئی دوسرا اُس کے ساتھ کر بیٹھے تو بغیر کسی تردد کے وہ اُسے برائی ٹھیراتا اور اُس کے خلاف سراپا احتجاج بن جاتا ہے۔ اِس الہام کی تعبیر میں، البتہ اشخاص، زمانے اور حالات کے لحاظ سے بہت کچھ اختلافات ہو سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے کہ اِس کی گنجایش بھی اُس نے باقی نہیں رہنے دی اور جہاں کسی بڑے اختلاف کا اندیشہ تھا، اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے خیروشر کو بالکل واضح کر دیا ہے۔ اِن پیغمبروں کی ہدایت اب قیامت تک کے لیے قرآن مجید میں محفوظ ہے۔ انسان اپنے اندر جو کچھ پاتا ہے، یہ ہدایت اُس کی تصدیق کرتی ہے اور انسان کا وجدانی علم، بلکہ تجربی علم، قوانین حیات اور حالات وجود سے استنباط کیا ہوا علم اور عقلی علم، سب اِس کی گواہی دیتے ہیں۔ چنانچہ اخلاق کے فضائل و رذائل اِس کے نتیجے میں پوری قطعیت کے ساتھ متعین ہو جاتے ہیں۔

  بنیادی اصول

اِس باب میں بنیادی اصول کی حیثیت جس چیز کو حاصل ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو عدل و احسان کا اور قرابت مندوں کو دیتے رہنے کا حکم دیتا ہے اور فواحش، منکرات اور سرکشی سے روکتا ہے۔ یہ سب چیزیں، بالکل فطری ہیں، لہٰذا خدا کے دین میں بھی ہمیشہ مسلّم رہی ہیں۔ تورات کے احکام عشرہ اِنھی پر مبنی ہیں اور قرآن نے بھی اپنے تمام اخلاقی احکام میں اِنھی کی تفصیل کی ہے۔ہم یہاں اِن کی وضاحت کریں گے۔ پہلی چیز عدل ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ جس کا جو حق واجب کسی پر عائد ہوتا ہے، اُسے بے کم و کاست اور بے لاگ طریقے سے ادا کر دیا جائے، خواہ صاحب حق کمزور ہو یا طاقت ور اور خواہ ہم اُسے پسند کریں یا ناپسند۔ دوسری چیز احسان ہے۔ یہ عدل سے زائد ایک چیز اور تمام اخلاقیات کا جمال و کمال ہے۔ اِس سے مراد صرف یہ نہیں کہ حق ادا کر دیا جائے، بلکہ مزید براں یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں سے باہمی مراعات اور فیاضی کا رویہ اختیار کریں۔ اُن کے حق سے اُنھیں کچھ زیادہ دیں اور خود اپنے حق سے کچھ کم پر راضی ہو جائیں۔ یہی وہ چیزہے جس سے معاشرے میں محبت و مودت، ایثار و اخلاص، شکرگزاری، عالی ظرفی اور خیر خواہی کی قدریں نشوونما پاتی اور زندگی میں لطف و حلاوت پیدا کر تی ہیں۔ تیسری چیز قرابت مندوں کے لیے انفاق ہے۔ یہ احسان ہی کی ایک اہم فرع ہے اور اُس کی ایک خاص صورت متعین کرتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ قرابت مند صرف اِسی کے حق دار نہیں ہیں کہ اُن کے ساتھ عدل و احسان کا رویہ اختیار کیا جائے، بلکہ اِس کے بھی حق دار ہیں کہ لوگ اپنے مال پر اُن کا حق تسلیم کریں، اُنھیں کسی حال میں بھوکا ننگا نہ چھوڑیں اور اپنے بال بچوں کے ساتھ اُن کی ضرورتیں بھی جس حد تک ممکن ہو، فیاضی کے ساتھ پوری کرنے کی کوشش کریں۔ اِن کے مقابلے میں بھی تین ہی چیزیں ہیں جن سے روکا گیا ہے۔ پہلی چیز فواحش ہیں۔ اِن سے مراد زنا، اغلام اور اِن کے متعلقات ہیں۔ دوسری چیز منکرات ہیں۔ یعنی وہ کام جنھیں انسان بالعموم برا جانتے ہیں، ہمیشہ سے برا کہتے رہے ہیں اور جن کی برائی ایسی کھلی ہوئی ہے کہ اُس کے لیے کسی استدلال کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مذہب و ملت اور تہذیب و تمدن کی ہر اچھی روایت میں اُنھیں برا ہی سمجھا جاتا ہے۔ قرآن نے اِن کے لیے ایک جگہ ’منکر‘ اور دوسری جگہ ’اثم‘ کا لفظ استعمال کر کے واضح کر دیا ہے کہ اِن سے مراد وہ کام ہیں جن سے دوسروں کے حقوق تلف ہوتے ہوں۔ تیسری چیز سرکشی ہے۔ یعنی آدمی اپنی قوت، طاقت اور زور و اثر سے ناجائز فائدہ اٹھائے، حدود سے تجاوز کرے اور دوسروں کے حقوق پر، خواہ وہ حقوق خالق کے ہوں یا مخلوق کے، دست درازی کرنے کی کوشش کرے۔

