اسلام کے دور جدید کا دوسرا عالم دنیا سے رخصت ہو گیا۔
۱۹۳۰ء میں امام حمید الدین فراہی نے اِس عالم فانی سے رخت سفر باندھا تو صاحب ’’معارف‘‘ سید سلیمان ندوی نے اِس دور کے پہلے عالم کا ماتم کیا تھا۔ اِس کے کم و بیش ۶۷ برس بعد آج ہم فراہی کے جانشین امین احسن اصلاحی کا ماتم کر رہے ہیں۔ سقراط و فلاطوں، ابوحنیفہ اور ابو یوسف، ابن تیمیہ اور ابن قیم ۔۔۔ یہ جس طرح ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو سکتے، فراہی و اصلاحی بھی دنیا میں اب ہمیشہ ایک ہی وجود کے دو نام رہیں گے:

چوں تمام افتد سراپا ناز می گرد دنیاز
قیس را لیلیٰ ہمی نامند درصحرای من

علم کا جلال و جمال، فقر کا وقار، عجز کی تمکنت، مجسم استغنا، سراپا محبت، خدا کے آخری الہام کا عہد آفریں شارح، دین و شریعت میں ایک نئی دنیا کا نقیب، صاحب طرز انشا پرداز، صاحب طرز خطیب، حسن تکلم کا وہ انداز کہ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی:

مثل خورشید سحر فکر کی تابانی میں
بات میں سادہ و آزادہ، معانی میں دقیق

میں نے امین احسن کو سب سے پہلے ۱۹۷۳ء میں دیکھا او رپھر کسی اور طرف نہیں دیکھا۔ میرے لیے اُس وقت اُن کا دروازہ ’در نکشودہ‘ ہی تھا، لیکن میں نے ہمت کی اور اِسی بند دروازے پر بیٹھ گیا:

بردرنکشودہ ساکن شد در دیگر نہ زد

پھر وہ دروازہ کھلا اور اِس طرح کھلا کہ گویا اپنے ہی گھر کا دروازہ بن گیا۔ اُس دن سے آج تک علم و عمل کی جو دولت بھی ملی ہے، خدا کی عنایت سے اور اِسی دروازے سے ملی ہے:

ملکت عاشقی و گنج طرب
ہرچہ دارم زیمن ہمت اوست

۱۹۸۷ء میں جب میں نے ’’دبستان شبلی‘‘ کی داستان لکھی تو امام فراہی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا: امین احسن اصلاحی اِسی نابغۂ عصر کے جانشین ہیں۔ وہ اپنے استاد سے آگے نہیں بڑھے تو پیچھے بھی نہیں رہے۔ حمید الدین جس مقام پر پہنچے تھے، اُن کی ساری عمر اِسی کے اسرارورموز کی وضاحت میں گزری ہے۔ اُن کی ’’تدبر قرآن‘‘ تفسیر کی کتابوں میں ایک بے مثال شہ پارۂ علم و تحقیق ہے۔ اُن کے قلم سے پچاس برس کے معرکوں کی روداد سنیے تو بقول عرفی:

رمح او گوید اگر جنگ وگر صلح کہ من
بہ کشاد گرہ جبہۂ خاقاں رفتم

میں نے لکھا تھا: ’’دبستان شبلی‘‘ کی آخری نشانی اب امین احسن ہی ہیں۔ اُن کے تلامذہ و احباب میں کتنے ہیں جو اِس حقیقت سے آگاہ ہیں؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ پچھلے دس برس سے اِسی احساس کی آگ ہے جو میرے سینے میں سلگ رہی ہے۔ اِس کی چنگاریاں اپنی ہی راکھ میں دب جاتی ہیں، مگر بجھنے نہیں پاتیں:

کہ آتشے کہ نہ میرد ہمیشہ در دل ماست

اب یہ آخری نشانی بھی دنیا میں نہیں رہی۔ ۱۵ ؍دسمبر ۱۹۹۷ء کو صبح ۳ بجے، ٹھیک اُسی وقت جب وہ اپنے پروردگار کے حضور میں حاضری کے لیے اٹھا کرتے تھے، ہمیشہ کے لیے اُس کے حضور میں حاضر ہو گئے۔ اُن کی ساری زندگی قرآن کے اسلوب و مدعا کی مشکلیں حل کرتے ہوئے گزری۔ اب کیا ہے، جہاں مشکل پیش آئے گی، خود صاحب قرآن سے پوچھ لیں گے۔ اُن کی دنیا تو اب وہ ہے کہ جہاں:

