یہ قرآن مجید کا اردو ترجمہ ہے۔ آں سوے افلاک کے اِس شہ پارۂ ادب کا حسن بیان تو کسی دوسری زبان میں منتقل کرنا ممکن نہیں ہے۔ میں نے، البتہ اِس ترجمے میں یہ کوشش کی ہے کہ اِس کا مدعا نظم کلام کی رعایت سے اردو زبان میں منتقل کر دوں۔ تراجم کی تاریخ میں یہ اِس لحاظ سے پہلا ترجمۂ قرآن ہے کہ اِس میں قرآن کا نظم اُس کے ترجمے ہی سے واضح ہو جاتا ہے۔ اِس کے لیے مزید کسی شرح ووضاحت کی ضرورت نہیں رہتی۔ ترجمے کے حواشی زیادہ تر استاذ امام امین احسن اصلاحی کی تفسیر ’’تدبرقرآن‘‘ کا خلاصہ ہیں۔ میرا نقطۂ نظر جن مقامات پر اُن سے مختلف ہے، وہ بھی کم نہیں ہیں۔ اہل نظر تقابلی مط...