  فضائل و رذائل

اِس اجمال کی شرح قرآن نے اِس طرح فرمائی ہے کہ اخلاق کے فضائل و رذائل بالکل متعین طریقے پر واضح کر دیے ہیں۔ یہ جہاں بیان ہوئے ہیں، وہاں سلسلۂ بیان کی ابتدا بھی شرک کی ممانعت سے ہوتی ہے اور اُس کا خاتمہ بھی اِسی کی تاکید پر کیا گیا ہے۔ قرآن میں یہ اسلوب کسی چیز کی اہمیت کو نمایاں کرنے کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ اِس سے مقصود یہ ہے کہ درمیان میں جن چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے، اُن کے لیے یہ عقیدہ گویا شہرپناہ ہے جس کے وجود سے شہر قائم رہتا اور جس میں کوئی رخنہ پیدا ہو جائے تو پورا شہر خطرے کی زدمیں آجاتا ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اخلاق کے فضائل میں توحید کی حیثیت یہی ہے۔ یہ اُس عدل کا سب سے بڑا اور بنیادی تقاضا ہے جس کا حکم قرآن نے دیا ہے۔ چنانچہ شرک کو اِسی بنا پر ظلم عظیم کہا گیا ہے اور اِس کا یہ نتیجہ بھی قرآن نے پوری صراحت کے ساتھ واضح کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ ایک ناقابل معافی جرم ہے جس کی پاداش میں لوگ راندہ اور ملامت زدہ ہو کر جہنم میں ڈال دیے جائیں گے۔ یہ شرک کیاہے؟ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو الٰہ بنایا جائے تو قرآن اپنی اصطلاح میں اُسے شرک سے تعبیر کرتا ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ کسی کو خدا کی ذات سے یا خدا کو اُس کی ذات سے سمجھا جائے یا خلق میں یا مخلوقات کی تدبیر امور میں کسی کا کوئی حصہ مانا جائے اور اِس طرح کسی نہ کسی درجے میں اُسے اللہ تعالیٰ کا ہم سر بنا دیا جائے۔ پہلی صورت کی مثال سیدنا مسیح، سیدہ مریم اور فرشتوں کے بارے میں عیسائیوں اور مشرکین عرب کے عقائد ہیں۔ صوفیوں کا عقیدۂ وحدت الوجود بھی اِسی کے قبیل سے ہے۔ دوسری صورت کی مثال ہندووں میں برہما، وشنو، شیو اور مسلمانوں میں غوث، قطب، ابدال، داتا اور غریب نواز جیسی شخصیتوں کا عقیدہ ہے۔ ارواح خبیثہ، نجوم و کواکب اور شیاطین کے تصرفات کو بھی اِسی کے ذیل میں سمجھنا چاہیے۔ اِس کے علاوہ جو احکام اِس باب میں آئے ہیں، اُن کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

اللہ کی عبادت

پہلا حکم یہ ہے کہ جب اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں تو پھر عبادت بھی اُسی کی ہونی چاہیے۔ اِس عبادت کے بارے میں ہم اِس سے پہلے بیان کر چکے ہیں کہ اِس کی حقیقت خضوع اور تذلل ہے جس کا اولین ظہور پرستش کی صورت میں ہوتا ہے۔ پھر انسان کے عملی وجود کی رعایت سے یہی پرستش اطاعت کو شامل ہو جاتی ہے۔ پہلی صورت کے مظاہر تسبیح و تحمید، دعا و مناجات، رکوع و سجود، نذر، نیاز، قربانی اور اعتکاف ہیں۔ دوسری صورت میں آدمی کسی کے لیے خدائی اختیارات مانتا اور مستقل بالذات شارع و حاکم کی حیثیت سے اُس کے حکم پر سرتسلیم خم کرتا ہے۔ اللہ، پروردگار عالم کا فیصلہ ہے کہ اِن میں سے کوئی چیز بھی اُس کے سوا کسی اور کے لیے نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا کوئی شخص اگر کسی کی تسبیح و تحمید کرتا ہے یا اُس سے دعاو مناجات کرتا ہے یا اُس کے لیے رکوع و سجود کرتا ہے یا اُس کے حضور میں نذر، نیاز یا قربانی پیش کرتا ہے یا اُس کے لیے اعتکاف کرتا ہے یا خدائی اختیارات مان کر اُس کی اطاعت کرتا ہے تو اِس کے معنی یہ ہیں کہ اُس نے اللہ تعالیٰ کے اِس فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

والدین سے حسن سلوک

دوسرا حکم یہ ہے کہ والدین سے حسن سلوک کیا جائے۔ اِس کی تعلیم تمام الہامی صحائف میں دی گئی ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ انسانوں میں سب سے مقدم حق والدین کا ہے۔ چنانچہ اللہ کی عبادت کے بعد سب سے پہلے اِسی کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے والدین ہی اُس کے وجود میں آنے اور پرورش پانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نصیحت ماں اور باپ، دونوں کے بارے میں یہ ہے کہ اپنے پروردگار کے بعد انسان کو سب سے بڑھ کر اُنھی کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ یہ شکر محض زبان سے ادا نہیں ہوتا۔ اِس کے چند لازمی تقاضے ہیں جو قرآن میں بیان ہوئے ہیں۔ پہلی بات یہ فرمائی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ آدمی کو اِس طرح پیش آنا چاہیے کہ وہ ظاہر و باطن میں اُن کی عزت کرے، اُن کے خلاف اپنے دل میں کوئی بے زاری نہ پیدا ہونے دے،اُن کے سامنے سوء ادب کا کوئی کلمہ زبان سے نہ نکالے، بلکہ نرمی، محبت، شرافت اور سعادت مندی کا اسلوب اختیار کرے۔ اُن کی بات مانے اور بڑھاپے کی ناتوانیوں میں اُن کی دل داری اور تسلی کرتا رہے۔ دوسری بات یہ فرمائی ہے کہ والدین کے سامنے اطاعت و فرماں برداری کے بازو ہر حال میں جھکے رہیں اور یہ اطاعت و فرماں برداری تمام تر مہرومحبت اور رحمت و شفقت کے جذبے سے ہونی چاہیے۔ والدین جس طرح بچے کو پرندوں کی طرح اپنے بازؤوں میں چھپا کر رکھتے ہیں، بچوں کو بھی چاہیے کہ اُن کے بڑھاپے میں اِسی طرح اُن کو اپنی محبت و اطاعت کے بازؤوں میں چھپا کر رکھیں۔ اِس لیے کہ والدین کی شفقت کا حق اگر کچھ ادا ہو سکتا ہے تو اِسی جذبے سے ہو سکتا ہے۔ اِس کے بغیر یہ حق ادا کرنا کسی شخص کے لیے ممکن نہیں ہے۔ تیسری بات یہ فرمائی ہے کہ اِس کے ساتھ اُن کے لیے برابر دعا کی جائے کہ پروردگار جس طرح اُنھوں نے شفقت و محبت کے ساتھ بچپن میں ہمیں پالا ہے، اُسی طرح اب بڑھاپے میں آپ اُن پر اپنی رحمت نازل فرمائیں۔ یہ دعا والدین کا حق ہے اور اُس حق کی یاددہانی بھی جو والدین سے متعلق اولاد پر عائد ہوتا ہے۔ پھر یہ اُس جذبۂ محبت کی محرک بھی ہے جس کا مطالبہ اللہ تعالیٰ نے والدین سے حسن سلوک کے معاملے میں کیا ہے۔ والدین کے علاوہ جو تعلقات اِس دنیا میں پیدا ہوتے ہیں، اُن میں بھی آدمی کا رویہ درجہ بدرجہ یہی ہونا چاہیے۔ چنانچہ اعزہ و اقربا، یتامیٰ و مساکین، پڑوسیوں، مسافروں اور زیر دستوں کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اِسی بات کی نصیحت فرمائی ہے۔

