حقیقت کی تلاش میں انسان نے ٹھوکریں بھی کھائیں‘ پریشانیاں بھی اٹھائیں اور اس کے نام پر زہر کا پیالہ بھی منہ سے لگالیا۔ پھر بھی اضطراب میں ہی رہا کہ حقیقت کیا ہے؟ کہاں ہے؟ اس کو کیسے تلاش کیا جا سکتا ہے؟ کیا وہ ذرائع موجود ہیں جو انسان کو حقیقت تک پہنچا دیں؟ ان سب سوالات کے جواب میں بس اس قدر معلوم ہوسکا کہ انسانی علم کی بنیاد بہرحال انسان کے حواس ہی ہوسکتے ہیں۔ انھی سے بدیہی علم حاصل ہوسکتا ہے۔ عقل بھی دراصل ان حواس ہی کی مدد سے کوئی نتیجہ نکالتی اور حکم لگاتی ہے۔ لیکن دوسری جانب اہلِ علم کا تقریباً اتفاق ہے کہ حواس ناقص ہوتے ہیں اور غلطی بھی کرجاتے ہیں۔ ...