[تحریر: مولانا امین احسن اصلاحی]

مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ ضلع اعظم گڑھ (یو۔ پی۔ بھارت) کے ایک گاؤں، پہریہا میں 1280 ھ میں پیدا ہوئے۔ مولانا کا خاندان ضلع کے معزز خاندانوں میں شمار ہوتا ہے اور تعلیم اور دنیاوی وجاہت کے اعتبار سے پہلے سے ممتاز رہا ہے۔ مولانا حمید الدین مولانا شبلی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ کے ماموں زاد بھائی تھے۔
مولانا کی ابتدائی تعلیم گھر ہی پر ہوئی۔ سب سے پہلے انھوں نے قرآن حفظ کیا اس کے بعد فارسی زبان کی تحصیل کی۔ فارسی زبان میں بہت جلدی اس قدر ترقی کر لی کہ شعر کہنے لگے۔ عربی زبان کی تحصیل زیادہ تر مولانا شبلی نعمانی سے کی۔
مولانا شبلی سے کسب فیض کرنے کے بعد مولانا نے وقت کے مشہور اساتذہ کے حلقہ ہائے درس سے مستفید ہونے کا ارادہ کیا۔ اس زمانہ میں مولانا ابوالحسنات عبدالحی لکھنوی فرنگی محلی کے حلقۂ درس کی بڑی شہرت تھی۔ چنانچہ فقہ کی تحصیل کے لیے مولانا نے کچھ مدت تک مولانا عبدالحی مرحوم کے حلقۂ درس میں شرکت کی۔ لیکن مولانا کی طبیعت ابتدا ہی سے تحقیق پسند واقع ہوئی تھی اور ان کے اس ذوق کو مولانا شبلی کے فیض صحبت نے اور زیادہ ابھار دیا تھا ۔
عربی زبان اور دینی علوم کی تحصیل سے فارغ ہونے کے بعد کم و بیش بیس سال کی عمر میں مولانا انگریزی زبان کی تحصیل کے لیے علی گڑھ کالج میں داخل ہوئے۔
علی گڑھ میں مولانا نے انگریزی اور دوسرے علوم کے ساتھ ساتھ خاص توجہ کے ساتھ فلسفۂ جدیدہ کی تحصیل کی اور اس میں امتیاز حاصل کیا۔بی اے کی ڈگری مولانا نے الٰہ آباد یونیورسٹی سے لی۔ اس کے بعد ایم اے کے لیے بھی تیاری کی لیکن اس کے امتحان میں نہیں بیٹھے۔
مولانا اگرچہ ایک خوش حال گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اس وجہ سے اپنی معاش کے لیے نوکری کے محتاج نہ تھے لیکن بعض خاص اسباب سے انھوں نے تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد یہی بہتر خیال کیا کہ معاش کے لیے کوئی ملازمت اختیار کر لیں، چنانچہ وہ سب سے پہلے مدرسۃ الاسلام کراچی میں عربی کے پروفیسر مقرر ہوئے اور یہاں انھو ں نے کئی سال بسر کیے۔
غالباً اسی دوران میں (1900ء میں) ہندوستان کے وائسرائے لارڈ کرزن نے عرب سرداروں سے سیاسی تعلقات قائم کرنے کے لیے سواحل عرب اور خلیج فارس کا سفر کیا۔ اس سفر میں ان کو ترجمانی کے فرائض انجام دینے کے لیے ایک ایسے شخص کی ضرورت پیش آئی جو بیک وقت عربی اور انگریزی دونوں زبانوں کا ماہر ہو۔ اس کے لیے مولانا کا انتخاب ہوا۔
اس سفر سے واپسی کے بعد مولانا علی گڑھ میں عربی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔چند سال علی گڑھ میں قیام کے بعد مولانا الٰہ آباد یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر مقرر ہوئے اور پھر وہیں سے ان کی خدمات حیدر آباد نے دارالعلوم حیدر آباد کی پرنسپلی کے لیے حاصل کیں۔ یہ دارالعلوم اس زمانہ میں حیدر آباد کاسب سے بڑا سرکاری مدرسہ تھا جو ریاست کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کے لیے آدمی تیار کرتا تھا۔
ملازمت سے استعفا دینے کے بعد مولانا اپنے وطن میں آگئے۔ اب ان کو ذرا فرصت ملی کہ وہ مدرسۃ الاصلاح اور دارالمصنفین کی طرف متوجہ ہوں جن کے انتظامی اور علمی و تعلیمی معاملات ابتدا ہی سے براہ راست مولانا سے متعلق تھے ۔مدرسۃ الاصلاح قصبہ سرائے میر ضلع اعظم گڑھ (یو۔پی۔ انڈیا) میں ایک دینی درس گاہ ہے۔ یہ درس گاہ مولانا حمید الدین اور مولانا شبلی نعمانی کے تعلیمی نظریات پر قائم ہے۔ ادب عربی اور قرآن مجید کی محققانہ تعلیم اس کا خاص مطمح نظر ہے اور کئی سال سے وہ اس مطمح نظر کی خدمت کر رہی ہے۔
مولانا کی عام صحت بہت اچھی تھی۔ لیکن دو بیماریاں ان کو بہت سخت چمٹ گئی تھیں۔ ایک درد سر جس کا حملہ اکثر ہوتا رہتا تھا اور جب اس کا حملہ ہوتا تو ان کو بالکل بے کار کر کے رکھ دیتا۔ دوسری شکایت ان کو کبھی کبھی پیشاب کے رک جانے کی تھی۔ یہ تکلیف ان کو کئی بار ہوئی۔ آخری مرتبہ جب ان کو یہ تکلیف ہوئی تو ان کو اپریشن کرانا پڑا۔ اپریشن کے لیے وہ اپنے ایک ہم وطن ڈاکٹر کے پاس اعظم گڑھ سے متھرا گئے۔ وہیں اپریشن ہوا اور اپریش ناکام رہا۔ بالآخر وہیں 19جمادی الثانی 1349ھ مطابق 11نومبر 1930ء کو انتقال فرمایا اور وہیں غریبوں کے قبرستان میں دفن ہوئے۔