اللہ کی راہ میں انفاق

تیسرا حکم یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں انفاق کیا جائے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں انسان کو بخشی ہیں، وہ جس طرح اُنھیں اپنی ذات پر خرچ کرتا ہے، اُسی طرح اپنی ذاتی اور کاروباری ضرورتیں پوری کر لینے کے بعد اُنھیں دوسرے ابناے نوع پر بھی خرچ کرے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں اللہ کا بندہ بن کر رہنے کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے: ایک یہ کہ خالق کے ساتھ انسان کا تعلق ٹھیک ٹھیک قائم ہو جائے۔ دوسری یہ کہ مخلوق کے ساتھ وہ صحیح طریقے پر جڑ جائے۔ پہلی چیز نماز سے حاصل ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کا اولین مظہر ہے اور دوسری انفاق سے جو اُس کی مخلوق کے ساتھ محبت کا اولین مظہر ہے۔ پھر اِس کا صلہ بھی خدا کی محبت ہی ہے ۔ اِس لیے کہ انسان جو کچھ خرچ کرتا ہے، اُسے درحقیقت آسمان پر جمع کرتا ہے اور سیدنا مسیح علیہ السلام کے الفاظ میں، اُس کا دل بھی اِس کے نتیجے میں وہیں لگا رہتا ہے۔ یہ انفاق اعزہ و اقربا اور یتامیٰ و مساکین کا حق ہے جسے ادا کرنا ضروری ہے۔ اِس میں کوتاہی آدمی کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک غصب حقوق کا مجرم بناسکتی ہے۔ چنانچہ قرآن نے یہ بات ایک جگہ صاف واضح کر دی ہے کہ اِن حقوق سے بے پروا ہو کر اگر کوئی شخص مال و دولت جمع کرتا ہے تو یہ کنز ہے اور اِس کی سزا جہنم کی آگ ہے جس سے ہر بندۂ مومن کو اپنے پروردگار کی پناہ مانگنی چاہیے۔ اِس انفاق کی توفیق اُنھی لوگوں کو ملتی ہے جو اپنے اخراجات میں اعتدال کا رویہ اختیار کرتے اور اللہ تعالیٰ جو رزق اُنھیں عطا فرماتے ہیں، اُس کو اپنی کسی تدبیروحکمت کا نہیں، بلکہ اللہ کی عنایت کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ چنانچہ دو باتیں مزید فرمائی ہیں: ایک یہ کہ مال کو اللے تللے اڑانا جائز نہیں ہے۔ یہ اللہ کی نعمت ہے اور اِس کے بارے میں صحیح رویہ یہ ہے کہ آدمی اعتدال اور کفایت شعاری کے ساتھ اپنی جائز ضرورتوں پر خرچ کرے اور جو کچھ بچائے، اُسے حق داروں کی امانت سمجھے اور اِس امانت کو نہایت احتیاط کے ساتھ ادا کرے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص اپنی ضرورتوں کے معاملے میں اعتدال اور توازن کا رویہ اختیار نہیں کرتا، اُسے اپنے ہی شوق پورے کرنے سے فرصت نہیں ملتی کہ دوسروں کے حقوق ادا کر پائے۔ فرمایا کہ جو لوگ اپنا مال اِس طرح اڑاتے ہیں، وہ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکراہے۔ وہ اُنھیں ورغلا کر اپنی راہ پر لگا لیتا ہے اور اُن سے اُن کاموں پر خرچ کراتا ہے جن سے وہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے بجاے اُس کی ناراضی لے کر لوٹتے ہیں۔ اِس معاملے میں صحیح نقطۂ اعتدال کی وضاحت اِس طرح کی ہے کہ آدمی نہ اپنے ہاتھ بالکل باندھ لے اور نہ بالکل کھلے ہی چھوڑ دے کہ ضرورت کے وقت درماندہ اور ملامت زدہ ہو کر بیٹھا رہے، بلکہ اعتدال کے ساتھ خرچ کرے اور ہمیشہ کچھ بچا کر رکھے تاکہ اپنے اور دوسروں کے حقوق بروقت ادا کر سکے۔ دوسری یہ کہ رزق کی تنگی اور کشادگی اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت کے تحت ہے۔ انسان کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ پوری محنت کے ساتھ اِس کے اسباب پیدا کرے۔ جو لوگ اِس حقیقت کو نہیں سمجھتے، وہ دوسروں پر خرچ کرنا تو الگ رہا، بارہا ایسے سنگ دل ہو جاتے ہیں کہ تنگ دستی کے اندیشے سے اپنی اولاد تک کو قتل کر دیتے ہیں۔ اِس میں خاص طور پر عرب جاہلیت میں لڑکیوں کو زندہ درگور کر دینے کی اُس سنگ دلانہ رسم کی طرف اشارہ ہے جس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ عورت چونکہ کوئی کماؤ فرد نہیں ہے، اِس لیے اُس کی پرورش کا بوجھ کیوں اٹھایا جائے۔ فرمایا ہے کہ اُنھیں قتل نہ کرو، اُن کو بھی ہم ہی رزق دیتے ہیں اور تمھیں بھی اور مطمئن رہو کہ اللہ اپنے بندوں کی ہر حالت پر نگران اور اُن کا نگہبان ہے۔ وہ اُن سے بے خبر نہیں ہے۔