بے پردہ جلوہ ہا بہ نگاہی تواں خرید

امین احسن کیا تھے؟ اب سے کئی برس پہلے جب اِس شہر کے کچھ مذہب فروشوں نے اُن کا مقام معتقدین کی تعداد سے متعین کرنا چاہا تو میں نے اُن کی خدمت میں عرض کیا تھا: مجھے اپنے بارے میں تو کچھ نہیں کہنا کہ میرا سرمایۂ فخر اگر کچھ ہے تو بس یہی ہے کہ مجھے امین احسن سے شرف تلمذ حاصل ہے، لیکن جہاں تک امین احسن کا تعلق ہے تو میں یہ عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ اُس کی تگ و دو کا ہدف وہ چیزیں کبھی رہی ہی نہیں جن پر یہ لوگ جیتے اورمرتے ہیں۔ اِن زخارف کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنا بھی اُس نے ہمیشہ اپنی شان سے فروتر سمجھا ہے۔ لوگوں میں مقبولیت حاصل کرنے کے وہ طریقے جو اِن حضرات کے لیے ’ھَنِیْءًا مَّرِیْءًا‘ہیں، اُن کا ذکر بھی کوئی شخص اگر اُس کی مجلس میں کبھی کر دے تو اُس کے لیے وہاں باریابی کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ اُس نے عمر بھر جس چیز کو اپنا شعار قرار دیا ، وہ یہ تھی کہ آدمی کا سایہ بھی اگر اُس کا ساتھ نہ دے تو اُسے ہر حال میں حق پر قائم رہنا چاہیے۔ اُس نے معاشرے میں پھیلی ہوئی فکرو عمل کی سب غلاظتوں کو جمع کر کے اُنھیں دلائل فراہم نہیں کیے، دل و دماغ کو اِن غلاظتوں سے پاک کرنے کی سعی کی ہے۔ وہ لوگوں کے ساتھ ہر پستی میں نہیں اترتا، اُنھیں اُن بلندیوں کی طرف بلاتا ہے جن پر وہ اپنے شعور کے پہلے دن ہی سے فائز رہا ہے۔ اُس کی دنیا علم و دیانت کی دنیا ہے، مذہبی بہروپیوں اور سیاسی بازی گروں کے لیے اِس دنیا میں کوئی جگہ پیدا ہی نہیں کی جا سکتی۔ وہ اپنے ذرۂ ہستی میں ایک صحرا اور اپنے وجود میں ایک سمندر ہے۔ اُس کی اپنی اقلیم ہی میں اُس کے لیے اتنے مشاغل ہیں کہ اِس طرح کی چیزوں کے لیے اُس کے پاس کوئی وقت نہیں ہوتا ۔ اُس نے جس میدان میں عمر بھر محنت کی ہے، وہ پیری مریدی کا نہیں، علم و تحقیق کا میدان ہے۔ اُس کی محنت کا حاصل اگر کسی شخص کو دیکھنا ہو تو وہ اُس شہ پارۂ علم و تحقیق کو دیکھے جسے اب دنیا ’’تدبر قرآن‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔ وہ بندۂ امروز نہیں، مردفردا ہے اور اُس کا زمانہ اب بہت زیادہ دور نہیں رہا۔
’’تدبر قرآن‘‘ کی تسوید کا کام اِس مرد فردا نے ۱۹۵۷ء میں کسی وقت شروع کیا۔ اِس کی تیاری وہ اُس زمانے سے کر رہے تھے جب ۱۹۲۵ء میں امام فراہی نے اپنے گھر کے کسی گوشے میں کھڑے ہوئے اُن سے کہا تھا: امین احسن اخبار نویسی کرتے پھرو گے یا ہم سے قرآن پڑھو گے؟ وہ بتاتے تھے کہ میں اُس زمانے میں ایک اخبار کا ایڈیٹر تھا اور اچھے مشاہرے پر کام کر رہا تھا، لیکن میں نے بغیر کسی توقف کے عرض کیا: میں آپ سے قرآن پڑھوں گا۔ امام فراہی نے اپنی اقامت گاہ ہی کے ایک کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آپ یہاں ٹھیریں گے ، اور میں ادارت سے استعفا دے کر ایک مرتبہ پھر طالب علمانہ زندگی گزارنے کے لیے اُس کمرے میں آ کر ٹھیر گیا۔ بعد میں مولانا سید سلیمان ندوی نے کسی کالج میں پروفیسری کے لیے اُن کا نام تجویز کیا اور کالج کے ذمہ داروں سے ہامی بھر لی کہ وہ اُنھیں راضی کر لیں گے۔ امین احسن کو بتایا گیا تو وہ چلچلاتی دھوپ میں پیدل چلتے ہوئے دارالمصنفین پہنچے اور سید صاحب سے عرض کیا: آپ نے اِس فقیر کا نام تجویز کیا، آپ کا شکریہ، لیکن مجھے افسوس ہے کہ میں یہ پیش کش قبول نہ کر سکوں گا۔ امام فراہی کو میں اُن کی زندگی میں چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتا۔ وہ بتاتے تھے کہ سید صاحب بالکل حیران رہ گئے۔ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایک غریب طالب علم اتنی بڑی پیش کش اِس طرح ٹھکرا دے گا۔ بعد میں اُنھوں نے ندوہ میں تقریر کرتے ہوئے بڑے تاثر کے ساتھ اِس واقعے کا ذکر کیا اور طلبہ سے کہا کہ دیکھو، طالب علم ایسے بھی ہوتے ہیں۔ بہرحال میں یہ بات کہہ کر چلا آیا، لیکن مجھے اندیشہ رہا کہ استاذ امام اِن دنوں اگر ’’دارالمصنفین‘‘ آئے تو ہو سکتا ہے کہ سید صاحب اُن سے بات کریں اور وہ مجھے بھیج دینے کا وعدہ کر لیں۔ اُن کا چہرہ ایک عجیب احساس فخر سے تمتما اٹھتا تھا، جب وہ یہ بتاتے تھے کہ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ استاذ امام وہاں گئے بھی اور سید صاحب نے اُن سے بات بھی کی، لیکن اُنھوں نے صاف کہہ دیا: آپ امین احسن کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں۔ میں یہ ساری محنت آخر کس کے لیے کر رہا ہوں؟
فراہی کی یہ محنت رنگ لائی۔ ۱۹۳۰ء میں جب اُن کی وفات کا وقت قریب ہوا تو اُنھوں نے امین احسن کو بلا بھیجا۔ وہ اُس وقت متھرا کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ امین احسن کمرے میں داخل ہوئے تو فراہی نے اُنھیں دیکھ کر کہا: امین آ گئے۔ امین احسن کہتے تھے: اُنھوں نے میرا نام اپنی زبان سے اِس طرح ادا کیا کہ گویا نام نہیں لے رہے، اِس کے معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے علم و فکر کی امانت میرے سپرد کر رہے ہیں۔
امین احسن نے اپنی پوری زندگی اِسی امانت کا حق ادا کرنے میں صرف کر دی۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے: ڈرتا ہوں، خدا کے حضور میں فراہی سے ملوں تو وہ میرے کام سے مطمئن نہ ہوں۔
’’تدبر قرآن‘‘ کیا ہے؟ وہ اِس کے تعارف میں لکھتے ہیں:

’’میں بلا کسی شائبہ فخر کے، محض بیان واقعہ کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ یہ کتاب میری چالیس سال کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ میں نے اپنی جوانی کا بہترین زمانہ اِس کتاب کی تیاریوں میں بسر کیا ہے، اور اب اپنے بڑھاپے کی ناتوانیوں کا دور اِسی کی تحریر و تسوید میں بسر کر رہا ہوں۔ اِس طویل مدت میں، میں نے زندگی کے بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں اور بہت سے تلخ و شیریں گھونٹ حلق سے اتارے ہیں، لیکن اپنے رب کا شکر گزار ہوں کہ کسی دور اور کسی حال میں بھی میرا ذہنی و قلبی تعلق اِس کتاب سے منقطع نہیں ہوا۔ میں نے اِس ساری مدت میں جو کچھ پڑھا ہے ، اِسی کو محور بنا کر پڑھا ہے۔ جو کچھ سوچا ہے ، اِسی کو سامنے رکھ کر سوچا ہے اور جو کچھ لکھا ہے ، بالواسطہ یا بلاواسطہ اِسی سے متعلق لکھا ہے۔ میں نے قرآن حکیم کی ایک ایک سورہ پر ڈیرے ڈالے ہیں، ایک ایک آیت پر فکری مراقبہ کیا ہے اور ایک ایک لفظ اور ایک ایک ادبی یا نحوی اشکال کے حل کے لیے ہر اُس پتھر کو الٹنے کی کوشش کی ہے جس کے نیچے سے مجھے کسی سراغ کے ملنے کی توقع ہوئی ہے اور یہ راز بھی میں برملا ظاہر کرتا ہوں کہ میں نے کبھی بھی اِس کام میں کوئی تکان یا افسردگی محسوس نہیں کی، بلکہ ہمیشہ نہایت گہری لذت اور نہایت عمیق راحت کا احساس کیا ہے:

ہر زماں از غیب جانے دیگر است

میری چالیس سال کی محنتوں کے نتائج کے ساتھ ساتھ، اِس میں میرے استاذ مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ کی ۳۰،۳۵ سال کی کوششوں کے ثمرات بھی ہیں۔ مجھے بڑا فخر ہوتا اگر میں یہ دعویٰ کر سکتا کہ اِس کتاب میں جو کچھ بھی ہے، سب استاذ مرحوم ہی کا افادہ ہے، اِس لیے کہ اصل حقیقت یہی ہے۔ لیکن میں یہ دعویٰ کرنے میں صرف اِس لیے احتیاط کرتا ہوں کہ مبادا میری کوئی غلطی اُن کی طرف منسوب ہو جائے۔ مولانا سے میرے استفادے کی شکل یہ نہیں رہی ہے کہ ہر آیت سے متعلق یقین کے ساتھ اُن کی رائے میرے علم میں آ گئی ہو، بلکہ میں نے اُن سے قرآن حکیم پر غور کرنے کے اصول سیکھے ہیں اور خود اُن کی رہنمائی میں پورے پانچ سال اِن اصولوں کا تجربہ کرنے میں بسر کیے ہیں۔ پھر اِنھی اصولوں کو سامنے رکھ کر آج تک کام کرتا رہا ہوں۔ اِس اعتبار سے اگرچہ یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ یہ سب کچھ استاذ ہی کا فیض ہے، لیکن اِس میں چونکہ بلاواسطہ افادے کے ساتھ ساتھ بالواسطہ افادے کا بھی بہت بڑا حصہ ہے، اِس وجہ سے یہ عرض کرتا ہوں کہ اِس کا جو حصہ مستحکم اور مدلل نظر آئے، اُس کو استاذ مرحوم کا صدقہ سمجھیے اور جو بات کمزور یا غلط نظر آئے، اُس کو میری کم علمی پر محمول فرمائیے۔‘‘(۱/۴۱)

اُنھوں نے لکھا ہے:

’’میں اپنے رب کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ میں نے اِس کتاب میں کسی ایک آیت کی بھی ایسی تفسیر نہیں کی جس میں مجھے کوئی تردد ہو۔ جہاں ذرا بھی تردد ہوا ہے، میں نے بے تکلف اُس کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔ اِسی طرح یہ بات بھی عرض کرتا ہوں کہ کسی ایک مقام میں بھی میں نے یہ کوشش نہیں کی ہے کہ کسی آیت کو اُس کے حقیقی مفہوم سے ہٹا کر اپنے کسی نظریے یا کسی خیال کی تائید کے لیے استعمال کروں۔ قرآن سے باہر کی کسی چیز سے بھی کبھی میری کوئی خاص قلبی و ذہنی وابستگی نہیں ہوئی۔ اگر ہوئی ہے تو قرآن ہی کے لیے اور قرآن ہی کے تحت ہوئی ہے۔ اِس کتاب کے پڑھنے والے محسوس کریں گے کہ جہاں کہیں مجھے اپنے استاذ سے بھی اختلاف ہوا ہے، میں نے بے جھجک اُس کا بھی اظہار کر دیا ہے۔‘‘(۱/۴۲)

یہ تفسیر لاہور میں بھی لکھی گئی اور برسوں لاہور سے باہر خانقاہ ڈوگراں کے پاس ایک دور افتادہ گاؤں رحمن آباد میں سرسے اور شیشم کے درختوں کے نیچے بھی زیر تسوید رہی، جہاں نہ بجلی تھی، نہ پنکھا اور نہ تصنیف و تالیف کے لیے کوئی دوسری سہولت۔ ہم نے بارہا دیکھا کہ مسودہ پسینے سے بھیگ رہا ہے، لیکن مصنف کا قلم اُسی طرح رواں دواں ہے۔ وہ اِس بات سے آگاہ تھے کہ ۔۔۔ بہریک گل زحمت صد خارمی بایدکشید ۔۔۔ قرآن کی مشکلوں کو حل کرنے اور اُس سے متعلق اپنے نتائج فکر کو سپرد قلم کرنے میں وہ دنیا کی ہر مشقت اٹھانے کے لیے تیار ہو جاتے تھے:

طالباں را خستگی در راہ نیست
عشق خود راہ ست وہم خود منزل ست

امین احسن نے یہ تفسیر قرآن پر ایمان کی جس کیفیت میں لکھی ہے، اُسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ مجھے یاد ہے، وہ سورۂ رحمن کی تفسیر لکھ رہے تھے۔ ’یَخْرُجُ مِنْھُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ‘ کے تحت جب یہ مسئلہ سامنے آیا کہ عام خیال کے مطابق موتی صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں، لیکن قرآن بالکل صریح ہے کہ یہ دونوں ہی پانیوں سے نکلتے ہیں تو اُنھوں نے مجھے تحقیق کے لیے کہا۔ میں نے دیکھا، اُن کے چہرے پر تردد کی کوئی پرچھائیں نہ تھی، بلکہ ایک عجیب اطمینان تھا اور ایمان کی ایک عجیب روشنی تھی۔ اِس موقع پر اُنھوں نے جو کچھ کہا، میں اُسے بعینہٖ تو شاید دہرا نہ سکوں، لیکن مدعا یہی تھا کہ خدا کی قسم ، اگر موتی خود آ کر بھی مجھے کہیں کہ وہ صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں تو میں اُن سے کہہ دوں گا: تمھیں اپنی تخلیق میں شبہ ہوا ہے، قرآن کا بیان کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔
اُن کی پیدایش ۱۹۰۴ء میں یوپی کے ایک گاؤں بمہور میں ہوئی۔ اُن کے رشتے کے ایک چچا شبلی متکلم ندوی اُس زمانے میں ’’مدرستہ الاصلاح‘‘ کے مہتمم تھے۔ اُنھی کے ایما پر امین احسن کے والد نے جنوری ۱۹۱۵ء میں اُنھیں اِس مدرسہ میں داخل کرا دیا۔ اُن کی ساری تعلیم سراے میر اعظم گڑھ کی اِسی درس گاہ میں ہوئی۔ یہ ایک دینی مدرسہ تھا، لیکن انگریزی زبان میں اُن کی استعداد اتنی اچھی تھی کہ علوم عالیہ کی کتابیں اِس زبان میں نہ صرف یہ کہ بغیر کسی دقت کے پڑھتے، بلکہ اُن کے ادق مطالب دوسروں کو سمجھا دے سکتے تھے۔ دینی مدارس کے طلبہ بالعموم عربی بولنے پر قدرت نہیں رکھتے، لیکن وہ جب امام فراہی سے استفادے کے لیے اُن کے پاس مقیم تھے تو بے تکلف عربی بولتے تھے۔ مشہور عالم موسیٰ جار اللہ ہندوستان آئے تو امام فراہی سے ملنے مدرستہ الاصلاح بھی گئے۔ امین احسن ہی اُن کے میزبان تھے۔ عربی زبان میں گفتگو اور تقریر پر اُن کی قدرت دیکھ کر ایک دن اُنھوں نے پوچھا: عرب میں کتنے سال گزار کر آئے ہو؟ امین احسن نے جواب دیا: ’ما مست قدمی ھاتین قط بلاد العرب‘(میرے اِن دونوں پاؤں کو کبھی سرزمین عرب نے نہیں چھوا)۔ موسیٰ جار اللہ بڑی دیر تک اپنی حیرت کا اظہار کرتے رہے۔