عفت و عصمت

چوتھا حکم یہ ہے کہ کوئی شخص زنا کے قریب نہ جائے۔ اِس کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ کھلی بے حیائی اور نہایت برا طریقہ ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ اِس کے برائی اور بے حیائی ہونے پر کسی دلیل و حجت کی ضرورت نہیں ہے۔ انسان کی فطرت اِسے ہمیشہ سے ایک بڑا گناہ اور ایک سنگین جرم سمجھتی رہی ہے اور جب تک وہ بالکل مسخ نہ ہو جائے، اِسی طرح سمجھتی رہے گی۔ انسان سے متعلق یہ حقیقت بالکل ناقابل تردید ہے کہ خاندان کا ادارہ اُس کے لیے ہوا اور پانی کی طرح ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ یہ ادارہ صحیح فطری جذبات کے ساتھ صرف اُسی صورت میں قائم ہوتا اور قائم رہ سکتا ہے، جب زوجین کا باہمی تعلق مستقل رفاقت کا ہو۔ یہ چیز اگر مفقود ہو جائے تو اِس سے فطری اور روحانی جذبات سے محروم جانوروں کا ایک گلہ تو وجود میں آسکتا ہے، کوئی صالح معاشرہ اور صالح تمدن وجود پذیر نہیں ہو سکتا۔ اِس فعل کی یہی شناعت ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے صرف اتنی بات نہیں کہی کہ زنا نہ کرو، بلکہ فرمایا ہے کہ زنا کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ ایسی تمام باتوں سے دور رہوجو زنا کی محرک، اُس کی ترغیب دینے والی اور اُس کے قریب لے جانے والی ہوں۔ مردوزن کے اختلاط کے جو آداب قرآن میں بیان ہوئے ہیں، وہ انسان کو اِسی طرح کی چیزوں سے بچانے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ اُن کا خلاصہ یہ ہے کہ مرداور عورتیں، دونوں اپنے جسمانی اور نفسیاتی تقاضوں کے لحاظ سے اپنی نگاہوں کو زیادہ سے زیادہ بچا کر اور اپنے جسم میں اندیشے کی جگہوں کو زیادہ سے زیادہ ڈھانپ کر رکھیں اور کوئی ایسی بات نہ کریں جو ایک دوسرے کے صنفی جذبات کو برانگیختہ کرنے والی ہو۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان جب کسی معاشرے میں زنا کو عام کرنا چاہتا ہے تو اپنی تاخت کی ابتدا بالعموم اِنھی چیزوں سے کرتا ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم و حوا پر بھی وہ اِسی راستے سے حملہ آور ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ نے زنا کا چرچا کرنے اور اِس کے لیے ترغیبات پیدا کرنے کی کوشش کو اِسی بنا پر ایک بڑا جرم قرار دیا ہے۔

انسانی جان کی حرمت

پانچواں حکم یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کو قتل نہ کرے۔ مذہب و اخلاق کی رو سے انسانی جان کو جو حرمت ہمیشہ سے حاصل رہی ہے، یہ اُسی کا بیان ہے۔ قرآن نے بتایا ہے کہ اِس کے بارے میں یہی تاکید اِس سے پہلے بنی اسرائیل کو کی گئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے یہ بات اُن پر لکھ دی تھی کہ ایک انسان کا قتل درحقیقت پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اِس کے ساتھ یہ بات بھی قرآن نے واضح کر دی ہے کہ اِس جرم کے مرتکبین کا معاملہ صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ نہیں ہے، مقتول کے اولیا کے ساتھ بھی ہے اور اُن کو اللہ نے پورا اختیار دے دیا ہے، لہٰذا دنیا کی کوئی عدالت اُن کی مرضی کے بغیر قاتل کو کوئی رعایت نہیں دے سکتی۔ اُس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اگر قصاص پر اصرار کریں تو اُن کی مدد کرے اور جو کچھ وہ چاہیں، اُسے پوری قوت کے ساتھ اور ٹھیک ٹھیک نافذ کر دے۔

یتیم کے مال میں خیانت

چھٹا حکم یہ ہے کہ یتیم کے مال میں کوئی ناجائز تصرف نہ کیا جائے۔ اِس حکم کے الفاظ وہی ہیں جو اوپر زنا سے روکنے کے لیے آئے ہیں۔ یعنی یتیم کی بہبود اور بہتری کے ارادے کے سوا اُس کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ یتیم کے مال میں صرف وہی تصرف جائز ہے جو اُس کی حفاظت اور نشوونما کی غرض سے کیا جائے اور اُسی وقت تک کیا جائے، جب تک یتیم سن رشد کو پہنچ کر اپنے مال کی ذمہ داری خود سنبھالنے کے قابل نہیں ہو جاتا۔

عہد کی پابندی

ساتواں حکم یہ ہے کہ جو عہد بھی کیا جائے، اُسے ہر حال میں پورا کیا جائے۔ فرمایا ہے کہ اِس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ قرآن کے بعض دوسرے مقامات پر بھی یہ حکم اِسی تاکید کے ساتھ آیا ہے۔ جہاد و قتال کے موقع پر بھی جو سب سے اہم ہدایت قرآن میں بیان ہوئی ہے، وہ یہی عہد کی پابندی ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو ایک جگہ مشرکین عرب کے ساتھ تمام معاہدات ختم کرکے آخری اقدام کا حکم دیا گیا ہے، لیکن اتنی بات اُس میں بھی واضح کر دی گئی ہے کہ کوئی معاہدہ اگر وقت کی قید کے ساتھ کیا گیا ہے تو اُس کی مدت لازماً پوری کی جائے گی۔ ایک دوسری جگہ مزید وضاحت کی گئی ہے کہ کوئی معاہد قوم اگر مسلمانوں پر ظلم بھی کر رہی ہو تو معاہدے کی خلاف ورزی کر کے اُن کی مدد نہیں کی جا سکتی۔

ناپ تول میں دیانت

آٹھواں حکم یہ ہے کہ ناپ تول میں کمی بیشی نہ کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ زمین و آسمان کو اُس نے ایک میزان پر قائم کیا ہے، لہٰذا یہ ضروری ہے کہ انسان بھی اپنے دائرۂ اختیار میں انصاف پر قائم رہے اور ہمیشہ صحیح پیمانے سے ناپے اور ٹھیک ترازو سے تولے۔ اِس سے واضح ہے کہ یہ ایک عظیم حکم ہے اور اپنی حقیقت کے اعتبار سے اُسی میزان انصاف کی فرع ہے جس پر یہ دنیا قائم ہے۔ چنانچہ اِس سے انحراف اگر کوئی شخص کرتا ہے تو اِس کے معنی یہ ہیں کہ عدل و قسط کے تصور میں اختلال واقع ہو چکا اور خدا کے قائم بالقسط ہونے کا عقیدہ باقی نہیں رہا۔ اِس کے بعد، ظاہر ہے کہ معیشت اور معاشرت کا پورا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور تمدن کی کوئی اینٹ بھی اپنی جگہ پر قائم نہیں رہتی۔ اشیا میں ملاوٹ کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اگر کوئی شخص دودھ میں پانی، شکر میں ریت اور گندم میں جو ملا کر بیچتا ہے تو اِسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ اِس لیے کہ پورا تول کر بھی وہ خریدار کو اُس کی خریدی ہوئی چیز پوری نہیں دیتا۔ یہ درحقیقت دوسرے کے حق پر ہاتھ ڈالنا ہے جس کا نتیجہ دنیا اور آخرت، دونوں میں یقیناًبرا ہوگا۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ پیمانے سے دو تو پورا بھر کر دو اور تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو، اِس لیے کہ یہی بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی یہی اچھا ہے۔

اوہام کی پیروی

نواں حکم یہ ہے کہ جس چیز کا علم نہ ہو، کوئی شخص اُس کے پیچھے نہ لگے۔ قرآن نے متنبہ فرمایا ہے کہ اِسے کوئی معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے، اِس لیے کہ انسان کی سماعت و بصارت اور دل و دماغ، ہر چیز کو ایک دن خدا کے حضور میں جواب دہ ہونا ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ کسی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ بدگمانی کرے یا کسی پر الزام لگائے یا تحقیق کے بغیر کسی کے خلاف کوئی قدم اٹھائے یا محض شبہات پر افواہیں اڑائے یا اپنے پروردگار کی ذات و صفات اور احکام و ہدایات کے بارے میں ظنون و اوہام اور لاطائل قیاسات پر مبنی کوئی نقطۂ نظر اختیار کرے۔

غرور و تکبر

دسواں حکم یہ ہے کہ خدا کی زمین پر کوئی شخص اکڑ کر نہ چلے، اِس لیے کہ یہ مغروروں اور متکبروں کی چال ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ تم کتنا ہی زمین پر پاؤں مارتے ہوئے چلو، لیکن اِس کو پھاڑ نہیں سکتے اور کتنا ہی اترا کر اور سر اٹھا کر چلو، لیکن پہاڑوں کی بلندی کو نہیں پہنچ سکتے۔ اِس طرح کی چال، ظاہر ہے کہ آدمی کے باطن کی ترجمان ہوتی ہے۔ دولت، اقتدار، حسن، علم، طاقت اور ایسی ہی دوسری جتنی چیزیں آدمی کے اندر غرور پیدا کرتی ہیں، اُن میں سے ہر ایک کا گھمنڈ اُس کی چال کے ایک مخصوص ٹائپ میں نمایاں ہوتا اور اِس بات پر دلیل بن جاتاہے کہ اُس کا دل بندگی کے شعور سے خالی ہے اور اُس میں خدا کی عظمت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ جس دل میں بندگی کا شعور اور خدا کی عظمت کا تصور ہو، وہ اُنھی لوگوں کے سینے میں دھڑکتا ہے جن پر تواضع اور فروتنی کی حالت طاری رہتی ہے۔ وہ اکڑنے اور اترانے کے بجاے سر جھکا کر چلتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ انسان کا یہ غرورو تکبر صرف اُس کی چال میں ظاہر نہیں ہوتا، اُس کی گفتگو، وضع قطع، لباس اور نشست و برخاست، ہر چیز میں نمایاں ہوتا ہے۔چنانچہ ایسی تمام چیزوں کا استعمال ممنوع سمجھنا چاہیے جن سے امارت کی نمایش ہوتی ہو یا وہ بڑائی مارنے، شیخی بگھارنے، دون کی لینے، دوسروں پر رعب جمانے یا اوباشوں کے طریقے پر دھونس دینے والوں کی وضع سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہاں تک کہ ڈاڑھی اور مونچھیں رکھنے اور لباس پہننے میں بھی کو ئی متکبرانہ وضع اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ پھر یہی نہیں، انسان کی یہ نفسی کیفیت بعض بڑے بڑے گناہوں کا باعث بھی بنتی ہے۔ چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ حق کو حق سمجھتے ہوئے اُس کی تکذیب کر دینے، رنگ و نسل اور حسب و نسب کے اعتبار سے اپنے آپ کو برتر سمجھنے، دوسروں کو حقیر سمجھ کر اُن کا مذاق اڑانے، اُن پر طعن کرنے، برے القاب دینے اور پیٹھ پیچھے اُن کے عیب اچھالنے جیسے گناہوں کا محرک انسان کا یہی پندارنفس اور غرور و تکبر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اِن سب چیزوں سے بھی نہایت سختی کے ساتھ روکا ہے۔ تورات کے احکام کی طرح یہ قرآن کے احکام عشرہ ہیں۔ تمام اخلاقیات اِنھی دس احکام کی فرع ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جن گناہوں کو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے تعبیر کیا ہے، وہ اِنھی احکام کی خلاف ورزی سے پیدا ہوتے ہیں۔ قرآن اِس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ اِس خلاف ورزی کی سزا لوگوں کو قیامت میں بھگتنا پڑ سکتی ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ ہر مسلمان اِس معاملے میں متنبہ رہے۔ اِس کے لیے یہ تین باتیں پیش نظر رہنی چاہییں: ایک یہ کہ اِن میں سے کسی حکم کی خلاف ورزی اگر نادانستہ ہوئی ہے تو اللہ اُس پر گرفت کرنے والا نہیں ہے۔ اُس کا قانون یہ ہے کہ اگر بلاارادہ کوئی ایسی بات ہو جائے جو بظاہر تو ایک ممنوع فعل ہو، مگر اُس میں درحقیقت اُس ممنوع فعل کی نیت نہ ہو تو اُس پر وہ کوئی مواخذہ نہ کرے گا۔ دوسری یہ کہ اِن احکام کی خلاف ورزی سے کوئی شخص اگر اپنے آپ کو بچائے رکھتا ہے تو اِس کا صلہ یہ ہے کہ اُس کے چھوٹے گناہوں کو اللہ تعالیٰ اپنی بے پایاں رحمت سے معاف فرما دیں گے، ورنہ چھوٹے اور بڑے، سب گناہ اُس کے اعمال نامے میں درج ہوں گے اور اُسے اُن کا حساب دینا پڑے گا۔ تیسری یہ کہ جذبات سے مغلوب ہو کر اگر کوئی شخص اِن میں سے کسی حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھتا ہے تو اُسے توبہ کر کے اپنے رویے کی اصلاح کرنی چاہیے۔ اِس کے لیے ضروری ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو، توبہ کر لی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح کر دیا ہے کہ اُس کے اوپر صرف اُنھی لوگوں کی توبہ کا حق قائم ہوتا ہے جو جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی گناہ کر بیٹھتے ہیں، پھر فوراً توبہ کر لیتے ہیں۔ اُن لوگوں کی توبہ اللہ کے نزدیک کوئی توبہ نہیں ہے جو زندگی بھر گناہوں میں ڈوبے رہتے اور جب دیکھتے ہیں کہ موت سر پر آن کھڑی ہوئی ہے تو توبہ کا وظیفہ پڑھنے لگتے ہیں۔ اِسی طرح جانتے بوجھتے حق کا انکار کر دینے والوں کی توبہ بھی توبہ نہیں ہے، اگر وہ موت کے وقت تک اِس انکار پر قائم رہے ہوں۔ توبہ کی قبولیت اور عدم قبولیت کی یہ دو صورتیں قرآن نے متعین کر دی ہیں۔ اِس کے بعد صرف ایک صورت باقی رہ جاتی ہے کہ کوئی شخص گناہ کے بعد جلد ہی توبہ کر لینے کی سعادت تو حاصل نہیں کر سکا، لیکن اُس نے اتنی دیر بھی نہیں کی کہ موت کا وقت آن پہنچا ہو۔ اِس صورت کے بارے میں قرآن خاموش ہے۔ یہ خاموشی جس طرح امید پیدا کرتی ہے، اِسی طرح خوف بھی پیدا کر تی ہے اور قرآن کا منشا یہی معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ خوف و رجا کے درمیان ہی رہے۔ اِسی طرح کے لوگ ہیں جن کے بارے میں شفاعت کی امید کی جا سکتی ہے۔