اِسی زمانے میں ایک مرتبہ محمد علی جوہر اور سید سلیمان ندوی جیسے لوگوں کی موجودگی میں نوجوان امین احسن نے تقریر کی۔ اُن کی خطابت کا جو رنگ بعد میں نمایاں ہوا اور جس کی داد اپنے وقت کے بے مثل خطیب سید عطا اللہ شاہ بخاری نے اِس طرح دی کہ خطیب تو میں بھی ہوں، لیکن تم عالم بھی ہو اور خطیب بھی، اُس کی کچھ جھلک اِس تقریر میں بھی تھی۔ لوگوں نے بہت داد دی، لیکن وہ منتظر تھے کہ استاذ امام کیا کہتے ہیں۔ شام کو درس کے لیے حاضر ہوئے تو کسی نے امام فراہی سے ذکر کیا۔ وہ کچھ دیر دوسروں کی باتیں سنتے رہے، پھر اپنے خاص انداز میں فرمایا: ہاں بھئی، یہ بڑے ابوالکلام آزاد ہیں۔ امین احسن بتاتے تھے کہ اُنھوں نے لفظ ’آزاد‘ اِس طرح ادا کیا کہ اُن کی یہ تعریف میرے لیے تعریف کم اور تنبیہ زیادہ ہو گئی۔ میرے استاد کی تربیت کا یہی انداز تھا۔
اِس سے پہلے امام فراہی نے مدرسہ کے زمانے میں بھی اُن کی ایک تقریر کی تحسین اِن الفاظ میں کی تھی: ’’اِس طالب علم نے بہت اچھی تقریر کی ہے۔‘‘ اِس پر اُن کے استاد مولانا عبد الرحمن نگرامی نے عرض کیا: آپ کی اِس تحسین کی کوئی یادگار بھی اِس کے پاس ہونی چاہیے۔ فراہی نے اپنا ’’مجموعۂ تفاسیر‘‘ اُنھیں دیا اور اُس پر لکھا: ’’بہ صلۂ حسن تقریر‘‘ اور اپنے دستخط ثبت کر دیے۔
۱۹۲۵ء میں اُن کے حکم پر وہ مدرسہ کے کسی کام سے ملایا گئے تو اپنے رفیق درس اختر احسن کو خط لکھا۔ اُس میں ایک جملہ یہ بھی تھا کہ: ’’سمندر کی سرجوشی کے ایام بہار ہیں۔‘‘ امام فراہی نے پڑھا تو کہا: امین میاں تو ادیب ہیں۔ وہ خود بتاتے تھے کہ زمانۂ طالب علمی میں اگر کوئی شخص اُن سے پوچھتا کہ وہ کیا بننا چاہتے ہیں تو وہ کہتے: ادیب الہند۔
اِس دور میں شاعری کا شوق بھی رہا۔ طبیعت میں شروع سے شوخی تھی۔ مدرسہ میں اپنے ایک استاد کی ہجو لکھ دی۔ مولانا نگرامی نے بلایا، تنبیہ کی، کچھ جرمانہ بھی کیا، لیکن ساتھ ہی فرمایا: اِس میں شبہ نہیں کہ تمھاری نظم بہت اچھی ہے۔ تاہم یہ شوق اُسی زمانے میں ختم ہو گیا۔ بتاتے تھے کہ میں نے شبلی سے موازنہ کیا تو مجھے خیال ہوا کہ میں اُن جیسے شعر نہیں کہ سکتا۔ اِس کے بعد پھر میں نے اِس کوچے میں قدم نہیں رکھا ۔
مدرسہ کے زمانے میں ’’سبع معلقات‘‘ کا امتحان ہوا۔ سید سلیمان ندوی ممتحن تھے۔ امین احسن کے پرچے پر اُنھوں نے لکھا: یہ ایک طالب علم کا پرچہ ہے۔ مجھے ندوہ کے لیے اِس طرح کے استاد بھی کہاں سے ملیں گے۔
مدرسہ میں جن لوگوں کی اُن سے چشمک رہتی تھی، اُنھوں نے فراہی سے کہا: امین احسن کو نحو سے کچھ زیادہ مناسبت نہیں ہے۔ بتاتے تھے: میں درس میں حاضر ہوا تو آتے ہی استاذ امام نے پوچھا: امین ’ل‘کیا صیغہ ہے؟ میں نے جواب دیا، معنی عرض کیے تو بڑے خشمگیں انداز میں لوگوں کی طرف دیکھا، پھر فرمایا: کون کہتا ہے کہ امین کو نحو نہیں آتی۔
اِسی طرح کے ایک موقع پر امام فراہی نے اپنے درس کے حاضرین سے پوچھا: اِس درس میں سب سے کم سن کون ہے؟ لوگوں نے کہا: امین احسن۔ اُنھوں نے پوچھا: سب سے بعد میں کون شریک ہوا؟ لوگوں نے کہا: امین احسن۔ اِس پر فرمایا: سیدنا مسیح کا ارشاد ہے کہ کتنے ہیں جو پیچھے آنے والے ہیں، مگر دوسروں سے آگے نکل جائیں گے۔

____________