  جمال و کمال

انسان کے اخلاقی وجود کا حسن جب خلق اور خالق، دونوں کے معاملے میں درجۂ کمال کو پہنچتا ہے تو اُس سے جو اوصاف پیدا ہوتے ہیں یا قرآن کی رو سے ہونے چاہییں، وہ بھی اللہ تعالیٰ نے ایک ہی جگہ بیان کر دیے ہیں۔ یہ دس چیزیں ہیں اور پورے قرآن میں اِن پر کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ دین کا جمال و کمال قرآن کے نزدیک یہی ہے۔ وہ اپنے ماننے والوں کو اِسی تک پہنچنے اور اِسی کو پانے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ اوصاف درج ذیل ہیں:

اسلام

پہلی چیز اسلام ہے۔ یہ جب اِس طریقے سے ایمان کے ساتھ آتا ہے، جس طرح یہاں آیا ہے تو اِس سے دین کا ظاہر مراد ہوتا ہے۔ یعنی وہ ہدایت جو انسان کے قول و فعل اور اعضا و جوارح سے متعلق ہے۔ چنانچہ آدمی کی زبان اگر اللہ و رسول کے حکم پر کھلنے اور بند ہو جانے کے لیے آمادہ ہے،اُس کی آنکھیں اگر اُن کے ایما سے دیکھنے اور جھک جانے کے لیے تیار ہیں، اُس کے کان اگر اُن کی ہدایت پر سننے اور سننے سے انکار کر دینے کے لیے مستعد ہیں، اُس کے ہاتھ اگر اُن کے ارشاد سے اٹھنے اور گر جانے کے منتظر ہیں اور اُس کے پاؤں اگر اُن کے فرمان پر چلنے اور رک جانے سے گریز نہیں کرتے تو یہی اسلام ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس کا بہترین نمونہ بھی انبیا علیہم السلام ہی ہیں۔ لہٰذا ہدایت کی گئی ہے کہ تسلیم ورضا کے اِس مرتبے تک پہنچنے کے لیے لوگ اُن ہستیوں کی اتباع کریں جنھیں اللہ نے اُن کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔

ایمان

دوسری چیز ایمان ہے۔ یہ دین کا باطن ہے اور یہاں اِس سے مراد وہ یقین ہے جو اللہ تعالیٰ اور اُس کے دعووں کے بارے میں اُس کی حقیقی معرفت کے ساتھ پایا جائے۔ چنانچہ جو خدا کو اِس طرح مانے کہ تسلیم و رضا کے بالکل آخری درجے میں اپنے دل و دماغ کو اُس کے حوالے کر دے، قرآن کی اصطلاح میں وہ مومن ہے۔ دل کو طہارت، عقل کو روشنی اور ارادوں کو پاکیزگی اِسی سے حاصل ہوتی ہے۔ یہی ایمان ہے جو علم و عمل، دونوں کو ایک ساتھ متاثر کرتا اور انسان کے پورے وجود پر حاوی ہو جاتا ہے۔ پھر اللہ کے ذکر اور اُس کی آیتوں کی تلاوت اور انفس و آفاق میں اِن آیتوں کے ظہور سے اُس میں افزونی ہوتی ہے۔ اِس کا تقاضا قرآن میں یہ بیان ہوا ہے کہ دنیا کی کوئی چیز بھی اِس کے حاملین کو اللہ و رسول سے زیادہ محبوب نہیں ہونی چاہیے۔

قنوت

تیسری چیز قنوت ہے۔ یہ وہ قلبی کیفیت ہے جو انسان کو پورے اخلاص اور یک سوئی کے ساتھ دائماً اپنے پروردگار کی اطاعت پر قائم رکھتی ہے۔ بندۂ مومن کے نہاں خانۂ وجود میں عبدومعبود کے تعلق کا سب سے نمایاں ظہور یہی ہے۔ چنانچہ قانتین وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ بندگی میں رہیں۔ غم، خوشی، جوش، ہیجان اور لذت و الم کی کسی حالت میں بھی اپنے خالق سے سرکش نہ ہوں۔ شہوت کا زور، جذبات کی یورش اور خواہشوں کا ہجوم بھی اُنھیں خدا کے سامنے کبھی بے ادب نہ ہونے دے۔ اُن کا دل خدا کا عرش ہو اور اُس کی شریعت کو وہ حضوری میں دیا گیا حکم سمجھیں جس سے سرتابی کا تصور بھی دربار میں کھڑا ہوا کوئی شخص نہیں کر سکتا۔ یہ، اگر غور کیجیے تو وہی کیفیت ہے جس کا اظہار یہ پورا عالم اور اِس کی تمام مخلوقات زبان حال سے کر رہی ہیں۔

صدق

چوتھی چیز صدق ہے۔ یہ قول و فعل اور ارادہ، تینوں کی مطابقت اور استواری کی تعبیر کے لیے آتا ہے۔ آدمی کے منہ سے کوئی حرف صداقت کے خلاف نہ نکلے، اُس کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہ ہو اور وہ اپنی ہر بات کو نباہ دے تو یہ زبان اور عمل کی سچائی ہے، لیکن اِس کے ساتھ نیت اور ارادے کی سچائی بھی لازماً شامل ہونی چاہیے۔ قرآن نے اِس کے ضد کردار کو نفاق اور اِسے اخلاص سے تعبیر کیا ہے، پھر جگہ جگہ وضاحت فرمائی ہے کہ خدا کے نزدیک عمل کا اصلی پیکر وہی ہے جو کارگاہ قلب میں تیار کیا جائے۔ لہٰذا صدق کا درجۂ کمال قول و فعل اور ارادے کی اِسی مطابقت سے حاصل ہوتا ہے۔

صبر

پانچویں چیز صبر ہے۔ یہ اپنے ابتدائی مفہوم میں نفس کو اضطراب اور بے چینی سے روکنے کے لیے آتا ہے۔ پھر اِس سے مشکلات اور موانع کے علی الرغم پامردی، استقلال اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے موقف پر جمے رہنے کے معنی اِس میں پیدا ہو گئے ہیں۔ یہ عجزو تذلل کے قسم کی کوئی چیز نہیں ہے جسے بے بسی اور درماندگی کی حالت میں مجبوراً اختیار کیا جائے، بلکہ عزم و ہمت کا سرچشمہ اور تمام سیرت و کردار کا جمال و کمال ہے۔ اِسی سے انسان میں یہ حوصلہ پیدا ہوتا ہے کہ زندگی کے ناخوشگوار تجربات پر شکایت یا فریاد کرنے کے بجاے وہ اُنھیں رضامندی کے ساتھ قبول کر لے اور خدا کی طرف سے مان کر اُن کا استقبال کرے، نتیجۂ عمل میں تاخیر سے پریشان نہ ہو، اضطراب اور بے چینی سے بچا رہے، برائی کرنے والوں کے لیے بھی اپنے دل میں انتقام کا کوئی جذبہ نہ پیدا ہونے دے، حق کی مدافعت کا موقع ہو تو موت کو سامنے دیکھ کر بھی ثابت قدم رہے، رنج و راحت کی ہر حالت میں ضبط نفس سے کام لے اور جس چیز کو قرض و واجب سمجھے، تمام عمر اُس کی پابندی کرتا رہے۔ انسان کی سیرت کا یہی پہلو ہے جس سے خدا اور بندے کے درمیان وہ تعلق قائم ہوتا ہے جسے توکل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ہر حال میں خدا ہی پر بھروسا کیا جائے۔ ’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ‘ اِسی تفویض اور سپردگی کا کلمہ ہے۔ قرآن کا بیان ہے کہ اُن لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے خاص الطاف و عنایات ہیں جو اِس کلمے پر قائم رہتے اور اِسی پر دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔

خشوع

چھٹی چیز خشوع ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہیبت اور اُس کی عظمت و جلال کے صحیح تصور سے جو تواضع، عجز اور فروتنی انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے، قرآن اِسے خشوع سے تعبیر کرتاہے ۔ یہ ایک قلبی کیفیت ہے جو اُسے خدا کے سامنے بھی جھکاتی ہے اور دوسرے انسانوں کے لیے بھی اُس کے دل میں رحمت و رأفت کے جذبات پیدا کردیتی ہے۔ پہلی صورت میں اِس کا بہترین اظہار نماز، بالخصوص شب کی نمازوں میں ہوتا ہے، جب بندۂ مومن دنیا کی سب چیزوں سے الگ ہو کر تنہا اپنے پروردگار سے سرگوشیاں کرتا اور اپنی تنہائیوں کو اُس کے ذکر و شکر سے معمور کر دیتا ہے۔ دوسری صورت میں یہ کیفیت بندۂ مومن کی پوری شخصیت پر اثر انداز ہوتی اور اُسے اپنے اہل و عیال کے لیے سراپا شفقت، اپنے دوستوں، پڑوسیوں اور ملنے والوں کے لیے سراسر رحمت اور اپنے معاشرے کے لیے ایک سرچشمۂ ہدایت بنا دیتی ہے۔ چنانچہ ایسے ہی حلیم اور مہربان انسانوں سے وہ تمدن وجود میں آتا ہے جو زمین پر خدا کی جنت اور ہر سلیم الفطرت انسان کا مطمح نظر اور اُس کی آرزووں کا محور ہوتا ہے۔

صدقہ

ساتویں چیز صدقہ ہے۔ اللہ کی راہ میں انفاق کا ایک درجہ یہ ہے کہ انسان اپنے مال میں سے فرض زکوٰۃ ادا کرتا رہے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ اپنی ذاتی اور کاروباری ضرورتوں سے زیادہ جو کچھ ہو، اُسے معاشرے کا حق سمجھے اور جب کوئی مطالبہ سامنے آئے تو اُسے فراخ دلی کے ساتھ پورا کردے۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ اپنی خواہشوں کو دبا کر اور اپنی ضرورتوں میں ایثار کر کے بھی وہ دوسروں کی ضرورتیں پوری کرے۔ صدقہ دینے والوں کی تعبیر اِن سب صورتوں کو شامل ہو سکتی ہے، لیکن بیان اوصاف کے موقع پر جب یہ تعبیر اختیار کی جائے گی تو اِس سے اشارہ اصلاً اُس کے درجۂ کمال ہی کی طرف ہوگا۔ یعنی جو سخی اور فیاض ہو اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہ دے۔ بندوں کے تعلق سے یہ اُسی خشوع کا اظہار ہے جو اِس سے پہلے مذکور ہے۔ نماز اور انفاق کا ذکر قرآن میں اِسی بنا پر ساتھ ساتھ آتا ہے۔

روزہ

آٹھویں چیز روزہ ہے۔ یہ ضبط نفس اور تربیت صبر کی خاص عبادت ہے۔ قرآن میں اِس کا مقصد یہ بیان ہوا ہے کہ اِس سے تقویٰ حاصل ہوتا ہے۔ چنانچہ روزہ رکھنے والوں کی تعبیر جب بیان اوصاف کے موقع پر آئے گی، تو اِس سے مراد وہ لوگ ہوں گے جو تقویٰ کے ایسے حریص ہیں کہ اِس کے لیے زیادہ تر روزے سے رہتے ہیں۔ اِس سے یہ بات آپ سے آپ معلوم ہوئی کہ وہ منکرات سے بچتے، فواحش سے اجتناب کرتے اور اپنی زندگی میں تمام اخلاق عالیہ کا بہترین نمونہ ہوتے ہیں۔

حفظ فروج

نویں چیز حفظ فروج ہے۔ یعنی جو شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ ضبط نفس اور تقویٰ کا ثمرہ ہے۔ برہنگی، عریانی اور فواحش سے اجتناب کرنے والوں کے لیے یہ تعبیر قرآن میں کئی جگہ آئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی عفت و عصمت کی بالکل آخری درجے میں حفاظت کرنے والے ہیں۔ چنانچہ اللہ نے جہاں اجازت دی ہے، اُس کے سوا خلوت و جلوت میں اپنا ستر وہ کسی کے سامنے نہیں کھولتے اور نہ کوئی ایسا لباس کبھی پہنتے ہیں جو اُن اعضا کو نمایاں کرنے والا ہو جو اپنے اندر کسی بھی لحاظ سے جنسی کشش رکھتے ہیں۔ فواحش سے اجتناب کا یہی درجہ ہے جس سے وہ تہذیب پیدا ہوتی ہے جس میں حیا فرماں روائی کرتی اور مردو عورت، دونوں اپنے جسم کو زیادہ سے زیادہ کھولنے کے بجاے، جہاں تک ممکن ہو، زیادہ سے زیادہ ڈھانپ کر رکھنے کے لیے مضطرب ہوتے ہیں۔

ذکرکثیر

دسویں چیز ذکر کثیر ہے۔ یعنی اللہ کو بہت زیادہ یاد کیا جائے۔ بندۂ مومن کے دل میں جب اپنے پروردگار کا خیال پوری طرح بس جاتا ہے تو پھر وہ مقررہ اوقات میں کوئی عبادت کر لینے ہی کو کافی نہیں سمجھتا، بلکہ ہمہ وقت اپنی زبان کو خدا کے ذکر سے تر رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی دیکھتا ہے تو ’سبحان اللہ‘ کہتا ہے۔ کسی کام کی ابتدا کرتا ہے تو ’بسم اللہ‘ سے کرتا ہے۔ کوئی نعمت پاتا ہے تو ’الحمد للہ‘ کہہ کر خدا کا شکر بجا لاتا ہے۔ ’اِن شاء اللہ‘ اور ’ماشاء اللہ‘ کے بغیر اپنے کسی ارادے اور کسی عزم کا اظہار نہیں کرتا، اپنے ہر معاملے میں اللہ سے مدد چاہتا ہے۔ ہر آفت آنے پر اُس کی رحمت کا طلب گار ہوتا ہے۔ ہر مشکل میں اُس سے رجوع کرتا ہے۔ سوتا ہے تو اُس کو یاد کر کے سوتا ہے اور اٹھتا ہے تواُس کانام لیتے ہوئے اٹھتا ہے۔ غرض ہر موقع پر اور ہر معاملے میں اُس کی زبان پر اللہ ہی کا ذکر ہوتا ہے۔ پھر یہی نہیں، وہ نماز پڑھتا ہے تو اللہ کو یاد کرتا ہے، روزہ رکھتا ہے تو اللہ کو یاد کرتا ہے، قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو اللہ کو یاد کرتا ہے، انفاق کرتا ہے تو اللہ کو یاد کرتا ہے، برائی سے بچتا ہے تو اللہ کو یاد کرتا ہے، اُس کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے تو اللہ کو یاد کرتا ہے اور فوراً اُس سے رجوع کے لیے بے تاب ہو جاتا ہے۔ اِس ذکر کی ایک صورت فکر بھی ہے۔ خدا کی اِس دنیا کو دیکھیے تو اِس میں ہزاروں مخلوقات ہیں، اُن کی رنگارنگی اور بوقلمونی ہے، پھر عقل انسانی اور اُس کے کرشمے ہیں، سمندروں کا تلاطم ہے، دریاؤں کی روانی ہے، لہلہاتا سبزہ اور آسمان سے برستا ہوا پانی ہے، لیل و نہار کی گردش ہے، ہوا اور بادلوں کے تصرفات ہیں، زمین و آسمان کی خلقت اور اُن کی حیرت انگیز ساخت ہے، اُن کی نفع رسانی اور فیض بخشی ہے، اُن کی مقصدیت اور حکمت ہے، پھر انفس و آفاق میں خدا کی وہ نشانیاں ہیں جو ہر آن نئی شان سے نمودار ہوتی ہیں۔ بندۂ مومن اِن آیات الٰہی پر غور کرتا ہے تو اُس کے دل و دماغ کو یہ خدا کی یاد سے بھر دیتی ہیں۔ چنانچہ وہ پکار اٹھتا ہے کہ پروردگار، یہ کارخانہ تو نے عبث نہیں بنایا۔ تیری شان علم و حکمت کے منافی ہے کہ تو کوئی بے مقصد کام کرے۔ میں جانتا ہوں کہ اِس جہان رنگ وبو کا خاتمہ لازماً ایک روز جزا پر ہوگا جس میں وہ لوگ عذاب اور رسوائی سے دوچار ہوں گے جو تیری اِس دنیا کو کسی کھلنڈرے کا کھیل سمجھ کر اِس میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ اُن کے انجام سے میں تیری پناہ چاہتاہوں۔